پشاور کے بچوں کا خون اور تھر کے بچوں کی پیاس

پشاور کے بچوں کا خون اور تھر کے بچوں کی پیاس

پشاور میں معصوم بچوں کو خون میں نہلایا گیا تو ایک دنیا کی نظریں اس سنگین مسئلے پر مرکوز ہو گئیں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون ، امریکی صدر اوباما، سعودی بادشاہ عبداللہ، برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے لے کر وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف تک سبھی دل فگار دکھائی دیتے تھے۔ ان دنوں دکھی لوگوں کے مسیحا ڈاکٹر آصف محمود جاہ اپنی ٹیم کے ساتھ تھر کی ریتلی سردی میں ٹھٹھرتے بچوں کی جان بچانے کے لئے انتھک محنت کررہے تھے، پشاور سے کڑیل جوان اسلم مروت بھی وہیں تھے، وہ تو پشاور سانحے کے غم سے ہلکان ہو گئے اور فوری طور پر واپس ہو لئے، میںنے ڈاکٹر آصف جاہ کو فون کیا کہ اسلم مروت کے ہوتے ہوئے آپ کو کسی دوسرے کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں مگر سوال یہ ہے کہ آپ کی تنظیم اس قومی دکھ درد کو کیسے بانٹ سکتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ذہن پر زور دیا اور خود لاہور چلے آئے، بازار سے اعلیٰ ترین الیکٹرانک ا ور کمپیوٹر گیمز تلاش کیں اور انہیں اسلم مروت کو بھجوا دیا، ا س ہدایت کے ساتھ کہ وہ ایک ایک زخمی بچے کے سرہانے پہنچیں، اس کے ماتھے کو بوسہ دیں اور اس کے دل بہلاوے کے لئے اسے کمپیوٹر گیمز کے کھلونوں کا تحفہ پیش کریں، سب بچے تو ان گیمز سے محظوظ نہیں ہو سکتے تھے، اکثر تو ان میں سے بے ہوش تھے، با قی پٹیوں میں جکڑے ہوئے مگر جنہوں نے اسے استعمال کیا، ان کے ہونٹوں پہ بشاشت کھیلنے لگی۔ اسلم مروت کا دل بلیوں اُچھلنے لگا، اس نے ڈاکٹر صاحب کو خوشخبری سُنائی اور میں نے یہ ساری سرگرمی سوشل میڈیا پر دیکھی تو ڈاکٹرآصف جاہ کے نیک ارادوں، قابل ستائش جذبوں اور انسانیت نواز ولولوں کو سلام پیش کیا۔
پشاور کے بچوں کی مزید ضروریات کیا ہیں، شاید ان کی نفسیاتی بحالی کی بھی ضرورت پیش آئے، وہ ایک قیامت سے گزرے، ان کی عمر تتلیوں سے دل بہلاوے کی ہوتی ہے مگر ان پر جدید تریں اسلحے سے گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی جن سے ان کے بھیجے فرش پر بکھر گئے، جو چلے گئے، وہ چلے گئے، انہیںاللہ اور اس کے فرشتے جوارِ رحمت میں جگہ دے چکے ہوں گے مگر جو بچ گئے، ان کی آنکھیں پھٹی ہوئی ہیں اور سوچیں لرزاں لرزاں اور کرچی کرچی ہیں۔
سینکڑوں بچے ایسے ہیںجن کے سکول کے بستے، کتابیں اور کاپیاں اور سٹیشنری، جوتے، جرابیں اور نہ جانے کیا کیا کچھ اس بھگدڑ کی نذر ہو گیا، انہیں نئی زندگی کا آغاز کرنا ہے، آرمی پبلک اسکول سے پتہ چلایا جائے کہ کہ بچوں کو کس قسم کی یونیفارم چاہیے، ان کا سلیبس کیا ہے اور دیگر ضروریات کا تعین کیا جائے اور پھر کارخیر کے لئے معاشرہ اپنا کردار ادا کرے۔ میں سمجھتا ہوں ڈاکٹر آصف جاہ اکیلے اس کارِ خیر میں جُت جائیں تو یہ کوئی پہاڑ ایسا کام نہیں، اللہ نے ان کو نیک سیرت اور کھلے دل اور کھلے ہاتھوں والے دوستوں کی دولت سے نوازا ہے، ان کے کئی ساتھی حضرت ابوبکرصدیقؓ کے جذبہ ایثار سے سرشار ہیں، وہ ہمت کریں تو کیا نہیں ہو سکتا۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پاک فوج کو پاکستان کی وحدت کی ضمانت قرار دیا ہے لیکن مجھ سے اگر کوئی پوچھے تو یہ کام ڈاکٹر آصف جاہ بھی ایک عرصے اور بڑی کامیابی سے انجام دے رہے ہیں۔ آواران کا زلزلہ آیا، یہ ایسا علاقہ تھا جہاںکسی پاکستانی اور وہ بھی پنجابی کا داخلہ ممکن نہیں، فوج وہاں ضرور پہنچی مگر اپنے پورے لاﺅ لشکر کے ساتھ مگر ڈاکٹرآصف جاہ کے پاس صرف مرہم پٹی تھی، بسکٹ تھے یا طفل تسلی کے لئے کچھ اور اشیا۔ ان کی مڈ بھیڑ ضرور ان عناصر سے ہوئی جو پاکستان کے خلاف لڑ رہے ہیں مگر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ہم یہاں لڑنے کے لئے نہیں، خدمت کے لئے آئے ہیں اور پھر انہی لوگوں نے انہیں خوش آمدید کہا کیونکہ انہوں نے ان کے زخمی افراد، بیوی بچوں کا علاج کیا، آہستہ آہستہ ان کے اس قدر دل جیت لئے کہ انہوں نے وہاں کھنڈروں کے اندر سکول بھی کھلوا دیئے اور خود الف بے پے پڑھانے لگے، وہی بلوچستان جہاں قومی ترانہ پڑھنا ممنوع ہے، وہیں ڈاکٹر آصف جاہ کے زیر انتظام چلنے والے سکول میں صبح کا آغاز قومی ترانے سے ہونے لگا۔
میں تھر کی بات کروں، یہاں صوبے کا چیف منسٹر قائم علی شاہ ضیافت اڑانے جا تا ہے مگر آصف جاہ نے وہاں کے لوگوں کی بھوک کا مداوا کیا ہے، ہسپتال کھول رکھے ہیں اور میٹھے پانی کے کنویں کھودے جا رہے ہیں، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ تن تنہا کوئی شخص یہ معرکے انجام دے سکتا ہے مگر ڈاکٹر آصف جاہ کے پیچھے لاکھوں لوگوں کی دعائیں ہیں، وہ جو 2005ءکے زلزلے کی مصیبت کا شکار ہوئے یا دو تین مرتبہ سیلاب کے ہاتھوں مٹ گئے، آصف جاہ نے ہر ایک کی دست گیری کی۔ کرو مہربانی تم اہل زمیں پر ، خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر۔ عرش والا جس کے ساتھ ہو ساری خدائی اس کے لئے نیک دعائیںکیوں نہ کرے گی۔ میرے جیسے سنگدل قلم کار کو کسی کی تعریف کی توفیق نہیںہوتی، مگر آصف جاہ کے لئے میرے پاس قصیدے ہی قصیدے ہیں اور میں اس کی نیکیوں کا پرچار کرنے میں ہر وقت پیش پیش رہتا ہوں۔ کبھی فراغت نصیب ہوئی تو اس کا شاہنامہ لکھوں گا۔ میری دیکھا دیکھی پروفیسر محفوظ قطب نے اپنے آپ کو ان کی نیکیوںکے لئے وقف کر دیا ہے ، وہ اسمائے حسنی رقم کرتے ہیں اور ان کو بیش قیمت فریمنگ کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں پیش کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے ڈونرز کو یادگار تحفے کے طور پر عنایت کر دیں۔
تو کیوں نہ ایک بار پھر میں آپ کو تھر کے ریگستان کی ویرانیوں میں واپس لے جاﺅں جہاںڈاکٹر آصف جاہ کی کسٹم ہیلتھ کیئر تنظیم نے نیکیوں کا گلستان کھلا دیا ہے۔ مجھے خاص طور پر ایک نئے کنویں کا ذکر کرنا ہے جو آرمی پبلک سکول کے شہید پھولوں کی یاد سے منسوب کیا گیا ہے۔ کہاں پشاور اور کہاں تھر کا صحرا، کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ان دور دراز سرزمینوں کا بھی کوئی جوڑ ہو گا مگر پشاور میں ننھے بچوں کے خون کے چھینٹوں سے ڈاکٹرآصف جاہ کا دل موم ہو گیا اور انہوں نے ایک نیا کھودا جانے والا کنواں ان شہید بچوں کے نام کر دیا، اب جو کوئی تھر کی ویرانیوںمیں سرگرداں ہو گا، اسے پشاور کے شہید بچوں کے نام پر تعمیر ہونے والے میٹھے پانی کے سرچشمے سے سیراب ہونے کی نعمت نصیب ہو گی۔ اسے کہتے ہیں قومی، ملی اور ملکی وحدت اور یک جہتی کی ایک کامیاب کوشش، پاک فوج سے ڈاکٹرآصف جاہ کا کیا مقابلہ۔ مگر حکم ربیّ یہ ہے کہ اپنی سی کرو بنے جہاں تک۔ اور ربّ کا یہ بندہ بڑی ہی خاموشی سے بہت کچھ کر رہا ہے، وہ مجھے اپنی پپلسٹی سے بار بار منع کرتا ہے، میں بار بار سرتابی کرتا ہوں ، اس لئے کہ نیکی کا پرچار نہ صرف نیکی ہے بلکہ دوسروں کو بھی نیکی کی ترغیب کے لئے ضروری ہے۔