سیاسی اور عسکری قیادت میں تواتر سے ملاقاتیں؟

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
سیاسی اور عسکری قیادت میں تواتر سے ملاقاتیں؟

جنرل راحیل شریف اس میٹنگ میں موجود تھے جس میں سب سیاستدانوں نے بلا چون و چراں اتفاق کیا تھا کہ ملٹری کورٹس ضروری ہیں اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پاک فوج کی مکمل سپورٹ کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد انہوں نے بھانت بھانت کی بولیاں بولنا شروع کر دیں۔ آئین میں ترمیم ایک ایسا آسان معاملہ ہے جس کے لئے سیاستدان بہت غیرسنجیدگی سے بات کرتے ہیں۔ میرے خیال میں آئین اور آئینہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ سیاستدانوں نے آئین پڑھ رکھا ہے نہ وہ یہ آئینہ دیکھتے ہیں کہ چہرے کے سب داغ نظر آتے ہیں۔ اب دہشت گردوں پر کم اور ملٹری کورٹس کے لئے زیادہ بات ہو رہی ہے؟
نواز شریف ابھی تک دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ نظر آتے ہیں۔ جیسے دہشت گردی کا یہی ایک واقعہ پاکستان میں ہوا ہے۔ بلاشبہ دہشت گردی کا اتنا ہولناک اور شرمناک واقعہ پہلے نہیں ہوا مگر اتنی دہشت گردی ہمارے ہاں ہوئی ہے کہ اب ہمیں مرنے والوں کے نام بھی معلوم نہیں ہیں اور شہید لوگوں میں معصوم بچے بھی تھے۔ معصومیت اور شہادت میں فرق مٹ گیا ہے۔ شہید ہونے والے بے گناہ ہوتے ہیں اور بے خبر بھی ہوتے ہیں۔
نواز شریف ایک ایک شہید بچے کے خون کا حساب لیں گے۔ اس حساب کتاب کے لئے پاک فوج کا ساتھ ساتھ ہونا ضروری ہے مگر سیاستدانوں کا کمپلیکس پاک فوج کے علاوہ جاتا ہی نہیں۔ اب پاک فوج کے ارادے بالکل واضح ہیں۔ پچھلے کئی مہینوں سے جو حالات پاکستان میں ہیں۔ کسی ایسے ویسے جرنیل کے لئے یہ بڑی آئیڈیل صورتحال تھی اور اسے کوئی مشکل بھی پیش نہ آتی مگر جنرل راحیل شریف نے اپنے سچے سپاسی ہونے کا ثبوت دیا اور نشان حیدر سپہ سالار فیملی کی لاج رکھی۔ مگر یہ بھی تو ایک سپہ سالار کا فرض ہے کہ وہ ملک کی عزت اور لوگوں کی سلامتی کے لئے کوئی کردار بھی ادا کرے۔ اس کردار کے لئے آئین بھی ایک جانثار اور بہادر سپاہی کو پورا حق دیتا ہے۔ اب لوگوں کی مشکلات اور حالات ناقابل برداشت ہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے اور یہ سیاستدانوں کا مطالبہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کا دائرہ ملک کے اندر تک بڑھایا جائے۔ ملٹری کورٹس کے لئے تحفظات اور مارشل لا کا انتظار؟
مجھے یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کی مسلسل اور متواتر ملاقاتیں ہوں۔ کبھی جی ایچ کیو میں وزیراعظم آ جائیں اور ان کا چہرہ بہت سنجیدہ اور بیزار نظر آئے اور کبھی بلکہ اکثر اوقات آرمی چیف جنرل راحیل شریف وزیراعظم ہاﺅس میں موجود ہوں۔ پہلے وہ نواز شریف کے برابر میں بیٹھتے تھے۔ ان کے پیچھے جھنڈا بھی نظر آتا تھا۔ پیپلز پارٹی کے زمانے میں اس نشست پر ”صدر“ زرداری بیٹھتے تھے اور معلوم نہیں ہوتا تھا کہ قیادت یعنی صدارت کون کر رہا ہے۔ صدارت تو صدر ہی کرتا ہے۔ پارلیمانی اور صدارتی نظام کا امتزاج صرف پاکستان میں ہی نظر آتا ہے۔ اب ہماری جمہوریت کا مزاج بدل گیا ہے؟ اب تو صاف بتایا جاتا ہے کہ اجلاس کی صدارت نواز شریف کر رہے ہیں۔ پچھلی ایک دو ملاقاتوں میں ایک ہی صدارتی کرسی پر وزیراعظم نواز شریف نظر آتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے دکھائی دیے۔ ”کسی“ نے نواز شریف کو کچھ بتا دیا ہو گا؟
وزیراعظم نواز شریف نے یہ بھی خاص طور پر کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت میں کروں گا۔ وزیراعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے۔ قیادت تو وہی کر رہے ہیں۔ پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی۔ پاک فوج سے ایسی کیا جھجک ہے جو سیاستدانوں کو بے چین رکھتی ہے۔ بار بار ملاقاتوں کا سلسلہ بھی کوئی اچھا تاثر پیدا نہیں کرتا۔ سیاسی لوگ کچھ کر کے دکھائیں تو کوئی خطرہ کسی طرف سے پیدا ہی نہیں ہو گا۔
جب نواز شریف وزیراعظم نہیں تھے تو ان کی ملک میں عدم موجودگی کے وقت شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان آرمی چیف جنرل کیانی سے ملے تھے تو نواز شریف نے اچھا محسوس نہیں کیا تھا مگر اب بھارت جانے سے پہلے نواز شریف کی شاید اجازت ہے۔ شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان جنرل راحیل شریف سے ملے۔ اب جنرل راحیل شریف اور نواز شریف کی اپنی ملاقات ہوئی ہے اور دوسرے کئی سیاستدان اجلاس میں موجود ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں دونوں شریف اگر اکیلے میں ملیں تو اس سے زیادہ فائدہ ہو گا۔ تیسرے شریف شہباز شریف بھی ہوں تو اور بھی اچھا ہو گا۔ اور میرے خیال میں چودھری نثار علی خان بھی ہوں تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ مگر دوسرے سیاستدانوں کے ہجوم میں یہ ملاقات مناسب نہیں ہے۔ کیوں مناسب نہیں ہے؟ یہ مجھے معلوم نہیں ہے مگر عسکری اور سیاسی قیادت کا اتنا میل ملاپ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ بات میرے پسندیدہ کالم نگار ایاز امیر نے بھی ایک اور انداز میں لکھی ہے۔ ”جنرل راحیل شریف اپنے کام میں دو ٹوک اور واضح ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ یا تو وہ اس جنگ کی قیادت کریں یا وزیراعظم ہاﺅس میں ہونے والی ان گنت میٹنگز میں شرکت کرتے رہیں۔ ایک بات طے ہے کہ ان دونوں کاموں میں سے ایک ہی کام ہو سکتا ہے۔ یا جنگ کر لیں یا اسلام آباد کے سیاسی دورے کر لیں۔
میں نے پہلے سنجیدگی سے مذاق میں کہا تھا کہ ایک وزیرستان اسلام آباد میں بھی ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ وہ جنوبی یا شمالی وزیرستان ہے؟ یہ وہ کالونی ہے جہاں وزیر شذیر، وزیر دفاع اور وزیراعظم رہتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کے لئے ہمارا خیال پازیٹو ہے۔ ایاز امیر نے بھی لکھا ہے کہ ہم وزیراعظم کو موردالزام نہیں ٹھہراتے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ”ملٹری کورٹس میں اپنے ٹرائل کے ڈر سے معصوم بچوں کا خون نہیں بھول سکتا۔ نواز شریف کی یہ بات زرداری کے لئے قابل غور ہے؟ انہیں اب بھی اپنی فکر پڑی ہوئی ہے جبکہ وہ ملٹری کورٹس کے کسی فیصلے پر جیل نہیں گئے بلکہ کرپشن کے مقدمے میں جیل گئے تھے۔ نواز شریف کو ایک جرنیل نے جیل بھیجا تھا۔ مگر اب صرف باتوں میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ اب کچھ کر دکھانے کا وقت ہے۔ ڈینگی مچھر کی مصیبت آن پڑی تھی تو شہباز شریف نے بھی میٹنگز بلائی تھیں۔ اسی ایک میٹنگ میں برادرم شعیب بن عزیز کے کہنے پر میں بھی شریک ہوا تھا۔ ان میٹنگز کا ایک رزلٹ نکلا تھا جو آج تک یاد کیا جاتا ہے۔ مگر دہشت گردی کے لئے اتنی میٹنگز کا کیا نتیجہ نکلا ہے؟