نئے سال کا پہلا دن اور دبئی کے علی شیخ عبداﷲ ....!

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک

 نئے سال کی صبح اتنی شاندار ہو سکتی ہے .... یہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا .... حالانکہ کچھ دست شناسوں اور نجومیوں نے بھی یہ بتایا تھا کہ یہ برس دوسرے برسوں کی نسبت ذرا ہٹ کے ہے۔ یعنی خوش بختی ہمارے قدم چومے گی۔ وغیرہ وغیرہ .... مگر خوش بختی اتنی جلدی سامنے آ جائے گی یعنی نئے سال کے پہلے ہی دن .... اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔ .... واقعہ یوں ہے کہ صبح سویرے لینڈ لائن پر فون کی گھنٹی بجی .... ایک خاتون نے تصدیق چاہی کہ کیا یہ گھریلو استعمال کا فون ہے ؟ ہم نے تصدیق بھی کی اور یہ پوچھنے کی وجہ بھی دریاست کی ‘ تو خاتون خالصتاً پروفیشنل لہجے میں بتانے لگیں کہ وہ پی ٹی سی ایل کے محکمے کی طرف سے بول رہی ہیں اور آپ کی تسلی کے لئے آپ کو PTCL کا ایک نمبر دے رہی ہوں آپ اس نمبر پر محمد عمران سے بات کریں آپ کو اہم اطلاع فراہم کرنی ہے۔ ہم نے اہم اطلاع کی بھی وضاحت چاہی تو وہ کہنے لگیں کہ ”پی ٹی سی ایل“ کے کچھ نمبروں کی قرعہ اندازی ہوئی ہے اس میں آپ کا عمرے کا ٹکٹ ‘ کیش پرائز اور سونے کا ایک لاکٹ نکلا ہے اور یہ قرعہ اندازی ایک کمپنی اور سعودی عرب کی کمپنی نے مل کر کی ہے .... ہمارے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ کہ اس قسم کی قرعہ اندازیوں کو ہم اچھی طرح سے جانتے ہیںکہ جس میں ”کار“ اور ”گھر“ تک نکل آتے ہیں تاہم محمد عمران کا نمبر لے لیا۔ اس نے بڑی احتیاط کے ساتھ ایک نمبر لکھوایا وہ نمبر کچھ یوں تھا ''051-2530069'' خاتون نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ یہ کال پی ٹی سی ایل کی طرف سے آپ کے لئے بالکل ”فری“ ہے۔ ہم نے نمبر ڈائل کیا تو دائیں بائیں سے ٹیلی فون کی گھنٹیوں کی آوازوں سے اندازہ ہو گیا کہ یہ سچ مچ کا دفتر ہے۔ اتنے میں ایک شخص نے کال اٹینڈ کی اور کہاکہ آپ کی عمران صاحب سے بات کرواتے ہیں یعنی عمران صاحب کے لئے ”پروٹوکول“ بھی موجود تھا۔ اتنے میں محمد عمران نے سلام دعا کی اور بڑے سپاٹ لہجے میں ”کام“ کی بات بتانے لگے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ محمد عمران نے اپنے اس شعبے کا انتخاب کرتے وقت پوری ٹریننگ حاصل کی تھی۔ محمد عمران کی آواز بغیر کسی تاثر کے تھی محمد عمران نے تھوڑی جلدی بھی ڈالی ہوئی تھی .... البتہ انعام نکلنے کی تفصیلات وہی تھیں جو کہ خاتون نے بتائی تھیں۔ محمد عمران نے جلدی جلدی سے ”ID“ کارڈ کی تصدیق کی اور Hold کروا کر کہا کہ ہم ذرا ”نادرا“ کے ڈیٹا کو چیک کر کے تصدیق کر لیں۔ تھوڑے وقفے کے بعد انہوں نے خوش خبری سنائی کہ آپ کے بارے میں تصدیق ہو چکی ہے اس کے بعد محمد عمران نے کہا کہ جلدی سے کورا کاغذ اور پن اٹھا لیں کیونکہ آپ کو ابھی کے ابھی اپنا انعام وصول کرنا ہو گا۔ محمد عمران نے سب سے پہلے پرائز نکلنے کی فائل نمبر ''9156820'' لکھوایا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ دوبئی ٹوکن نمبر تحریر کریں جو کہ 220099 تھا۔ اس کے بعد محمد عمران فرمانے لگے کہ ہم آپ کا چیک نمبر بھی آپ کو لکھوا دیتے ہیں تاکہ کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ جو کہ یہ تھا 100090055222 اور اس کے بعد ساتھ ہی انہوں نے نہایت عجلت سے کہا کہ ہم آپ کو کیش پن کوڈ دیتے ہیں مگر آپ چار ہزار پانچ سو منی ٹرانسفر کے ذریعے علی شیخ عبداﷲ کو بھجوا دیں اور اس کے لئے انہوں نے دوبئی کے علی شیخ عبداﷲ کا یہ نمبر بھی دیا۔ 37405-22-80068-6 محمد عمران نے مزید کہا کہ ایزی پیسہ شاپ پر جا کر خالد محمود کو اس نمبر پر کال بھی کر لیں 0345-06220033 جواباً جب ہم نے صلواتیں سنانا شروع کیں تو موصوف بھاگ گئے۔ فوری طور پر کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا کیا جائے۔ کیونکہ یہ گروپ جانے کتنے لوگوں سے چار چار ہزار وصول کرے گا اس لئے پی ٹی سی ایل کا 1217 ملایا تو مسلسل فون کے پیکچیزکے بارے میں ٹیپ چلتی رہی تمام آپریٹرز نہ جانے کن کاموں میں مصروف تھے کوئی جواب نہ آیا۔ پھر خیال آیا کہ نمبروں کی شکایت ''1218'' پر درج کروائی جا سکتی ہے۔ جب ''1218'' ملایا تو آپریٹر نے نہایت ہنستی مسکراتی آواز میں فون اٹینڈ کیا۔ ساری بات گوش گزار کی تو وہ مسکراتے ہوئے لہجے میں ہی فرمانے لگے کہ "PTA" کو فوراً شکایت درج کروا دیں۔ اتفاق سے نئے سال کے پہلے دن ہمیں کام بھی بہت سارا تھا لیکن اس خوف میں کہ نہ جانے کتنے غریب لوگوں کو یہ گروہ بے وقوف بنا کر لوٹ لے گا ہم نے ”پی ٹی اے“ کا نمبر 051080055055 ملانا شروع کر دیا۔ لیکن تھوڑی دیر میں ”فیکس“ آن ہو گئی یقیناً آپریٹر نے نمبر غلط دیا تھا۔ ہم نے دوسرا نمبر بڑی کاوشوں سے حاصل کیا وہ نمبر بڑی دیر تک کسی نے اٹینڈ نہ کیا تو گھڑی پر نظر دوڑائی دس بج چکے تھے تب سوچا کہ سردیوں میں دس بجے کون دفتر آتا ہے۔ لہذا سارے کاغذ پیک کر کے اپنے دفتر جانے کی تیاری شروع کر دی اور یوں نئے سال کے پہلے دن ہم نے کم از کم ”فراڈیوں“ کی آواز تو سن لی ورنہ ساری عمر خبریں ہی پڑھتے رہے تھے کہ نوسربازوں کا گروہ گرفتار ہو گیا یا خواتین سونا ڈبل کروانے کے شوق میں جو کچھ پاس تھا وہ بھی لوٹا بیٹھیں۔ مجھے اس خاتون کے بارے میں یہ سوچ کر بہت شرمندگی ہے کہ جو ایسے فراڈ قسم کے مردوں کے ساتھ مل کر ”عمرہ“ کے ٹکٹ انا¶نس کر رہی ہے اور انہوں نے پرائز کی فہرست میں کیش‘ عمرہ کا ٹکٹ اور سونے کا لاکٹ بھی شامل کر کے لوگوں کی نفسیات سے کھیل رچایا ہوا ہے۔ ایک سوال بہت پوچھا جاتا ہے کہ ہم نے پچھلے برس میں کیا کھویا اور کیا پایا ؟ فراڈیوں کے گروہ سے لے کر پی ٹی سی ایل کی کارکردگی ارو PTA کی حالت زار کو دیکھ کر آپ کو کیا اندازہ ہوتا ہے کہ 2014ءمیں طاہر القادری کا ”انقلاب“ آ جائے گا ؟ یا یہ ملک تیزی سے ترقی کرنے لگے گا ؟ جس قوم کو خود اپنی حالت بدلنے کا خیال ہی نہ ہو اس کا مقدر کون بدل سکتا ہے ؟ کہتے ہیں کہ پہلا دن جیسا گزرے ویسا ہی پورا سال گزرتا ہے۔ آپ دعا کریں کہ خدا نہ کرے کہ پورا برس ہمارا ”فراڈیوں“ سے ہی واسطہ پڑتا رہے !!