گورنر سرور کا بھاشن

گورنر پنجاب محمد سرور نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ پاک بھارت تعلقات اسی نوعیت کے ہونے چاہیئں جیسے یورپی یونین کے ممالک کے درمیان ہیں۔ یہ بات میںنے ایک اخباری سُرخی میں پڑھی اور میرے منہ سے نکلا کہ ہر کہ در کان نمک رفت ، نمک شد۔ وہ میاں محمد نواز شریف کی قربت میں جا کر انہی کے رنگ میں رنگے گئے ہیں اور ہز ماسٹر وائس بن کر رہ گئے ہیں۔ مجھے حیرت بھی ہوئی کہ گورنر کی ایک دو ملا قاتیں مرد غیور ڈاکٹر مجید نظامی سے بھی ہوئی ہیں، پھر بھی انہوںنے اتنی بھی حیا ملحوظ نہیں رکھی جتنی میاں شہباز شریف نے ملحوظ رکھنے کی کوشش کی ہے اور انہوں نے عطاالحق قاسمی کی اس چنڈال چوکڑی میں شرکت سے گریز کیا ہے جو امن کی آشا کے نام سے سجائی گئی تھی اور جس کے افتتاحی اجلاس میں وزیراعظم نے ویزہ فری بر صغیر کی آشا کا اظہار کیا تھا، محمد سرور نے یورپی یونین کی مثال دے کر وہی جگالی کی ہے، ان ملکوںکے درمیان بھی ویزے کی کوئی پابندی نہیں ہے اور لوگ آر پار دندناتے پھرتے ہیں، مگر میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ بلجیم سے ہالینڈ میں داخل ہونے والی ہر گاڑی پر خفیہ ایجنسیوں کی کڑی نظر ہوتی ہے کیونکہ یہ روٹ ڈرگ سمگلنگ کے لئے بدنام ہے۔ اگر کسی کو یاد ہو تو بھارت نے واہگہ کی سرحد پر جو خاردار باڑ نصب کی ہے، اس کے لئے اول اول یہی بہانہ تراشا تھا کہ افغانستان سے پاکستان کے راستے ہیروئین کے سمگلروں کو روکنا ہے اور بنیا ذہنیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے اس دیوار کو کھڑا کرنے کے اخراجات عالمی ڈونرز اداروں سے ہتھیائے تھے۔
گورنر سرور کو جب نواز شریف کوئی منصب عطا کرنے کے چکر میں تھے تو یہ سوال اٹھا تھا کہ وہ برطانوی شہریت کے حامل ہیں، انہوں نے ملکہ کی وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے، اسلئے وہ پاکستان کی کیا خدمت بجا لائےں گے۔ اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے سرور نے برطانوی شہریت چھوڑنے کا اعلان کر دیا، ان کے پاس یقینی طور پر اس کا کوئی ثبوت ہو گا، پہلے تو انہیں یہ ثبوت میڈیا میں پیش کرنا چاہئے، مگر پھر بھی برطانوی قوانین کے مطابق وہ اپنی چھوڑی ہوئی شہریت کی واپسی کا حق رکھتے ہیں ، اس لئے بہتر ہو گا کہ وہ اس حق کو بھی استعمال نہ کرنے کا کوئی ٹھوس اعلان کریں۔
یورپی یونین کا ماحول سب کو اچھا لگتا ہے، ایک ملک کا ویزہ لو اور درجنوں ملک گھوم پھر لو۔ مگر واضح رہے کہ برطانیہ، شینگن ویزے پر داخلے کی اجازت نہیں دیتا تو پھر محمد سرور کو یورپی یونین کی مثال کس طرح قابل رشک لگتی ہے۔ برطانیہ نے تو یورو بھی قبول نہیں کیا۔
یورپی یونین کی مثال دیتے ہوئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ملک برسوں تک آپس میں لڑتے بھڑتے رہے مگر اب شیرو شکر ہیں۔ بالکل درست بات ہے مگر یاد رکھئے، یورپی یونین کے ملکوںکے تعلقات ایک ہزار برس پر محیط نہیں ہیں جبکہ بر صغیر میں ہندو مسلم تعلقات کی تاریخ ایک ہزار سال پرانی ہے اور اس دوران مسلمانوںنے ہندووں پر حکومت کی ہے، ان کے محکوم نہیں رہے۔ ہندو اس ملال کو دل سے نہیں نکال سکتے، وہ ہزار سالہ غلامی کا داغ دھونے کے لئے آزاد، خود مختار، ہمہ مقتدر پاکستان کو غلام بنانے کے چکر میں ہیں۔اس مقصد کی تکمیل کے لئے اس نے پاکستان میں اپنے شردھالوو¿ں کا ایک لشکر چھوڑا ہُوا ہے جسے امریکہ اور یورپی یونین سے بھی ڈالر اور یورو ملتے ہیں۔ محمد سرور بھی سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن براﺅن کے گلوبل فنڈ کا بڑا حصہ پاکستان لانے کی نوید سناتے رہتے ہیں، اگر اس امداد کا مقصد پاکستان کی بنیادوں پر کلہاڑی چلانا ہے تو گورنر صاحب اس سے ہمیں معاف رکھیں، ہم لنڈورے ہی بھلے۔
ہم خیر سے مسلمان ہیں، کوئی یہ کیوںنہیں کہتا کہ ہمیں ایران ، افغانستان، سعودی عرب، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ یورپی یونین جیسے تعلقات قائم کرنے چاہئیں، او آئی سی کے ادارے کو سرگرم بنانے کی کوشش کیوں نظر نہیں آتی۔ وسط ایشیا کے اسلامی ممالک ہماری اکثر ضرورتیں پوری کر سکتے ہیں، ہم ان کی طرف کیوںنہیں دیکھتے۔
پتہ نہیں ہندو نے کیا جادو چلا دیا، اصل جادو تو بنگال کا مشہور تھا، وہ تو ہم پر نہ چلا لیکن کالی ماتا کی عیاری اور اس کے مکر و فریب کا شکار ہم کیوں ہو گئے۔
ہمیں سکم بھوٹان اور نیپال کا حشر دیکھ لینا چاہئے جن کے تعلقات بھارت کے ساتھ یورپی یونین جیسے ہیں، کیا یہ خطے جنت ارضی کا نمونہ پیش کر رہے ہیں۔کشمیری مسلمانوں کے ساتھ بھارتی لالے کا حسن سلوک بھی ہم بھول گئے، چند برسوں میں سری نگر کے قبرستانوں میں ایک لاکھ نوجوانوں کی قبریں ابھر آئیں اور نوجوان کشمیری خواتین، اجتماعی آبروریزی کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن کر رہ گئیں۔ بھارت کے ساتھ امن کی آشا کا راگ الاپ کر ہم ان دکھی حرماں زدہ کشمیری ماﺅں، بہنوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔
یورپی یونین کے تعلقات کا خواب دیکھنے والے قدرے تاخیر سے پیدا ہوئے، کاش! یہ قائداعظم کے زمانے میں ہوتے اور اپنے خزانوں کے منہ ابوالکلام آزاد وغیرہ پر کھول دیتے اور پاکستان کے قیام کو روک لیتے۔ اکھنڈ بھارت ہوتا، یہ شردھالو ہوتے اور لالے کے پاﺅں چاٹتے نظر آتے۔ پھر پتہ چلتا کہ درجنوں شوگر ملوں، ٹیکسٹائل ملوں ، فونڈریوں، سیمنٹ فیکٹریوں، مرغی فارموں، زرخیز ترین زرعی اراضی کے مربعوں اور عظیم الشان محلات کے مالک کیسے بنتے۔
امن کی آشا اور یورپی یونین کا ماحول تراشنے والے بھارتی شردھالو اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح پاک فوج اور اس کے ایٹمی ڈنک کو نکال دیں۔ پاک فوج پر پہلو بدل بدل کر وار کرتے ہیں، کبھی اسکے بجٹ پر، کبھی لاپتہ افراد کی آڑ میں، کبھی دہشت گردوں کی کلی حمائت کا اعلان کرکے ،کبھی پاک فوج کی شہادتوں کی تحقیر فرما کر۔ آج بھی جو تبصرے چھپ رہے ہیں، ان میں فوج کو چھیاسٹھ سالہ تاریخ میں زیادتیوں اور سیاست بازی کا طعنہ دیا جا رہا ہے۔ ساٹھ سال تو سمجھ میں آتے ہیں ، چھیاسٹھ کیسے ہو گئے کیونکہ پچھلے چھ سال میں فوج نے کیانی کی سرکردگی میں سیاست سے کنارہ کشی اختیار کئے رکھی۔ اب نیا جرنیل آیا ہے تو غیر ملکی تبصروںمیں اسے سیاست سے دور قرار دیا جا رہا ہے تو پھر فوج کے خلاف آج دشنام طرازی کا جواز کیا ہے۔ اصل میں اکھنڈ بھارت کی راہ میں فوج ہی کی ایک طاقت ہے جو رکاوٹ بنی ہوئی ہے یا ڈاکٹر مجید نظامی کی طرح کے محب وطن اور غیور شہری اور میرے جیسے سر پھرے۔ ہمارے ہوتے ہوئے بھارتی شردھالووں کے خواب چکنا چور ہوتے رہیں گے۔
پاکستان اللہ کی نعمت ہے، یہ خدائی عطیہ ہے، اس کے سر پر اللہ کا سایہ ہے۔ اس کی بقا، آزادی اور تحفظ کے لئے جب تک جانیں قربان کرنے والے موجود ہیں، تب تک نہ یہاں کوئی یورپی یونین بن سکتی ہے، نہ واہگہ کی لکیر مٹ سکتی ہے، نہ ویزہ فری بر صغیر وجود میں آ سکتا ہے۔ اگر کوئی نشان حیدر میجر شبیر شریف کی جرا¿ت رندانہ کا رزم نامہ پڑھ سکے تو اسے یہ خیال ذہن سے نکال دینا چاہئے کہ اس نشان حیدر کا بھائی جنرل راحیل شریف پاکستان کے اقتدار اعلیٰ پر ذرہ بھر آنچ آنے دے گا، گورنر صاحب ! ایں خیال است و محال است و جنوں است۔