جناب وزیر اعظم! ذرا سنبھل کے!

  بالآخر وہ دن آہی گیاجب  جنرل  کیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل راحیل شریف نے فوج کے نئے سپہ سالار کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں جنرل راحیل پاکستان کے ساتویں جنرل ہیں جو وز یر اعظم محمد نواز شریف کے ساتھ آرمی چیف کی حیثیت سے  کام کرنے کا موقع مل رہاہے میاں نوازشریف پاکستان کے واحد وزیر اعظم ہیں جنہیں  تیسری بار  وزارت عظمیٰ کے منصب  پر فائز ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے شاید ہی  مستقبل میں کوئی سیاست دان میاں نواز شریف کے  قائم کردہ  ریکارڈ کو توڑ سکے ۔ انہوںنے جہاں ملک میں سیاسی جماعتوں سے’’ جیواور جینے دو‘‘  کی بنیاد پر تعلقات استوار کئے وہاں انہوں نے فوج  اور عدلیہ سے  تصادم سے گریز کیا ۔ وزارت دفاع کی جانب سے وزیر اعظم محمد نواز شریف کو نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنانے کے لئے جن پانچ سینئر جرنیلوں کے نام   بھجوائے گئے ان میں سر فہرست جنرل ہارون  اسلم تھے اس کے بعد دوسرے نمبر پرجنرل راشد محمود، تیسرے نمبر پر  راحیل شریف تھے  جب کہ چوتھے  نمبر پر جنرل طارق خان اورپانچویں نمبر پر جنرل ظہیر الاسلام تھے وزیر اعظم نے پہلے نمبرپر جنرل ہارون اسلم کا نام  محض اس لئے ڈراپ کر دیا کہ انہوں نے آرمی چیف بننے کے لئے’’ زبردست لابی ‘‘ کی  تھی ان کی  فوج کے لئے اعلیٰ منصب کے حصول  لئے’’ لابی‘‘  نے ہی ان کو دوڑ سے آئوٹ کردیا اگرچہ بعض حلقوں کی جانب سے  یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جب 12اکتوبر 1999ء کو جنرل مشرف نے نواز شریف حکومت  کا تختہ الٹا تھا تو اس وقت جنرل ہارون اسلم ٹرپل ون بریگیڈ کے کمانڈر تھے جس نے حکومت کا تختہ الٹنے میں  کلیدی کردار ادا کیا تھا  بعد ازاں انہیں ملٹری آپریشنز میں اہم ذمہ داری سونپ دی گئی  جنرل ہارون اسلم کے قریبی حلقوں نے ان کی جانب سے فوج کے اعلیٰ منصب کے حصول  کے’’ لابی ‘‘کرنے کو بے بنیاد قرار دیا ہے اسی طرح حکومت کے ایک ذمہ دار عہدیدار نے بھی جنرل ہارون اسلم کی ٹرپل ون بریگیڈ سے وابستگی کو ان کے فوج کے سب سے بڑے منصب کے حصول کی دوڑ سے آئوٹ  ہونے سے اتفاق نہیںکیا ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے  دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے جرنیلوں کو علی الترتیب چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی  اور آرمی چیف بنا دیا دلچسپ امر یہ ہے کہ نئی عسکری قیادت کا انتخاب اس رازداری سے کیا گیا کہ’’ کچن کیبنٹ ‘‘کے صرف دو ارکان میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے سوا کسی کو اس بات کا علم نہیں تھا  کہ وزیر اعظم کی نظر انتخاب کس پر پڑی ہے ؟جب 1990ء میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت آئین کی 8ویں ترمیم کے تحت صدرکو آرمی چیف مقرر کرنے کا اختیار حاصل  تھا جب میاں نوازشریف نے عنان اقتدار سنبھالا تو اس وقت حکومت سازی میں فوج کا بڑا عمل دخل تھا جنرل مرزا اسلم بیگ فوج کے سربراہ تھے کچھ دنوں بعد ہی ایجنسیوں نے میاں نواز شریف اور جنرل مرزا اسلم بیگ  کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کردیں اور میاں نواز شریف کو یہ باور کرا دیا کہ جنرل مرزا اسلم بیگ کے سیاسی عزائم ہیںاور وہ مارشل لاء لگانا چاہتے ہیں اس خوف  و ہراس کے ماحول میں جنرل اسلم بیگ کی ریٹائر منٹ سے تین چار ماہ قبل ہی جنرل آصف نواز کی بطور آرمی چیف تقرری کر دی گئی  جب تک آصف نوازنے فوج کی کمان سنبھال نہیں لی حکومت اپنے نئے سپہ سالار کی حفاظت کے لئے حفاظتی دستوں کی تعداد ہی بڑھاتی رہی پھر میاں نواز شریف کی جنرل آصف نواز سے بھی نہ بنی میاں نواز شریف کسی فوجی جرنیل کے سائے میں حکومت نہیں کرنا چاہتے  تھے لہذا انہوں نے8ویں ترمیم کے تحت اپنے ’’اختیارات کی بے بسی ‘‘ کا رونا رونے کی بجائے اپنی اتھارٹی کو منوانے کی  پوری کوشش کی اس وقت ایوان صدر طاقت کا سرچشمہ ہوتا  تھا صدر غلام اسحق خان ایک دیانت دار حکمران تھے لیکن انہوں نے صدر کے منصب کے ساتھ انصاف نہیں کیا عسکری قیادت اور نواز شریف  مخالف قوتیں ایوان صدر کے  ’’مکین‘‘ کی طرف دیکھتی تھیں جنرل آصف نوازکی اچانک موت نے بھی ملکی سیاست میں ایک طوفان برپا کر دیا کہا جانے لگا کہ ان کو زہر دے کر مارا گیا ہے بعض حلقوں کی طرف سے  چوہدری نثار علی خان کے خلاف  الزام تراشی کی گئی لیکن بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں  زہر خورانی  کوان کی موت  کا سبب قراردینے کی نفی کر دی گئی تو چوہدری نثار علی خان سرخر و ہو کر نکلے صدر غلام اسحق خان اور وزیر اعظم محمد نواز شریف کے درمیان اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانے کے معاملہ پر شدید نوعیت کا تصادم ہوا صدر غلام اسحق خان نے جنرل عبدالوحید کاکڑ کوآرمی چیف تو بنا لیا لیکن ان کی وزیر اعظم نواز شریف سے نہ بن پائی جس کے نتیجے میں دونوں کو اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے جنرل عبدالوحید نے سیاسی انتشار  سے  فائدہ اٹھانے کی بجائے عام انتخابات  کے انعقاد کو تر جیح دی جب میاں نواز شریف  نے 1997ء میں دوسری بار دوتہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تو اس وقت جنرل جہانگیر کرامت آرمی چیف تھے  وزیر اعظم محمد نواز شریف نے جنرل  جہانگیر کرامت  سے’’ نیشنل سیکیورٹی کونسل ‘‘ قائم کرنے کی تجویز پیش کرنے کی پاداش میں استعفاٰ طلب کر لیا وہ  وزیر اعظم کو استعفاٰ دینے  کا کہہ کر گئے تو آدھ گھنٹے بعد وزیر اعظم ہائوس سے ٹیلیفون آگیا کہ’’ آپ کا استعفاٰ نہیں پہنچا‘‘ جس پر  تھوڑی ہی دیر میں انہوں نے استعفا بھجوا  دیا جنرل جہانگیر کرامت کے سیاسی عزائم نہیں تھے اس لئے انہوں نے فوج سے قبل ازوقت  ریٹائرمنٹ لے لی۔آئین میں 8ویں ترمیم کی تنسیخ کے بعد وزیر اعظم کو بے پناہ اختیارات مل گئے تھے لہذا انہوں نے  سینئر جرنیلوں کو نظر اندازکرکے جنرل پرویز مشرف کو سپہ سالار  بنادیا لیکن بہت جلد ان پر یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ جنرل پرویز مشرف کے سیاسی عزائم ہیں  وزیراعظم محمد نواز شریف نے ان سے جان چھڑانے کے لئے آئین میں دئیے گئے اختیار کو استعمال تو کیا لیکن اس وقت کی عسکری قیادت نے ان کے آئینی حکم کے سامنے سر تسلیم کرنے کی بجائے ان ہی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ان کے مقرر کردہ نئے آرمی چیف جنرل  ضیاء الدین بٹ کو قبول نہیں کیا  اگرچہ آئین میں کچھ اختیارات ایسے ہوتے ہیں جو درج تو ہوتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کرتے ہوئے بڑوں بڑوں کے پر جلتے ہیں ان کو استعمال کرنے سے گریز کیا جاتا ہے  میاں نواز شریف کو جنرل پرویز مشرف کی برطرفی بڑی مہنگی پڑی انہیں جہاں جلاوطنی کی زندگی گذارنا پڑی وہاں انہیں 14 سال تک اقتدار کے ایوانون سے باہر بھی  رہنا پڑا  جنرل اشفاق پرویز کیانی ،جنرل پرویز مشرف کا انتخاب تھے وہ  6سال تک سپہ سالار رہے ان کا ملکی معاملات میں عمل دخل رہا وہ’’ ٹرائیکا ‘‘کا حصہ رہے لیکن انہوں نے حکومت کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر حکمرانی کا خواب نہیں دیکھا  میاں نواز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد ’’ٹرائیکا‘‘تو ختم ہو گئی تاہم  جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ تک  وزیر اعظم محمد نواز شریف اور جنرل اشفاق پرویز کیانی  کے درمیان اچھے تعلقات قائم رہے ان کو اس وقت تک قائم مقام چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنائے رکھا جب تک ان کی ریٹائرمنٹ نہیں ہو گئی طویل عرصے کے بعد وزیر اعظم محمد نواز شریف کو ایک بار پھر اپنی مرضی کا سپہ سالار بنانے کا موقع ملا ہے جو شاندار عسکری پس منظر کا حامل ہے  دھیمے مزاج کے حامل جنرل راحیل شریف اول و آخر ایک سپاہی ہیں  توقع ہے کہ فوج کو سیاست سے الگ رکھیں گے تاہم وزیر اعظم سے گزارش ہے ’’جناب وزیر اعظم اب کی بار ذرا سنبھل کے۔‘‘