بلاول بھٹو زرداری بھٹو اور زرداری کے درمیان

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

پیپلزپارٹی کا یوم تاسیس لوگوں سیاستدانوں اور جیالوں کے لئے ایک پیغام ہے۔ بالخصوص بلاول بھٹو زرداری تقریر مزید پیغام ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بلاول کی سیاست آج سے شروع ہو رہی ہے؟
 کراچی لاہور ملتان اور دوسرے شہروں میں بڑی زبردست تقریبات ہوئیں۔ بڑی تعداد میں جیالوں کا جوش و خروش عروج پر تھا۔ جسے بلاول نے جنون کا نام دیا۔ جنون میں نون بھی ہے مگر یہ نون غنہ بن گیا ہے۔ جیسے صدر پاکستان ممنون میں بھی ن ہے عمران خان کچھ بھی نیا نہیں بنا سکا۔ نواز شریف بھی تبدیل شدہ حکمران نہیں لہذا کسی تبدیلی کی کوئی امید نہیں مگر بلاول بھٹو زرداری ایک نئے ارادے اور آرزوکے ساتھ میدان میں نکلا ہے۔
”صدر“ زرداری کے فیصلوں کا فوری طور پر اندازہ لگانا آسان نہیں ہے ان کا انداز سیاست اندازوں سے بالا تر ہے۔ بلاول کو انتخابی مہم میں حصہ لینے نہ دیا گیا۔ دبئی بھیج دیا گیا۔ سکیورٹی خطرات کا اندیشہ تھا۔ اب وہ اندیشہ خوشخبری بن کر سامنے آیا ہے۔ ”صدر “زرداری کا اب میدان سیاست میں بلاول کو لانے کا فیصلہ ایسا ہی کارنامہ ہے جیسی معرکہ آرائی انہوں نے ایوان صدر میں کی تھی۔بلاول کے ساتھ بختاور کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی وہ غائب تھی ۔نجانے آج آصفہ کہاں تھی بلاول نے مٹھائی خود بختاور کو کھلائی اس نے خوب نعرے بازی کی حکمران بن کے بھی ایک نیا زمانہ لے آئے۔ روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لوگ نہیں بھولے انہیںروٹی کپڑا مکان نہیں ملا مگران کی امید نہیں ٹوٹی جو کچھ نوازشریف کی مسلم لیگ ن کی حکومت نے چند مہینوں میں لوگوں کو مہنگائی کی رسوائی میں مبتلا کیا ہے لوگ پھر پیپلزپارٹی کی طرف دیکھنے لگے ہیں۔ عمران خان وزیراعظم بننے کا خواب دیکھتا رہ جائے گا۔ توفیق بٹ کہتاہے کہ وزیراعظم نہ بنے کہ وہ ہماری آخری امید ہے اس کے بعد پہلی امید بھی جاتی رہے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے بعد پیپلزپارٹی کی باری ہے۔ باری ”صدر“ زرداری کی اور بلاول بھٹو زرداری کی ہے۔ اللہ کرے وہ عوام کے لئے کچھ کریں کچھ کر پائیں جس کی امید مجھے نہیں ہے۔ جیالوں کو پوری امید ہے۔ کچھ نہیں ملے گا پھر بھی امید پیپلزپارٹی سے ہے۔ اسلام آباد میں قمر الزمان کائرہ اور فرحت اللہ بابر کی تقریر کراچی میں شیری رحمان‘ رضا ربانی کی تقریر اور شرمیلا فاروقی کی گفتگو لاہور میں الطاف قریشی نوید چودھری منظور وٹو کا خطاب اچھا تھا مگر سب سے زبردست جوشیلی اور اچھی تقریر بلاول بھٹو زرداری کی تھی۔ انہوں نے نوازشریف کی پرائیویٹائزیشن کو پرسنلائزیشن کہا جو بہت بامعنی اور معنی خیز ہے۔ بلاول کے بقول نجکاری کے نام پر قومی سرکاری ادارے دوستوں کو دئیے جا رہے ہیں۔ اونے پونے داموں پر یہ کاروبار غیر قانونی ہے۔
بلاول نے عمران خان کو بتا دیا کہ وہ بچہ نہیں ہے مگر ابھی اسے ثابت کرنا ہے کہ وہ سچا ہے۔ غور کریں یہ جملہ کتنا خوبصورت ہے اور غیرسیاسی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ بلاول کو زبان نہیں آتی انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ میرے لوگ میرے دل کی زبان سمجھتے ہیں جیالوں کے ساتھ میرا خون جنون اور دل کا رشتہ ہے۔ ذوالفقار بھٹو نے بھی لوگوں کے دلوں سے خطاب کیا تھا۔ بے نظیر بھٹو اور بلاول بھٹو کی آواز بھی بھٹو کی ہمراز بن گئی ہے۔ لوگوں کو اپنا سیاسی ہمراز بنانے والے انہیں اپنا ہمسفر کب بنائیں گے؟
صدر زرداری کا احترام میں دل میں رکھتا ہوں مگر اختلاف کرنے سے گریز نہیں کرتا بلاول بھٹو زرداری پر تنقید بھی کر چکا ہوں مگر آج میں مجبور ہوں کہ بلاول کے لئے اعتراف کی بات کروں مجھے لگتا ہے کہ اس کا نیا تعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس نے یہ کہا تو حیران کر دیا حکومت معاشی بدحالی کا بوجھ غریب عوام پر نہیں ہم جیسے لوگوں پر ڈالے۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ جو سیاستدان اور حکمران روایتی طور پر کہتے ہیں معاشی بدحالی کا بوجھ غریبوں کی بجائے امیروں پر ڈالا جا رہا ہے۔ اس ٹیکس سے غریب لوگوں پر اثر نہیں ہو گا یہ جھوٹ بار بار بولا جاتا ہے سیاستدان اور حکمران ہمیشہ لوگوں کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں ہم جیسے لوگوں کے الفاظ استعمال کر کے بلاول نے سچ بولا مگر سیاستدان ایک دوسرے کی مخالفت کریں مگر اس میں بھی مفاہمت موجود ہوتی ہے۔ جو اصل میں مصالحت ہے۔ جومصلحت سے زیادہ بری ہے۔ اشرافیہ بدمعاشیہ بن گئی ہے۔ میں نے ایک بار شہبازشریف کے سامنے کہا تھا کہ آپ غریبی ختم نہ کرو صرف امیری ختم کر دو غریبی خود بخود ختم ہو جائے گی۔
شہباز شریف نے اپنی تقریر میں میرے اس جملے کو بار بار دہرایا تھا۔ کاش اس پرعمل ہو جائے سب سیاستدانوں کے جو اثاثے بیرون ملک پڑے ہوئے ہیں وہ واپس ملک میں لے آئے جائیں تو سارے معاشی مسائل حل ہو جائیں مہنگائی نہ ہو اور قیمتیں قیامتیں نہ بنیں۔
بلاول نے کہا کہ عمران خان جنرل مشرف کا بڑا چمچہ تھا اور ہے وہ امریکی سفیر سے ملاقاتیں کرتا ہے شرمیلا فاروقی نے کہا کہ نوازشریف ملک میں نہیں آتے تو اسمبلی میں کیوں آئیں گے۔ ممبران کے جواب دینے کے لئے وزیر شذیر بھی اسمبلی میں نہیں ہوتے۔ انتخابی جلسوں میں وہ جو کچھ ہم پر تنقید کرتے تھے۔ اب ان پر وہی تنقید ہو رہی ہے صدر زرداری نے نواز شریف کو تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا تھا کہ جو کچھ ہم نہیں کر سکے تھے وہ آپ کرکے دکھا¶۔
ایک بات اور بھی غور طلب ہے بلاول نے کہا کہ ہم 2018ءسے پہلے لوگوں کو دکھا دیں گے کہ پیپلز پارٹی متحد اور مضبوط ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 2018ءکے الیکشن سے پہلے کچھ ہو گا مگر اس کی اجازت ”صدر“ زرداری شاید نہ دیں کیونکہ اس ”جمہوری نظام“ میں اگلی باری زرداری کی ہے۔ جو کچھ نواز شریف کر رہے ہیں اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے۔ لاہور کے پیپلز پارٹی کے جلسے میں بڑی ہڑبونگ مچی تو اب یہ کس سیاسی جماعت کے جلسوں میں نہیں ہوتی۔ ایوان اقبال لاہور میں جیالوں نے سٹیج پر قبضہ کر لیا تو یہ قبضہ تو عمران خان کے جلسوں میں بھی ہوتا ہے۔ عمران دوسری بار گرتے گرتے بچے ہیں۔ یہ بات تحریک انصاف کے حلقوں میں ہے کہ دونوں بار یہ سازش عمران کے خلاف اپنوں نے کی تھی۔ نواز شریف کو بھی خود کئی بار لوگوں سے التجا کرنا پڑتی ہے کہ میری بات سنو۔ عمران تو اپنی بات سنوانے کے لئے نہیں منوانے کے لئے بے تاب دکھائی دیتا ہے۔ ملتان میں جیالے کیک پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے کبھی کیک دیکھا نہیں ہوتا تو ان کا کیا قصور ہے؟ کہا گیا کہ روٹی نہیں ملتی تو کیک کھا لیا کرو۔
آخر میں ایک بات کہ جن لوگوں نے پیپلز پارٹی بنائی تھی۔ ان میں کوئی بھی 46ویں یوم تاسیس میں نہ تھا۔ تحریک انصاف بنانے والے صرف 17 سال میں عمران سے بیزار ہو گئے ہیں ایک بھی اس کے ساتھ نہیں ہے۔