افغان تمثیل کا دیباچہ

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک

افغانستان میں 1979 میں سوویت فوجی مداخلت سے کہانی شروع ہوئی اور امریکہ  کے واقعہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر تک چلی آئی …دنیا 1979ء میں جب کرسمس منا رہی تھی تو افغانستان کے صدر حفیظ الامین قتل ہو چکے تھے اس وقت بھی امریکہ کی ’’کارٹر ٹیم‘‘ کے سربراہ اور اس وقت کے مشیر برائے قومی سلامتی لبرزز نسکی نے اس سوویت قبضہ کو عالمی خطرے کے طورپر نہیں بلکہ سوویت سلطنت کے خاتمہ کے طورپر لیا تھا اور اس وقت امریکہ میں جو حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا وہ ایسی تھی کہ جیسی حکمت عملی کو انگولا‘ صومالیہ اور ایتھوپیا پر اپلائی کیا جاچکا تھا اور امریکہ یہ سمجھتا تھا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کی وسیع مسلم آبادی بھی کیونسٹ غلبہ سے رہائی کے لیے بے چین ہے اور یہی تجزیہ تھا کہ جب امریکہ نے اسلام پسندوں کے عاشقوں کے ساتھ ’’سمجھوتے کی شادی‘‘ کرنے کی ٹھان لی تھی… اور انہی وقتوں میں صدر ضیاء الحق  نے افغانستان میں امریکہ کی حمائیت شروع کر دی تھی  …  اور سوویت یونین کے قبضے سے اور افغانستان کو چھڑانے کے لیے مجاہدین بھرتی ہوئے تھے… ان میں مسلم ممالک سے وہ مجاہدین آئے جو سچ مچ کے جذبہ جہاد سے  سرشار تھے مگر امریکہ ‘ افریقی اور ایشیائی  براعظم سے آنے والے بہت سارے مجاہدین میں ایسے لوگ بھی بھیج دئیے گئے جو مذہبی ‘ سیاسی یا مجرمانہ سرگرمیوں کے حوالہ سے مفرور تھے اور ان کی حکومتیں انہیں گرفتار کرنا چاہتی تھیں اور یہ تجزیہ امریکی صحافی نے بہت پہلے  کیا تھا  مگر پھر  سب کچھ ہی الٹ  کر دیا گیا … امریکہ‘ روس اور بھارت دہشت گردی کے خلاف ایسے اتحادی بن گئے کہ جن کا مشترکہ دشمن ہر اسی شخص کو ٹھہرایا گیا جس نے افغان جنگ لڑی تھی… یہاں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیے گئے تمام افراد کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا کر بے یارو مدد گار  چھوڑ دیا گیا
  کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں…
اور صرف دس سال کے بعد ہی 1989ء میں شکست خوردہ سوویت فوجیں واپس پلٹ گئیں اور سوویت یونین کو خود اپنے وجود کو سہارا دے کر پھر سے کھڑا کرنے کی کوششوں میں لگ گیا اور 1989ء کے بعد امریکہ کا فاتحانہ انداز کا وہ کھیل شروع ہوا جس کے بعد افغانستان کے 40 لاکھ پناہ گزینوں کو مختلف ملکوں میں پناہ لینی پڑ گئی اور ان میں سب سے زیادہ ’’حق میزبانی‘‘ مسلم ملک پاکستان نے ادا کیا  اور پاکستان کی اکانوی تباہ ہوئی مگر آج افغانستان کی اکانوی کے لیے ٹریڈ بھی یہی سے ہوتی ہے  آج بمباری افغانستان میں اور ڈرون اٹیکس پاکستان میں جاری وساری ہیں اور یہ حالات نئی لاشیں تخلیق کرتے چلے جارہے ہیں  یہ ملک امداد کے لیے زیر دست بنا دئیے گئے  اور امن وسکون تباہ کرکے دنیا کے سامنے شدت پسندی کا ڈھونگ رچا دیا گیا اور یہ بات اپنی جگہ پر قائم دائم  ہے کہ مختلف ممالک سے مختلف طرح کے آئے ہوئے طالبان میں سرعام سزائیں دینے والے طالبان بھی ہیں کہ جن کی ویڈیوز ریلیز کرکے بتایا گیا کہ ایسے ظالم لوگ ابھی تک موجود ہیں اور ان کا قلع قمع کرنے کے لیے دنیا سے ہمدردیاں بھی بٹوری گئیں اور پھر ایسے طالبان بھی سامنے آئے جن کے بارے میں بھیس بدل افغانستان آنے والی برطانوی خاتون صحافی یو آنے ردلے  نے ’’مریم‘‘ نام اختیار کرنے کے بعد ملاعمر اور ان کے ساتھی عبداللہ منیر کا شکریہ ادا کیا تھا کہ جو اس کی حفاظت کیا کرتے تھے۔ برطانوی صحافی یوآنے افغانستان سے واپسی پر اپنے تاثرات میں  بھی لکھا تھا …’’ طالبان کے افغانستان میں گناہ بمشکل نظر آتے تھے مگر کرزئی کے افغانستان میں بعض کاروبار کھلے عام ہورہے ہیں۔ کابل کے بازاروں میں فحش سی ڈیز اور ڈی وڈیز عام بک رہی ہیں… غیر ملکی فوجیں منشیات کا انسداد کیوں کریں وہ انہیں خود فروغ دے رہی ہیں کیونکہ ان کا مفاد انہی سے وابستہ ہے  … حامد کرزئی افغانستان کے صدر نہیں بلکہ محض کابل کے مشیر کے فرائض سرانجام دینے سر اکتفا کررہے ہیں‘‘ …کل نوازشریف کے ساتھ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو چہل قدمی کرتے وقت اسلام آباد کا قدرتی حسن یاد آتا رہا کابل بھی کسی زمانے میں ادب وثقافت کا گہوارہ تھا  جسے مغرب زدہ کرکے تنز بتر کر دیا گیا تھا … افغانستان کے صدر کی اقتدار کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے  قوموں کے لیڈروں کو باعزت مقام حاصل کرنے کے لیے  اپنی قوم‘ ملک اور ان کے مفادات کے لیے کردار ادا کرنا پڑتا ہے اور جو لیڈر یہ کردار ادا نہیں کرتے اور غیروں کے آلہ کار بن کر وقت گزارتے ہیں وہ جاتے جاتے باقی ماندہ زندگی کے لیے اور قوم کے سامنے شرمندگی مٹانے کے لیے  آخری وقتوں میں سوچتے ہیں کہ اپنے لوگوں کو منہ دکھانے کے لیے کیا کہیں ؟ یہ لوگ یہی بات سفر کے شروعات میں سوچ لیا کریں تو ایسی ندامت سے بچ سکتے ہیں کم سے کم پاکستان کے حکمرانوں کو یہ بات سبق کے طور پر حاصل کرنا چاہیے کہ مکمل طور پر آلہ کار بننے کی بجائے اپنی قوم ‘ ملک اور ان کے مفادات کے تحفظ کے مطابق فیصلے کرتے ہوئے اس سیاست کا حصہ بنیں جو  عالمی سیاست ہے جبکہ پالیسی بنانے کے لحاظ سے امریکہ  کے صدور کے کردار سے بھی نصیحت حاصل کی جاسکتی ہے جو ابن الوقت ہیں…ماضی کی بات میں بھی دیکھ لیں کہ1946ء میں امریکی صدر ہیری ٹرومین نے یہ سوچ لیا تھا کہ امریکی مفادات کے لیے سب سے بڑا خطرہ سوویت یونین تھا انہی دنوں امریکہ کی قائم کی گئی خفیہ ایجنسی ‘ سی آئی اے نے بھی یہ فیصلہ کیا تھا کہ لادین کمیونسٹوں کی متبادل قوت کے طور پر مذہب اور عقیدہ والی قوموں کو ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جاسکتا ہے اسی لیے فرانس‘ یونان اور اٹلی میں دائیں بازو کی جماعتوں کی جیت کے لیے کثیر سرمایہ کاری کی گئی تھی… جبکہ اٹلی میں خاص طور پر کمیونسٹوں کوشکست دینے کے لیے کرسچین ڈیموکریٹک کو بھاری امداد دی گئی تھی … اور پھر امریکہ نے یہ  بھی جان لیا کہ ’’ اسلام کا نام لینے والوں کو زیادہ آلہ کار بنایا جاسکتا ہے اس لیے امریکہ نے اسلامی ریاستوں اور اسلامی تنظیموں کے ساتھ اپنے تعلق مضبوط اپنے مفادات کے لیے بنائے اور ’’لوہے  کو لوہے سے کاٹنے ‘‘ کی پالیسی ابھی تک جاری وساری ہے اس پالیسی میں بھی شیعہ اور سنی  کو لڑوانے کا سلسلہ بھی جاری ہے … راولپنڈی  کا حال ہی کا سانحہ اس کی مثال ہے  اس طرح کئی تنظیموں کو مسلح کرکے طاقتور بنایا جاتا ہے اور کئی تنظیموں کو ختم کرنے کی پالیسی پر علمدر آمد کیا جاتا ہے ہمارے ملک کے حکمرانوں کو ان تمام باتوں کو سمجھ کر راستہ بنانے کی ضرورت ہے اور قوم کو بھی ان باتوں کا ادراک ہونا ضروری ہے تاکہ سمجھا جاسکے کہ ’’افغان تمثیل‘‘ کے تحت کی گئی ’’سمجھوتے کی شادی‘‘ کیا صورت اختیار کر چکی ہے … افغانستان کے صدر کرزئی تو جیسے ہیں ویسے ہی چلے جائیں گے … مگر  پاکستان کے حکمرانوں اور پاکستانی قوم کی آنکھیں کھل جانی چاہیے تاکہ سمجھوتوں کی شادیوں سے آئندہ پرہیز کیا جاسکے اور کسی ایسے کھیل یا تمثیل کا مزید حصہ نہ بنا جائے کہ جن میں ہمیں کٹھ پتلی کی طرح عمر بھر ہی ناچنا پڑتا رہے اور دوسروں کا نظریہ یہ بنا رہے کہ
اے فلک سامان محشر ہی سہی
اپنی آنکھوں کو تماشا چاہیے !!
اپنا خیال رکھئیے گا !!