کالے بکرے… گورے قصاب؟

کالم نگار  |  بشری رحمن

اخبار پڑھتے پڑھتے ایک ننھی سی خبر نظروں میں آگئی۔ جناب عزت مآب آصف زرداری کی سالگرہ نہایت خاموشی سے منائی گئی بس چالیس کالے بکروں کی قربانی دی گئی۔ یوں ہمیں حیرت ہوئی جبکہ 16 کروڑ عوام قربان ہونے کو ہر دم ہر گھڑی تیار رہتے ہیں۔ بیچارے معصوم اور مظلوم بکروں کی قربانی دینے سے کیا حاصل… ان کی ماں بھی ان کی خیر نہیں منا سکتی۔ اخبار پڑھتے پڑھتے اور سوچتے میری آنکھ لگ گئی…
میں نے دیکھا کہ بکرمنڈی کے اندر ہلچل سی مچی ہوئی ہے… بکرے دمیں اٹھائے ہوئے اور بکریاں کان ہلاتی ہوئی ادھر سے ادھر… میں میں کرتے پھر رہے ہیں۔ قریب جا کر رک گئی بلکہ ایک گھنے درخت کی اوٹ میں ہو گئی۔ جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ یہاں کالا بکرا کانفرنس ہو رہی ہے۔ غور کیا تو واقعی سارے بکرے کالے تھے۔ کسی پر بھی ایک سفید دھبہ تک نہیں تھا۔ دیکھتے دیکھتے سٹیج بن گیا اور بزرگ بکرا اس پر کھڑا ہو گیا اور دو کنواری بکریاں اس کے دائیں بائیں کھڑی ہو گئیں۔
بڑے بکرے نے حلق سے ایسی آواز نکالی جیسی ذبح کرتے وقت نکالی جاتی ہے۔ اس آواز پر سارے بکروں اور بکریوں نے ایک ساتھ مینگنیں کر دیں۔ پتہ نہیں یہ کس بات کا سلوگن تھا۔ ہم نے عرض کیا ناکہ اس بکرا کانفرنس میں کچھ بکریاں بھی تھیں۔ بس اتنی ہی بکریاں مدعو کی گئی تھیں جتنی مردانہ کانفرنس میں عورتیں مدعو کی جاتی ہیں۔
پھر سٹیج پر بیٹھا بوڑھا بکرا آگے آیا اور بولا…
ہم نفسو! وقت بہت بدل گیا ہے۔ مگر ہماری تقدیر ابھی تک نہیں بدلی۔ ساری دنیا میں کالے بکروں کی شامت آئی ہوئی ہے۔ جب بھی کسی پر ابتلا پڑے‘ مصیبت آئے یا بیمار ہو تو ہمیشہ کالے بکروں کی قربانی دی جاتی ہے۔ کسی بڑی شخصیت کی سالگرہ ہو‘ جلسہ ہو یا افتتاح ہو‘ تب بھی کالے بکرے ہی کام آتے ہیں۔ بڑے لوگوں کے بچوں کے ختنہ کی رسم ہو‘ عقیقہ ہو یا تہوار کالے بکرے تلاش کر کر کے لائے جاتے ہیں۔ جتنا بڑا آدمی ہو گا اتنے زیادہ بکرے قربان کئے جاتے ہیں۔ اگر ہمارا رنگ ازلی کالا ہے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے اور کہاں کا قانون ہے کہ کالے بکرے کا صدقہ زیادہ قبول ہوتا ہے…
ایک شوخے سے نوجوان بکرے نے منہ اٹھا کر نعرہ لگایا۔
ہم کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں۔
دوسرے نے جواب دیا۔ ہم کالے ہیں تو کیا ہوا کھل والے ہیں۔
بزرگ بکرے نے غصے سے کہا۔ غیر ضروری نعرے نہ لگائیں… مجھے بات مکمل کرنے دیں۔ وہ پھر گویا ہوا…
گورے اور کالے یا چتکبرے بکروں میں کیا فرق ہوتا ہے۔
ہمارے بھی چار پائے اور ایک سری ہوتی ہے…
گورے کی بھی چار پائے اور ایک سری ہوتی ہے…
ہماری بھی گردہ کلیجی اور پھیپھڑے ہوتے ہیں…
گوروں کے بھی گردہ کلیجی اور پھیپھڑے ہوتے ہیں…
ہماری اگر دم ہے اور اوجڑی بھی ہے…
تو گورے بکروں کی بھی دم اور اوجڑی ہوتی ہے…
کالے بکروں کے خون کا رنگ سرخ ہوتا ہے…
تو گورے بکروں کے خون کا رنگ بھی سرخ ہوتا ہے۔
ہمارا گوشت بھی اتنا ہی لذیذ ہوتا ہے جتنا گورے بکروں کا ہوتا ہے۔
ہمارے دام بھی اتنے ہی لگتے ہیں جتنے گورے بکروں کے لگتے ہیں…
پھر کیا و جہ ہے کہ ہمیشہ جب برا وقت آتا ہے تو کالے بکروں کی قربانی ہی دی جاتی ہے۔
ایک جوان بکرا اٹھا اور سٹیج پر آکر بولا…
صاحب صدر! کیوں نہ ہم اپنا رنگ گورا کروا لیں۔
اوئے احمق! یہ کیسے ممکن ہے۔ دوسرا مجمعے میں سے بولا۔
کیوں مائیکل جیکسن نہیں گورا ہو گیا تھا۔ تیسرے نے آواز اٹھائی
ارے ٹیلی ویژن پر آج کل گورا کرنے کی کریموں کے بہت اشتہار چل رہے ہیں۔
ایک اور آواز آئی…
صدر صاحب! میں آسان طریقہ بتاتا ہوں۔ باری باری بکرے ولایت جائیں۔ گوری بکریاں پھنسا کر لے آئیں اور اس طرح ہماری آئندہ نسلیں گوری ہو جائیں۔
چپ کرو خبیسو! بزرگ بکرا چیخا… یہ جلسہ ہو رہا ہے۔ بکر منڈی نہیں ہے کہ تم نے بولیاں لگانی شروع کر دی ہیں۔ تم بالکل انسانوں والی حرکتیں کر رہے ہو۔ جیسے وہ اپنی پارٹی میٹنگ یا جلسے میں ہلڑ بازی کرنے لگتے ہیں۔ خبردار اگر تم نے کوئی انسانوں والی حرکت کی تو… اس طرح ہم اپنے مقصد سے دور ہو جائیں گے۔
میں تو چلا… ایک کالا بکرا منہ پھلا کر بولا…
اوئے کدھر منہ اٹھائے جا رہے ہو؟
سر! دوسرے پنڈال میں رنگ برنگے بکروں کی کانفرنس ہو رہی ہے۔ اب یہ ان کے ساتھ شامل ہو جائے گا۔ خبردار! بزرگ بکرا گرجا… لوٹا بننے کی کوئی ضرورت نہیں یہ کام انسانوں کے لئے ر ہنے دو۔ اپنی پارٹی کے ساتھ رہو۔ اگر عزت سے جینا چاہتے ہو۔ اگر دوسری پارٹی میں گھسنے کی کوشش کی تو نہ صرف یہ کہ وہ تمہارے سینگ توڑ ڈالیں گے۔ دم بھی کاٹ دیں گے تاکہ تم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہو… اور قربانی دینے کے لئے سب سے پہلے تمہیں آگے کریں گے۔
ناراض بکرا رک گیا۔ کارروائی دوبارہ شروع ہوئی…
کالی کھال والو! آخر میں‘ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں جتنے جانور بھی ناپید ہو رہے ہیں۔ حکومت ان کو بچانے کا جتن کر رہی ہے۔ اس ضمن میں ہمیں بھی حکومت کی توجہ اس طرف دلوانی چاہئے۔ ٹھیک ہے۔ ٹھیک … سب بکروں نے کان ہلا کر اور دم لہرا کر تائید کی۔
آج کے روز اس اہم موقع پر دو قراردادیں پیش کی جائیں گی۔
ایک تنو مند بکرا سٹیج پر چڑھ آیا… اور قرارداد پڑھنے لگا۔
کالا بکرا کانفرنس کا یہ اجلاس حکومت وقت کی خدمت میں یہ قرارداد پیش کرتا ہے کہ اس صدی میں کالے بکروں کو زندہ رہنے کا حق دیا جائے۔ کالے بکروں کی کالی نسل کو بچانے کے لئے وہ مقدور کوششیں اور اقدام کئے جائیں۔ نیز اہم مواقع پر گورے بکروں کو قربان کرنے کا رواج ڈالا جائے… آپ کو منظور ہے۔ بکرا بولا… منظور ہے… منظور ہے… سارے کالے بکروں نے بیک آواز کہا۔
اب دوسری قرارداد پڑھی جائے۔ دوسرا کالا بکرا سٹیج پر آیا … اور پڑھنے لگا…
کالا بکرا کانفرنس کا یہ تاریخی اجلاس حکومت سے اپیل کرتا ہے کہ اگر کسی کالے بکرے کی قربانی ناگزیر ہو جائے تو کم از کم قصاب بھی کالا ہی منتخب کریں۔ ہمیں گورے قصابوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں۔ نیز کالے بکروں کو غیر ملکی ویزے عطا کئے جائیں تاکہ وہ وہاں سے گوری بکریاں لائیں اور اپنی نسل کو بدلیں… منظور ہے… منظور ہے… منظور ہے…
اتنا سننا تھا کہ ہماری ہنسی نکل گئی۔
ارے کوئی ہے… ارے کوئی ہے… بکروں نے شور مچا دیا۔ دیکھو یہ کوئی صحافی تو نہیں ہے۔ کیونکہ ہمیں کافی دیر سے ایک صحافیانہ بو آرہی تھی… دوڑو… ڈھونڈو… پکڑو… اگر بے وقت پلان نکل گیا تو ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے… وہ سب ادھر ادھر پھیل گئے… میں نے دوڑ لگا دی… اتنی تیز دوڑی کہ ایک درخت سے ٹکرا گئی۔
آنکھ کھل گئی… اُف…
کیسا خواب تھا؟؟؟