سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ… اندھیروں میں روشنی کا مینار

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

حسب وعدہ گذشتہ روز کے کالم کے ایکٹ تھری سین تھری کا باقی ماندہ حصہ قارئین کے پیش خدمت ہے۔
فاضل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 14 رکنی لارجر بنچ نے 31 جولائی 2009ء کو ایک تاریخی فیصلہ سنا کر پاکستان کے دشوار گزار آئینی سفر میں جو آج کل اندھیروں کے گرداب میں بھٹک رہا تھا روشنی کے مینار کا کردار ادا کیا ہے۔
سابق چیف جسٹس محمد منیر سے لیکر عبدالحمید ڈوگر تک جو اب چیف جسٹس کے آئینی لقب سے بھی محروم کر دئیے گئے ہیں سب کے سب موجودہ لارجر بنچ کے فیصلہ کی چکا چوند کے سامنے چاروں شانے چت ایسے اوندھے بل گر گئے ہیں جیسے ایک ٹن بارود کے بم پھٹنے سے ریت کی بنیادوں پر کھڑا کیا گیا محل ایک لمحہ میں زمین بوس ہو جاتا ہے۔
اندرون ملک و بیرون ملک پاکستان دشمن عناصر جو افراتفری اور وطن عزیز کے اندر سول وار کی افواہیں پھیلا کر مملکت خداداد کو ایک ناکام ریاست ثابت کرنے کی سازشوں میں مصروف تھے۔ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلہ نے ان کے منصوبوں کو خاک میں ملا کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی مملکت کی منزل کی طرف رواں دواں کرنے کا فریضہ ادا کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں آئین کی پاسداری اور ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے کیلئے اپنا فرض اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ادا کر دیا ہے اور باقی ماندہ جو امور ادھورے اور ابھی تک عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق فیصلہ طلب ہیں ان کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت اور پارلیمنٹ کو اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی ہے۔
اگرچہ عدالت عالیہ نے مکمل اور تفصیلی فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے 31 جولائی کو صرف اہم امور کی طرف اپنے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے مختصر فیصلہ سنایا ہے جس کا متن بھی اخبارات میں شائع ہو چکا ہے لیکن یہ مختصر فیصلہ اپنے اندر وہ بحر بیقراں رکھتا ہے جو اپنی طاقتور لہروں سے پاکستان کے مستقبل کی تاریخ صحیح سمت میں موڑنے کی پوری توانائی اور صلاحیت کی حامل ہے۔
میں نہایت اختصار کے ساتھ اس نئے شروع ہونے والے جمہوری سفر کے چند اہم سنگ میل بیان کرنے سے پہلے چین کی نئی انقلابی مملکت کے بانی اور بیسویں صدی کے عظیم عالمی سطح کے مفکر اور دانشور مائوژے تنگ کا یہ قول زریں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔
’’ایک ہزار میل لمبے سفر کی ابتدا کرتے ہوئے صحیح سمت میں اٹھایا گیا پہلا قدم انتہائی اہمیت کا حامل اور فیصلہ کن ہوتا ہے‘‘
31 جولائی کو سنایا گیا سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی مندرجہ بالا تناظر میں دیکھنا‘ سمجھنا اور اس پر عمل پیرا ہونا مائوژے تنگ کے تاریخ ساز اقوال کے زمرے میں آتا ہے۔ اس فیصلے کو محض الفاظ سے ہٹ کر اس کے اندر اس فیصلے کی روح کو سمجھے اور اس پر عملدرآمد کئے بغیر حصول منزل یعنی پاکستان میں جمہوری عمل کا استحکام اور آمریت کے رجحانات کا خاتمہ ممکن نہیں۔
اس فیصلے نے ماضی کے اندھیروں سے نکل کر مستقبل کیلئے زندگی کے ہر شعبہ میں ہر سطح پر مملکت خداداد میں سلطانی جمہور کیلئے جو چراغ جلائے ہیں ان کی مختصر تفصیل یوں ہے۔
٭… 3 نومبر سے 15 دسمبر 2007ء تک ایمرجنسی اور مشرف کے اقدامات غیر آئینی تھے۔
٭… مشرف کے اقدامات کو تحفظ فراہم کرنے والا ٹکا اقبال کیس کالعدم۔
٭… اسلام آباد ہائی کورٹ کا قیام کالعدم‘ تمام پی سی او ججز بشمول ڈوگر دور میں بھرتی ہونے والے جج صاحبان کے علاوہ پی سی او کے تحت دوبارہ حلف اٹھانے والے ججوں کو کام سے روک دیا گیا‘ اس فیصلے سے 103 جج متاثر ہوئے ہیں۔
٭… اگر اس سارے عمل کو جوڈیشل ایکٹوازم اور عدل و انصاف کا جرات مندانہ زریں تاریخی اقدام نہ کہا جائے تو کیا جدید دنیا کی عالمی سطح پر خلافت راشدہ یا عدل جہانگیری کے علاوہ کوئی مثال ملتی ہے۔
ایکٹ تھری۔۔۔ سین چہارم
روشنی کے ان نئے جلائے گئے چراغوں کو مستقبل میں کئی آندھیوں اور طوفانوں سے ٹکرائو کے خطرات و خدشات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کی قومی سلامتی جمہوری استحکام میں مضمر ہے اور جمہوری عمل کی جڑوں کو مضبوط کرنے کیلئے محض سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ ہی مستقبل کے اندرونی و بیرونی خطرات و چیلنجز کے سامنے ڈھال کا کام نہیں دے سکتا۔
جمہوریت کے استحکام کیلئے ازبعد ضروری ہے کہ موجودہ تاریخی فیصلے کی روشنی میں قانونی اور آئینی رکاوٹوں کے دور ہو جانے کے بعد پاکستان کو علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے افکار اور ویژن کی روشنی میں ڈھالنے کیلئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر نہ صرف تمام سیاسی قوتیں بلکہ ہر پاکستانی بچہ بوڑھا مرد و زن ’’اتحاد‘ ایمان اور تنظیم‘‘ کی زنجیر کو مضبوطی سے تھام کر اپنے گھوڑے تیار رکھتے ہوئے پوری قوم ایک سیسہ پلائی دیوار بن جائے۔
اس عمل کا ایک اعلیٰ ترین نمونہ نظریہ پاکستان کی اصل روح کو پرانی اور نئی نسل کا ہر فرد مضبوطی سے تھام کر اس قافلے میںشریک ہو جائے جو ہر قسم کی سیاست اور انفرادی مفاد سے بالاتر ہو کر نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے عظیم قائد محترمی مجید نظامی کی رہنمائی میں پاکستان کو ملت اسلامیہ کی ایک ناقابل تسخیر قوت بنانے میں دن رات ہمہ تن مصروف کار ہیں۔