نگران حکومت آٹا مہنگا ہونے سے روکے: ڈاکٹر بلال صوفی

کالم نگار  |  محمد مصدق

روٹی کپڑا اور مکان، مانگ رہا ہے ہر انسان لیکن اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ جو پارٹی اس نعرے پر اقتدار میں آئی تھی اسی نے عوام کے لئے روٹی کو سب سے مہنگا کر کے غریب کے منہ سے آدھی روٹی چھین لی۔ حکومت جب جا رہی تھی تو سابقہ وزیراعظم کے آخری خطاب سے عوام کو اُمید تھی کہ جاتے جاتے کم از کم مصنوعی مہنگائی کا خاتمہ تو کرتی جائے گی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہلیکن نگران حکومت اگر چاہے تو سابقہ حکومت کے ان غلط فیصلوں کو واپس لے کر عوام پر سے مہنگائی کا بوجھ کم کر سکتی ہے۔ اس ضمن میں پاکستان فلور ملنگ ایسوسی ایشن کے سابقہ چیئرمین اور فاو¿نڈر گروپ کے سربراہ ڈاکٹر بلال صوفی نے نوائے وقت کو بتایا ”جب سابقہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے راتوں رات آٹا چھ سو روپے سے بڑھا کر ساڑھے دس سو روپے من کیا تو اس وقت حکومت نے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنی بھی پسند نہیں کی۔ عوام نے صبر شکر کیا اور اپنی روٹی آدھی کر دی جو پوری کھانا چاہتے تھے ان کی روٹی تنور اور ریستوران والوں نے وزن گھٹا کر اور قیمت بڑھا کر آدھی کر دی۔ لیکن سب سے بڑا ظلم سابقہ حکومت نے اپنے جانے سے کچھ عرصہ پہلے کیا اور ایک بار پھرسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کئے بغیر گندم کی قیمت نئی آنے والی فصل سے بارہ سو روپے کر دی۔ ذرا اندازہ لگائیں مشرف کے دور کے آغاز میں ساڑھے چار سو، آخری دور میں چھ سو اور آئندہ ماہ سے نئی فصل آنے پر بارہ سو روپے فی من قیمت ہو جائے گی جس سے غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ اقوام متحدہ کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی معاشی رپورٹ میں اس طرف خاص طور پر اشارہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی لکیر کے نیچے رہنے والوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔اب یہ الگ بات ہے کہ اقوام متحدہ غربت کی لکیر کا تعین مغربی معیار کے مطابق کرتا ہے اگر ہمارے معیار کے مطابق کرے تو غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کی شرح بہت کم ہے۔ ویسے اس ضمن میں بھارت کی مثال دلچسپ ہے جس نے غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کے بارے میں نئی تعریف وضع کرنے کے لئے ایک مشن قائم کیا جس نے غربت کی شرح کی نئی تعریف کی اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک دی کہ بھارت میں یکایک دو کروڑ سے زائد انسان راتوں رات غربت کی لکیر سے اوپر آ گئے ہیں۔محمد شہبازشریف کا یہ ایک کارنامہ ہے کہ گندم کی کمی کرنے کی بہت سی سازشیں ہوئیں لیکن سٹیک ہولڈرز سے بروقت مشورے کی وجہ سے گندم کے وافر ذخائر نئی فصل آنے سے پہلے بھی موجود ہیں۔ اس وقت پانچ لاکھ ٹن گندم باقی موجود ہے۔ نئی بمپر فصل میں بیس فیصد اضافہ ہے پنجاب کے لئے خریداری کا ٹارگٹ چالیس لاکھ ٹن مقرر کیا گیا ہے جو بہت مناسب ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ نگران حکومت سابقہ حکومت کے غلط فیصلے کی وجہ سے گندم بارہ سو روپے من خریدے گی تو صاف ظاہر ہے کہ بازارمیں آٹا فی کلو مہنگا ہو جائے گا جسے اگر نگران حکومت چاہے تو آسانی سے روک سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں فاو¿نڈر گروپ اور سٹیک ہولڈرز کی ایک میٹنگ نگران وزیراعلیٰ کے ساتھ کافی ہے ۔ صرف تین ارب روپے کی سبسڈی دینے سے عوام مزید مہنگائی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ دوسری طرف غربت سروے سے فائدہ اٹھا کر غریبوں کو سستے آٹے کے کوپن فراہم کر کے غریبوں کو نہ صرف دو وقت کی روٹی سستی فراہم کی جا سکتی ہے بلکہ مزید غریبوں کو غربت کی لکیر سے نیچے جانے سے بھی روکا جا سکتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ تنوروں اور ریستوران میں فروخت ہونے والی روٹی کی مانیٹرنگ کرے اس وقت معیاری وزن 150 گرام کی جگہ ستر گرام کی روٹی مہنگے داموں صارفین کو فراہم کی جا رہی ہے نگران حکومت کے لئے ضروری نہیں کہ وہ سابقہ حکومت کی غلطیوں کی اصلاح نہ کرے اور مہنگائی کو قابو کرنے سے انکار کر دے۔