مولانا فضل الرحمن ۔۔ مِینارِ پاکستان پر؟

کالم نگار  |  اثر چوہان

31 مارچ کو مختلف نیوز چینلوں پر، لاہور کے اقبال پارک (جو علّامہ محمد اقبالؒ کے نام سے منسوب ہے) مِینارِ پاکستان کے زیرِ سایہ، جمعیت عُلماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی ”اسلام زندہ باد کانفرنس“ کے مناظر دلچسپ تھے۔ سٹیج پر مولانا فضل الرحمن اور جمعیت عُلماءاسلام کے دوسرے اکابرین کے، کھِلے ہُوئے چہروں اور ہزاروں افراد کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ”مینارِ پاکستان“ پر مولانا فضل الرحمن کی ”اسلام زندہ باد کانفرنس“ 23 مارچ کو ہوتی تو، سونے پر سُہاگا ہوتا، لیکن اُس روز وہاں، پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کا جلسہ تھا۔ بہرحال مولانا فضل الرحمن نے کمال کر دیا۔ اِسی جگہ 23 مارچ 1940ءکو مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت، آل انڈیا مسلم لیگ نے قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کی صدارت میں ”اسلام زندہ باد کانفرنس“ منعقد کر کے مسلمانانِ ہند کے لئے الگ وطن، اسلام کی تجربہ گاہ، یا اسلام کا قِلعہ بنانے کا عہد کیا تھا اور صِرف 7 سال بعد اپنے اِس عہد کو عملی شکل بھی دے دی۔
ہمارے یہاں، روایت ہے کہ، جب بھی کوئی لیڈر، مینارِ پاکستان کے زیرِ سایہ، جلسہ¿ عام سے خطاب کرتا ہے تو وہ قیامِِ پاکستان کے سِلسلے میں مصّورِ پاکستان علّامہ محمد اقبالؒ اور بانی¿ پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہُوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے اور پاکستان کو، ایک فلاحی مملکت بنانے کے لئے تجدِید عہد کرتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنی تقریر میں کہا کہ ”مَیں مینارِ پاکستان پر، پاکستان کے عوام کو یہ یاد دلانے آیا ہُوں کہ 23 مارچ کو اِس مقام پر منظور کی گئی قرار داد کے مطابق، پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا“ ۔۔ مجھے دوسرے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، اور پرنٹ میڈیا پر مولانا کی تقریر کے "Clippings" سے تو پتہ نہیں چل سکا، لیکن ”نوائے وقت“ لاہور کے خصوصی رپورٹر کے مطابق، مولانا فضل الرحمن نے یہ بھی کہا کہ ”جو مُلک قائدِاعظمؒ نے ہمیں بنا کر دیا تھا، وہ آج ہمارے پاس نہیں ہے۔“ مولانا کے دہنِ مُبارک سے قائدِاعظمؒ کا نام نِکلا، مَیں بہت خوش ہُوا۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ، پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور قائدِاعظمؒ پاکستان کو ایک مثالی، اسلامی، جمہوری اور فلاحی مملکت بنانا چاہتے تھے، لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ جب آل انڈیا مسلم لیگ، قائدِاعظم کی قیادت، میں مصّورِ پاکستان علّامہ محمد اقبالؒ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے، مسلمانوں کی اسلامی ریاست کے قیام کے لئے، جدوجہد کر رہی تھی، تو اُس دور کے مذہبی رہنماﺅں، خاص طور پر، جمعیت عُلمائے ہند کے، اکابرین کی اکثریت نے، اپنا سارا وزن، ہندوﺅں کی جماعت، انڈین نیشنل کانگریس کے پلڑے میں کیوں ڈال دیا تھا؟ علّامہ اقبالؒ اور قائدِاعظمؒ کے خلاف کُفر کے فتوے کیوں دئیے تھے؟ وہ ہندوﺅں اور مسلمانوں کو ایک قوم قرار دے کر ”قوم پرست عُلمائ“ کیوں کہلاتے تھے؟ اور گاندھی جی کو اپنا رہبر و رہنما کیوں تسلیم کر لیا تھا۔ مولانا فضل الرحمٰن اور مولانا سمیع اُلحق کی قیادت میں، جمعیت عُلماءاسلام کے دونوں گروپ، اُسی جمعیت عُلمائے ہند کی یادگار ہیں۔ قیامِ پاکستان سے چند روز قبل مولانا غلام غوث ہزاروی کی صدارت میں، لاہور کے جلسہ¿ عام میں (جِس میں مولانا فضل الرحمن کے والد، مولانا مفتی محمود بھی موجود تھے) مولانا مظہر علی اظہر (المعروف مولانا اِدھر علی اُدھر) نے قائدِاعظم ؒ کو کافرِ اعظم کہا تھا، مولانا مفتی محمود کا یہ بیان، ریکارڈ پر موجود ہے کہ ”خُدا کا شُکر ہے کہ ہم، پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے“۔ خود مولانا فضل الرحمن کا 1993ءمیں ایک قومی اخبار کے سنڈے میگزین میں انٹرویو چھپا تھا، جِس میں موصوف نے کہا تھا کہ ”قائدِ اعظم ؒ کوئی پِیغمبر نہیں تھے کہ اُن پر تنقید نہیں کی جا سکتی۔“
اِس لحاظ سے (اگر واقعی) مولانا فضل الرحمن نے، قائدِاعظمؒ کو خراجِ عقیدت پیش کِیا ہے تو، یہ خوش آئند بات ہے اور میں مولانا کی خدمت میں سلام پیش کرتا ہوں۔ مولانا نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا جیسا کہ وہ اس سے پہلے اپنی ”اسلام زندہ باد“ کانفرنس میں کہتے رہے ہیں کہ ”ہندو اب بھی ایک قوم ہیں، لیکن بر صغیر کے مسلمانوں کو تین حِصّوں (یعنی ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش) میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔“ اِس کا کیا مطلب یہ ہُوا کہ مولانا اب بھی، تقسیمِ ہند کو، دِل سے تسلیم نہیں کرتے۔ 28 اپریل 1997ءکو قومی اخبارات میں، مولانا فضل الرحمن کا بیان شائع ہُوا، جِس میں انہوں نے فرمایا تھا ”پاکستان ایک خوبصورت نام ہے، لیکن طاغوتی (شیطانی) نظام کے باعث مجھے اِس نام سے گھِن آتی ہے۔ حیرت ہے کہ اِسی ”طاغوتی نظام“ کے تحت مولانا مفتی محمود (مرحوم) صوبہ سرحد کے وزیرِ اعلیٰ رہے اور مولانا فضل الرحمن نے بھی اِس ”طاغوتی نظام“ کا حِصّہ بن کر، ہر دور میں سیاسی ، سماجی اور معاشی ترقی کی۔
جمعیت عُلماءاسلام کے ہی، مولوی فیروز خان نے، 27 اپریل 1997ءکو لاہور میں ”شریعت کانفرنس“ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”محمد علی جناحؒ نے دِین کے لئے، ایک ٹکے کا کام نہیں کیا۔“ مولانا فضل الرحمن نے صدر زرداری سے ”خصوصی تعاون“ کر کے اپنے لئے کشمیر سے متعلق خصوصی کمیٹی کی چیئرمین شِپ حاصل کی، لیکن انہوں نے بھی، مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ”ٹکے کا کام نہیں کیا۔“ مولانا فضل الرحمن دارالعلوم دیوبند کی تقریبات میں شرکت کے لئے تشریف لے جاتے رہے ہیں۔ اگست 2006ءمیں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولوی مرغوب الحسن نے (جو شاید آں جہانی ہو چکے ہیں) ممبئی کے ایک اخبار کو، انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا ”محمد علی جناحؒ شراب پیتے تھے اور نماز نہیں پڑھتے تھے۔ مَیں انہیں مسلمان نہیں سمجھتا۔“
قائدِاعظمؒ نے، کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، ذوالفقار علی بھٹو کشمیر کازکے چیمپئن بن کر ہی پنجاب میں مقبول ہُوئے تھے، لیکن اُن کے ”رُوحانی فرزند“ جناب آصف زرداری نے، صدارت کا منصب سنبھالتے ہی کہا تھا کہ ”کیوں نہ مسئلہ کشمیر، 30 سال کے لئے Freeze (منجمد) کر دیا جائے۔“ کوئی سیاسی لیڈر قائدِاعظمؒ کا نام استعمال کرے یا ذوالفقار علی بھٹو کا، بے شک مینارِ پاکستان پر، عوام کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے خطاب کرے، مفلوک اُلحال عوام کو اِس سے کوئی غرض نہیں، عوام تو اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں، لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مولانا فضل الرحمن محض لچھے دار تقریریں کر کے اگر قومی یا صوبائی اسمبلیوں میں 50/40 نشستیں حاصل کر کے اور کسی بھی اکثریتی پارٹی سے Give and Take کر بھی لیں تو وہ مروجہ ”طاغوتی نظام“ کو کیسے تبدیل کریں گے؟ بہرحال غنیمت یہ ہے کہ انہوں نے مینارِ پاکستان کے زیرِ سایہ ”اسلام زندہ باد کانفرنس“ کا انعقاد کیا۔
”یہاں تک تو پہنچے، یہاں تک تو آئے“
 اگر مولانا فضل الرحمن انتخابات سے پہلے ایک ”اسلام زندہ باد کانفرنس“ قائدِاعظم کے مزار کے زیرِ سایہ بھی منعقد کرکے، قائدِاعظمؒ کی عظمت کو تسلیم کر لیں تو یقیناً اُن کے ووٹ بنک میں اضافہ ہو گا۔ میرے وسائل اتنے زیادہ نہیں ہیں لیکن مَیں اُن کی خدمت میں، بطور ہدیہ، دو لاکھ روپے کے کرنسی نوٹ بھی پیش کروں گا، جن پر قائدِاعظمؒ کی تصویر چھپی ہوتی ہے۔