لاہور کے انتخابی معرکے

کالم نگار  |  فرخ سعید خواجہ

صوبائی دارلحکومت لاہور کا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 118 ون اور اس کے ذیلی صوبائی حلقے پی پی 137 لاہور ون اور پی پی 138لاہور ٹو شاہدرہ سے راوی روڈ مینار پاکستان تک پھیلی ہوئی آبادیوں پر مشتمل حلقے ہیں۔ اس حلقہ انتخاب سے نواز شریف، شہباز شریف، ہمایوں اختر خان، میاں محمد اظہر، جنرل (ر) ایم ایچ انصاری، پر محمد اشرف اور حافظ سلمان بٹ رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ ہمایوں اختر خان 1990ءمیں آئے جے آئی کی ٹکٹ پر پیپلز پارٹی کے رفیق احمد شیخ کو شکست دے کر منتخب ہوئے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف کے موجودہ لیڈر میاں محمد اظہر نے 1997ءمیں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر مسلم لیگ ج کے امیدوار میاں محمود احمد کو شکست دی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میاں محمود احمد بھی اب پاکستان تحریک انصاف میں ہیں اور اس مرتبہ بھی این اے 118 سے الیکشن لڑنے کے خواہاں ہیں جبکہ میاں اظہر کے صاحبزادے بیرسٹر حماد اظہر بھی این اے 118 سے تحریک انصاف کی ٹکٹ کے خواہاں ہیں۔ 1990ءمیں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر یہاں سے ایم این اے منتخب ہونے والے ہمایوں اختر خان اب مسلم لیگ ہمخیال کے سیکرٹری جنرل ہیں لیکن ان کی خواہش ہے کہ مسلم لیگ ن انہیں یہاں سے الیکشن لڑوائے۔ مسلم لیگ ن کے الیکشن 2008ءمیں کامیاب ہونے والے یہاں سے رکن قومی اسمبلی حاجی ملک ریاض اس مرتبہ بھی مسلم لیگ ن کی ٹکٹ کے خواہاں ہیں وہ 1997ءمیں ذیلی صوبائی حلقے سے رکن پنجاب اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے اپنی طے شدہ حکمت عملی کے مطابق لاہور سے اپنے امیدواروں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے بلکہ ایک ایک لیڈر یا سابق رکن قومی اسمبلی کو کئی کئی حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی ہدایت کی ہے اور فیصلہ یہ ہے کہ مخالف امیدوار کو دیکھ کر پارٹی کا امیدوار مقابلے پر اتارا جائے گا۔ اس حکمت کے تحت این اے120 سے سبکدوش ہونے والے رکن قومی اسمبلی بلال یٰسین اور این 121 سے سبکدوش ہونے والے رکن قومی اسمبلی میاں مرغوب احمد نے بھی این اے 118سے کاغذات داخل کروائے ہیں۔ سابق صوبائی وزیر میاں مجتبیٰ شجاع نے بھی قیادت کے حکم پر اس حلقے سے کاغذات داخل کروائے ہیں۔ این اے 118 سے استقلال پارٹی کے سربراہ سید منظور علی گیلانی امیدوار ہیں۔ پیپلز پارٹی نے یہاں سے اپنے پچھلے امیدوار سید آصف ہاشمی کو دوبارہ میدان میں اتارا ہے ان کے کورنگ امیدوار ان کے صاحبزادے فراز آصف ہاشمی ہیں۔ جمعیت علماءپاکستان کے مولانا بشیر نظامی اور متحدہ قومی موومنٹ کے میاں سرفراز وٹو، جماعت اسلامی لاہور کے امیر میاں مقصود احمد، جمعیت علماءاسلام کے حافظ عبدالودود شاہد نمایاں امیدوار ہیں۔حافظ عبدالودود شاہد نے اس حلقہ انتخاب سے الیکشن 2002ءمیں 2728 ووٹ لئے تھے۔ ان امیدواروں سمیت لگ بھگ 27امیدوار میدان میں ہیںتاہم سکروٹنی اور کاغذات نامزدگی واپس لئے جانے کے بعد 17اپریل کو صورت حال واضح ہوئی کہ کون کون سا سیاسی پہلوان پنجہ آزمائی کے لئے میدان میں موجود ہے۔این اے 118 کے ذیلی صوبائی حلقے 137 سے 40امیدواروںنے کاغذات نامزدگی داخل کروائے ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی پی 137 سے سبکدوش ہونے والے مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کروائے ہیں۔ البتہ ان کے بھائی رانا نصر اقبال نے کاغذات جمع کروائے ہیں۔ این اے 118 کے ایم این اے ملک محمد ریاض نے البتہ پی پی 137 میں بھی کاغذات داخل کروا رکھے ہیں۔ پی پی 139 سے سبکدوش ہونے والے رکن پنجاب اسمبلی خواجہ عمران نذیر نے بھی اس حلقے سے بھی کاغذات داخل کروائے ہیں۔مسلم لیگ ن کے ایک سینئرکارکن ماجد ظہور بھی یہاں سے امیدوار ہیں۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق کی سیٹ ایڈجسٹ منٹ کے باعث یہاں سے مسلم لیگ ق لاہور کے صدر یوسف احد ملک نے کاغذات داخل کئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے میاں محمود احمد، جماعت اسلامی کے علی عمران، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے حافظ عبدالغفور، متحدہ قومی موومنٹ کے ذوالقرنین تاج نمایاں ہیں۔این اے 118 کے ذیلی صوبائی حلقے پی پی 138 سے سبکدوش ہونے والے رکن اسمبلی ڈاکٹر اسد اشرف نے کاغذات داخل کروائے ہیںلیکن ان کے ساتھ ساتھ یہاں سے مسلم لیگ ن ریاض ملک، خواجہ عمران نذیر، الحاج قیصر امینبٹ سابق رکن پنجاب اسمبلی، عمران گورایا، توصیف شاہ، تحریک انصاف کے عمر میر، پیپلز پارٹی کے آصف ہاشمی اور فراز ہاشمی نمایاں ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 118، پی پی 137 اور پی پی 138 میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے متذکرہ بالا تمام امیدواروں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سے بیشتر اس حلقہ انتخاب کے رہائشی ہیں اور کسی نہ کسی جماعت کے پلیٹ فارم سے نمایاں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ تاہم موجودہ سیاسی صورت حال میں یہاں کے ووٹر انکے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں وہ آنے والا وقت بتائے گا۔ بظاہر اس حلقہ انتخاب میں مسلم لیگ ن کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق مل کر معجزہ دکھانے کی دعویدار ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ سونامی سابق چیمپئنز کو بہا لے جائے گا۔ دعوے اور خواہشیں اپنی جگہ اپریل کے تیسرے ہفتے میں جب امیدواروں کی حتمی فہرست سامنے آ جائے گی اس وقت انتخابی معرکوں کے حوالے سے تبصرہ کیا جا سکے گا۔