مضر صحت معاشرہ....

مضر صحت معاشرہ....

ایک ہسپتال کی چھت گر گئی۔ بہت سا میڈیکل عملہ ہلاک ہو گیا۔ ایک ڈاکٹر بچ گیا۔گھر پہنچا تو بیوی نے گھبرا کر کہا” شکر ہے آپ بچ گئے۔ڈاکٹر نے کہا“ میں سگریٹ پینے کے لئے آفس سے باہر نکل گیا تھا۔ چھت گر گئی۔ بہت سا عملہ دب کر مر گیا۔دوسرے روز بیوی نے ٹی وی پر خبر سنی کہ وزیراعلی نے مرنے والوں کے گھر والوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ بیوی نے ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول شوہر کے منہ پر مارتے ہوئے کہا ”ہزار بارمنع کیا ہے سگریٹ مت پیا کرو۔ مت پیا کرو مت پیا کرو.... لطیفہ دلچسپ اور حقیقت پر مبنی ہے۔ اس سے سگریٹ نوشی کا ایک سنجیدہ مسئلہ یاد آ گیا۔ پاکستانی ڈراموں میں سگریٹ نوشی کے مناظر دکھاتے وقت سکرین پر “سگریٹ نوشی صحت کے لئے مضر ہے “ کا جملہ لکھا جاتا ہے۔ لیکن شراب نوشی کی بوتلیں اور مناظر دکھاتے وقت “شراب نوشی صحت کے لئے مضرہے “ نہیں لکھا جاتا ؟ سگریٹ نوشی صحت کے لئیے مضر ہے تو شراب نوشی صحت کے لئے آب حیات ہے؟ پاکستانی ڈراموں میں شراب نوشی کے سین اس کثرت سے دکھائے جاتے ہیں جیسے شراب نوشی پاکستانی گھرانوں کا معمول ہو؟ سگریٹ نوشی معیوب اور حرام نہیں سمجھی جاتی لہذا معمولی اور معمول سمجھی جاتی ہے لیکن شراب نوشی کواسلام میں حرام سمجھنے کے باعث پاکستانی معاشرے میں معمولی اور معمول نہیں سمجھا جا سکتا۔ لیکن پاکستانی فلموں اور ڈراموں میں اس کو معمول ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شراب کے مناظر کو سگریٹ نوشی سے کم اہم یا کم نقصان دہ کیوں ثابت کیا جا رہا ہے؟ ٹی وی ڈراموں میں شراب نوشی کی حوصلہ افزائی لمحہ فکریہ ہے۔پاکستانی ڈراموں سے متعلق کہنے اور لکھنے کو بہت مواد ہے لیکن یہاں ہم شراب اور سگریٹ کے علاوہ نکاح اور طلاق کے مضر صحت ہونے کی جانب توجہ دلانا چاہتے ہیں جو آج کل کے ٹی وی ڈراموں میں بڑی بے شرمی سے دکھایاجاتاہے۔شراب کی رنگ برنگ بوتلیں اور شراب نوشی کے مناظر میں افسوسناک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔جبکہ ٹی وی جیسی گھریلو سکرین پر ایسے مناظر دکھاتے وقت ”شرفا کا دیکھنا ممنوع ہے“ لکھ دیا جائے تو میڈیا کی حجت پوری ہو جائے۔پاکستان میں گزشتہ دس پندرہ برسوں میں بہت بھیانک تبدیلی آئی ہے۔ نجی تفریحی ٹی وی چینلز کی ضرورت کے پیشِ نظر اب ہر سال سینکڑوں ڈرامے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان ڈراموں کی کہانیاں زیادہ ترعورتوں کے گرد گھومتی ہیں لیکن کیا یہ ڈرامے عام پاکستانی عورت کی زندگی اور اس کی مشکلات کی عکاسی کرتے ہیں؟
ڈرامہ نگاروں کا دعویٰ ہے کہ وہ معاشرے میں موجود کہانیوں سے متاثر ہو کر لکھتے ہیں لیکن کسی طبقے کی عورت خود کو ان کہانیوں سے قریب محسوس نہیں کرتی۔ ہماری عورت چاہے گھر میں ہو اس پر بڑی ذمہ داریاں ہیں۔گھر، بچے، شوہر، اگر جوائنٹ فیملی ہے تو پوری فیملی.... وہ اُن سب کو لے کے چلتی ہے لیکن اس میں اگر ساس بہو کا کردار بھی دکھایا جاتا ہے تو ساس بہو بھی ویسی نہیں ہوتیں جیسی عام زندگی میں ہوتی ہیں لیکن ڈراموں میں شاید ریٹنگ کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔ بعض ڈرامے ثقافت اور مذہب دونوں سے بہت دور ہوتے ہیں جس میں شادی، طلاق اور حلالہ کے طریقے بہت غلط دکھاتے جاتے ہیں جس سے نئی نسل کے ذہنوں پر برا اثر پڑرہاہے۔ وہ سمجھتے ہیں شادی کرنا، چھوڑنا اور واپس مل جانا آسان ہے۔ ڈراموں میں عام دکھایا جانے لگا ہے۔ فقط سگریٹ اور شراب ہی مضر صحت نہیں، بے ہودہ ڈرامے بھی پاکستانی معاشرہ کے لئے مضر ہیں۔ معاشرہ بیمار ہوتا جا رہا ہے۔ دس پندرہ برس پہلے تک عارضی طور پرخفیہ نکاح جرم تصور کیا جاتا تھا لیکن جب سے نجی ٹی وی چینلز پر ڈراموں کی گھٹیا سیل شروع ہوئی ہے نکاح، طلاق، حلالہ جیسی کہانیاں دکھائی جا رہی ہیں۔ والدین بچوں کو یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجتے ہیں۔ ہوسٹل کے اضافی اخراجات برداشت کرتے ہیں اور الاماشااللہ نوجوان نسل عارضی سٹوڈنٹ لائف انجوائے کرنے کے لئے دین کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ نوجوان نسل ہی نہیں الاماشااللہ شادی شدہ ٹیچر پروفیسر پرنسپل وغیرہ بھی اپنی طالبات سے عارضی خفیہ نکاح کر لیتے ہیں۔ جب پڑھائی کا بہانہ ختم ہو جاتا ہے اور والدین لڑکیوں کی شادی کرنا چاہیتے ہیں تو ایسی لڑکیاں خفیہ طلاق لے کر گھر والوں کی مرضی سے اصل شادی کرتی ہیں۔ ڈرامہ رائٹرز کہتے ہیں کہ وہ ایسی کہانیوں سے معاشرے کے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بے راہ روی کو نکاح جیسے مقدس رشتے کا نام دینے کا مضرکلچر نجی ڈرامہ پروڈکشن کمپنیوں کا پھیلایا ہواکینسر ہے۔بے راہ روی کا ہی نتیجہ ہے کہ نئی نسل کو صحت کے مسائل بھی درپیش ہیں۔ پاکستانی ڈراموں سے یہی تاثر ملتا ہے جیسے شراب اور عورت پاکستانی مرد کی کمزوری ہے اور اس معاشرے میں عام میسر ہیں۔مزید ظلم یہ کہ مذہب اسلام میں نکاح اور طلاق کے غیر سنجیدہ استعمال کو معیوب نہیں سمجھا جا رہا۔ پاکستانیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ اس مضر صحت معاشرہ کا انجام کیا ہوگا؟ نکاح کی آڑ میں بے راہ روی کے کلچر کی حوصلہ افزاءکی ذمہ داری کس کے سر تھوپی جائے؟ نکاح طلاق حلالہ کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے مسلمانوں کے لئے باعث ندامت ہے۔ پاکستانی ڈراموں کے غیر مسلم شائقین چبھتے ہوئے سوال کرتے ہیں۔ تضحیک کرتے ہیں۔ سگریٹ و شراب سے بھی زیادہ مضر صحت سین دکھائے جا رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭