ظفر الملّت مولانا ظفر علی خان…مینارۂ نور

کالم نگار  |  نعیم احمد
ظفر الملّت مولانا ظفر علی خان…مینارۂ نور

آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام سے لے کر قیامِ پاکستان تک مسلمانانِ ہند کی جدوجہد آزادی کے ہر مرحلے پر مولانا ظفر علی خان کے لافانی کردار کی اتنی گہری چھاپ نظر آتی ہے کہ ان کے تذکرے کے بغیر تحریک پاکستان کی تاریخ مرتب کرنا ممکن نہیں۔ اِن کی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت تھی۔ وہ ہمہ صفت موصوف تھے۔ اللہ رب العزت نے انہیں جس قدر صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا تھا‘ سب کی سب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حبیب کریم حضرت محمد مصطفیﷺ کی امت کی بیداری اور آزادی کے لئے جدوجہد میں صرف کردیں۔ ان کا سب سے عظیم وصف عاشقِ رسولؐ ہونا تھا۔ وہ ہمہ جہت شخصیت تھے اور ان تمام جہتوں کا محور و مرکز خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیﷺ کی ذات عالیشان تھی۔ ان کا فکر و عمل خود اپنے ہی مندرجہ ذیل شعر کی تفسیر بن چکا تھا ؎
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
وہ ایک قادر الکلام شاعر تھے جس کے مرکزی نکات توحید باری تعالیٰ‘ عشقِ رسول کریمﷺ اور دین اسلام کے آفاقی نظریات تھے۔ آپ نے ختم نبوت کی منکرقادیانیت کی بیخ کنی کے لئے اپنی زبان و قلم کو برہنہ شمشیر کی مانند استعمال کیا اور قادیانیوں کی اصلیت بے نقاب کرنے کی خاطر ’’ارمغان قادیان‘‘تحریر کی۔
جرأتِ ایمانی سے لبریز اس بلند مرتبہ انسان نے اُس دور میں برطانوی سامراج کو للکارا جب اس کی سلطنت میںسورج کہیں غروب نہیں ہوتا تھا۔ اس جرأت کی پاداش میں زندگی کے بیش قیمت 12برس پس زنداں بسر کئے تاہم ان کے پائے استقامت میں کبھی لغزش نہ آئی۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ بھی ان کی اس اولوالعزمی‘ عزیمت اور راست گوئی کے معترف تھے۔ چنانچہ ایک بار فرمایا: ’’مجھے پنجاب میں ظفر علی خان جیسے ایک دو بہادر آدمی دے دو تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پھر مسلمانوں کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔‘‘ بے شک! وہ بابائے قوم کے معتمد ترین ساتھی تھے۔ جب تحریک پاکستان عروج پر تھی تو ان کی شعلہ بیانی بھی عروج پر تھی تاہم آفرین ہے ان پر کہ جوش خطابت میں بھی شائستگی کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیا اور اپنی تحریر و تقریر میں برصغیر کی غیر مسلم اقوام کو ہمیشہ عزت و احترام سے ’’برادرانِ وطن‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ ان کی زیر ادارت روزنامہ ’’زمیندار‘‘ برطانوی سامراج کی مسلمان دشمن پالیسیوں کا شدید ناقد تھا اور کانگریس‘ ہندو مہاسبھائیوں اور ہندو پریس کے زہریلے پراپیگنڈے کا بھی منہ توڑ جواب دیتا تھا۔ اس کے علاوہ وطن پرستی کے سراب میں مبتلا کانگریسی مسلمانوں کی سوچ اورچالبازیوں سے عام مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کی خاطر بھی نہایت بیباکی سے سرگرم عمل رہا۔آل انڈیا مسلم لیگ اور تصورِ پاکستان سے ان کی وابستگی کا یہ عالم تھا کہ جب 1945-46ء کے تاریخ ساز انتخابات منعقد ہوئے تو ان کی عمر 75سال تھی۔ اس پیرانہ سالی میں اُنہوں نے لاہور سے مرکزی اسمبلی کا انتخاب لڑاتاہم جذبۂ ایثار کی وجہ سے ان کا زیادہ تر وقت دیگر مسلم لیگی اُمیدواروں کے انتخابی حلقوں میں گزرتا تھا۔اپنے حلقۂ انتخاب سے اس غیر حاضری کے باوجود ان کے مدمقابل کانگریس اور مجلس احرار اکا مشترکہ اُمیدوار کے ایل گابا اپنی ضمانت ضبط کروا بیٹھا۔ ضعیف العمری میں سخت محنت کے باعث ان کے قویٰ مضمحل ہورہے تھے مگر آزادی کیلئے ان کی تڑپ اور جذبہ قابل دید اور قابل تقلید تھے۔ مسلسل مسافرت کی مشقت نے ان کی عمومی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کئے اور بالآخر 1946ء کے اختتام پر وہ ٹائیفائڈ میں مبتلا ہوگئے۔ اس سے جان چھوٹی تو فالج کے موذی مرض نے آن گھیرا۔ چنانچہ اُن کی زبان میں لکنت پیدا ہوگئی‘ بدن پر رعشہ طاری ہونے لگا اور یادداشت جو پہلے قابل رشک تھی‘ اب ساتھ چھوڑنے لگی۔ خرابیٔ صحت کے باعث ان کی سماجی مصروفیات بے حد محدود ہوگئیں۔ مارچ 1948ء میں پنجاب یونیورسٹی نے ’’آل پاکستان اُردو کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا۔ 26مارچ کو شب آٹھ بجے مولانا ظفر علی خان نے اپنا مقالہ بعنوان ’’عہد حاضر اور اُردو‘‘ پیش کیا۔ سٹیج پر بابائے اُردو مولوی عبدالحق‘ سر شیخ عبدالقادر اور سردار عبدالرب نشتر جیسی نابغۂ روزگار ہستیاں تشریف فرما تھیں۔ مولانا ظفر علی خان نے اپنے پُر مغز مقالے میں اپنی طویل سیاسی و صحافتی زندگی کے نشیب و فراز کی روداد بڑے دلگداز لہجے میں پیش کرتے ہوئے کہا: ’’ہمارا قافلہ منزل مقصود پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے بعد تمنائے راہ پیمائی تو ہے لیکن قوتِ راہ پیمائی نہیں رہی۔ کام کرنے کو جی چاہتا ہے لیکن ہاتھ جواب دے چکے ہیں۔ دل میں جذبات تو ہیں لیکن ان کے لیے عمل و حقیقت کا جامہ نہیں ملتا۔ اب راستے میں بیٹھ کر چلنے والوں کی برق رفتاری کا تماشا دیکھنے کے قابل رہ گئے ہیں۔ تماشا بھی اُن لوگوں کا دیکھتے ہیں جو ہمیں عہدِ ماضی کی یادگار سمجھ کر تماشا سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو تماشائی۔ اس میں شک نہیں کہ بُوڑھے عصر حاضر کے معمار ہیں لیکن جس طرح عمارت مکمل ہوجانے کے بعد معمار کو نکال دیا جاتا ہے‘ اسی طرح اگر عصر حاضر پکارنے لگے کہ ’’اب تمہاری کوئی ضرورت نہیں‘‘ تو ہم کوئی جواب نہ دے سکیں گے۔ دُنیا چڑھتے ہوئے سورج کی پرستش کرتی ہے۔ ڈوبتے ہوئے آفتاب کو کون پوچھتا ہے اور ہم تو ڈوبتے ہوئے ستارے کی طرح دنیا پر نظر ڈال رہے ہیں۔ پھر سورج کے مقابلے میں ہمیں کب جگہ ملے گی۔ با ایں ہمہ‘ کبھی ہم بھی رزم گاہِ ہستی میں مصروف پیکار تھے۔ ہم نے بھی اس خاموش دنیا میں ہنگامے کی رُوح پُھونکی تھی۔ عہد حاضر کے نقش و نگار میں کچھ ہمارے قلم کا حصہ بھی ہے۔ اس گلستان کے چند پھولوں نے ہمارے خون سے بھی سرخی حاصل کی ہوگی۔ اس صحرا کی ہنگامہ آرائی میں ہمارا جنون بھی کار فرما رہا ہے۔ اس لیے اگر ہم کچھ کہیں تو عزیزان ملت! پُرانے زمانے کی راگنی نہ سمجھیں‘ ٹوٹے ہوئے ساز کا اُلجھا ہوا نغمہ خیال نہ کریں اور پھر یہ کہہ کر کانوں میں انگلیاں نہ ٹھونس لیں کہ ؎
اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو
جو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہیں‘‘
نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ہر سال باقاعدگی کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے اس بے لوث ساتھی کی برسی پر خصوصی نشست کا اہتمام کرتا ہے جس میں نہ صرف ان کی ملی و قومی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے بلکہ وطن عزیز کے معروف نعت خواں حضرات ان کا حمدیہ و نعتیہ کلام بھی حاضرین کے ذوقِ سماعت کی نذر کرتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی ان کی 61ویں برسی کے سلسلے میں ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی جس کے شرکاء کے نام اپنے پیغام میں تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترم محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ تحریک پاکستان میں ان کا بے مثال کردار ہماری قومی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کو ایک عوامی جماعت بنانے اور اس کی تنظیم ساری کیلئے اُنہوں نے برصغیر کے دُور دراز علاقوں کا سفر طے کیا۔
نشست میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے چیئرمین خالد محمود اور سیکرٹری راجہ اسد علی خان‘ روزنامہ جرأت اور تجارت کے ایڈیٹر انچیف جمیل اطہر اور پروفیسر ڈاکٹر پروین خان نے بھی اظہارِ خیال کیااور مولانا ظفر علی خان کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالی۔نشست کی نظامت کے فرائض نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری جناب شاہد رشید نے بڑی عمدگی سے نبھائے۔