کوئی مِثل مصطفےٰ کا کبھی تھا، نہ ہے نہ ہو گا۔۔۔۔

کوئی مِثل مصطفےٰ کا کبھی تھا، نہ ہے نہ ہو گا۔۔۔۔

اللہ تعالی کا فرمان مبارک ہے”کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے خاندان اور مال جو تم نے کمایا ہے اور تجارت جس کے گر جانے کا تمہیں اندیشہ ہے اور مکانات جو تمہیں پسند ہیں، اگر یہ ساری چیزیں تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر کر دے۔ نبی کریم نے فرمایا “ تم میں کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا،جب تک میں اس کے نزدیک اس کے باپ اس کے بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاﺅں“ اور آجکل کے “عاشقوں “سے اللہ کی پناہ۔ عاشق رسول کہنا یا کہلانا بڑی دلیری کی بات ہے۔ بہت بڑا دعویٰ ہے، خود کو آقا کاعاشق کہلانے کے لئے بڑی جرا¿ت چاہئے۔ خود کو صوفی اور عاشق سمجھنے اور کہلانے والے حلیہ بھی ویسا بنا لیتے ہیں۔ ماہ مقدس ربیع الاول عاشقوں کی کمائی کا مہینہ ہے۔ جتنا بڑا عاشق ہوگا اس کا ریٹ بھی اتنا زیادہ ہوگا۔ ”ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں “۔ نعت خوانی اور میلاد شریف میں اکثر عاشق قرینہ محبت بھول جاتے ہیں۔ نعت گوئی میں گستاخ اشعار کومحبت کا نام دیتے ہیں۔

نعت گوئی کو شاعری کا نگینہ کہا گیاہے۔ لیکن یہ مشکل ترین صنف سخن ہے۔ کیونکہ اس میں ایسی شخصیت کی ثناخوانی کرنی ہے جو خیر البشر ہے۔ جس کا کوئی ثانی ازل تا ابد پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس لئے نعت گوئی میں بے حد احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
نعت گوئی کا آغاز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ ہی میں ہو گیا تھا۔ اس دور میں حسان بن ثابت جیسے با کمال نعت گو پیدا ہوئے۔ نعت گوئی عربی سے فارسی اور پھر اردو زبان میں آئی۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ عربی کے بعد سب سے زیادہ نعتیں اردو میں لکھی گئی ہیں اوریہاں نعتوں کا بہت بڑا سرمایہ موجود ہے۔گو یہ کہنا مشکل ہے کہ نعت خوانی کا آغاز کب ہوا تھا لیکن روایات سے پتا چلتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا ابوطالب نے پہلے پہل نعت کہی۔ اردو کے مشہور نعت گو شاعر فصیح الدین سہروردی کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا ابوطالب اور اصحاب میں حسان بن ثابت پہلے نعت گو شاعر اور نعت خواں تھے۔اسی بناءپر ا±نہیں شاعرِ دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی کہا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ کعب بن زہیر اورعبداللہ ابن رواحہ نے ترنم سے نعتیں پڑھیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود کئی مرتبہ حسان بن ثابت سے نعت سماعت فرمائی۔ حسان بن ثابت کے علاوہ بھی ایک طویل فہرست ہے ا±ن صحابہءکرام کی، جنہوں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعتیں لکھیں اور پڑھیں۔ جب حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ سے ہجرت فرما کر مدینے تشریف لائے تو آپ کے استقبال میں انصار کی بچیوں نے دف پر نعت پڑھی،آقا صلی اللہ وسلم پر کروڑوں درود و سلام۔۔۔ حضرت امیر خسرو کے حسین اشعار
نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم
بہ ہر سو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم
نہیں معلوم تھی کیسی وہ منزل، شب جہاں میں تھا
ہر اک جانب بپا تھا رقصِ بسمل، شب جہاں میں تھا۔
علامہ اقبال کا ہدیہ عقیدت۔
لَوح بھی ت±و قَلَم بھی ت±و، تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہءرنگ تیرے محیط میں حباب،المختصر۔
کوئی مِثل، مصطفےٰ کا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہو گا
کسی اور کا یہ ر±تبہ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہو گا۔
٭٭٭٭٭