بلھے شاہ والا ”حشر عذاب“ کا در، اب کھل چکا ہے

کالم نگار  |  نصرت جاوید
بلھے شاہ والا ”حشر عذاب“ کا در، اب کھل چکا ہے

لاہور سے نارووال تک جاتی سڑک کے درمیان دریائے راوی کے کنارے ایک پرشکوہ عمارت ہے۔ یہ سکھ مذہب کے بانی گورونانک کی آخری آرام گاہ ہے۔ وہاں جانے کا اتفاق ہو تو آپ حیران ہوجائیں گے۔ طے ہی نہیں کرپائیں گے کہ گورونانک کی قبر ہے یا سمادھی۔ بہرحال دونوں ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ اصولی طورپر نہ تو قبر ہے نہ سمادھی۔ بس ایک یادگار ہے۔

روایت ہے کہ گورونانک کا انتقال ہوا تو بحث چھڑ گئی کہ وہ مسلمان تھے یا ہندو، موصوف کی تدفین کس مذہب کی روایات کے مطابق ہو۔ تین دنوں تک چلی بحث کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو پایا۔ دریں اثناءایک فقیر کا وہاں سے گزر ہوا۔ اس نے نہایت عاجزی سے بحث میں مبتلا لوگوں سے فریاد کی کہ چادر اُٹھاکر دیکھ لیا جائے کہ ”مردہ“ کس حالت میں ہے۔ کہانی کے مطابق چادر ہٹائی گئی تو چارپائی پر پھولوں کا ایک ڈھیر نظر آیا۔ اسے دو حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ ایک حصہ قبر بناکر اس میں ڈال دیا گیا۔ دوسرے کو جلا کر سمادھی میں دبا دیا گیا۔
گورونانک کے پیروکار بعدازاں سکھ کہلائے۔ بانی ان کے مسلک کا اپنی ذات کے لئے مرتے دم تک کوئی مذہبی تخصیص طے نہ کرپایا۔ سکھ مذہب کے پیروکار مگر مغل دشمنی میں متشدد ہوتے چلے گئے۔ بعدازاں افغان حملہ آوروں سے جنگیں شروع ہوگئیں۔ بلھے شاہ کو پنجاب کا حال ”بُرا“ ہوا محسوس ہوا۔ سکھ اور مسلمان دو متحارب گروہ بن گئے۔ ایک دوسرے کی جان کے درپے۔ 1849ءمیں پنجاب پر قبضے کے بعد انگریزوں نے بالآخر امن وامان بحال کیا۔ پنجاب کی گورننس کو برطانوی حکام نے ایک بہترین مثال کے طورپر جدید اور مہذب دکھانے کی ہر کوشش کی۔
”قانون کی عمل داری“ میں مکمل طورپر آئے پنجاب میں لیکن 1947میں کیا ہوا؟ انسانی تاریخ کے بدترین فسادات۔ تقسیم کی وجہ سے ہوئی نقل مکانی کے دوران وحشت وبربریت کا کامل اظہار جس کے بارے میں لکھی سچی اور منٹو جیسے اذہان کی سوچی کہانیاں آج بھی دل دہلا دیتی ہیں۔
2008ءسے اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے پنجاب کو ایک بار پھر ”گڈگورننس“ کی عملی مثال بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ انڈرپاسز اور اوورہیڈ پلوں والا پنجاب جس کی سڑکیں لش لش کرتی ہیں، جہاں میٹرو بسیں چلتی ہیں۔ وہ صوبہ جہاں برطانیہ کے LSE کی طرز پر LUMS جیسے تعلیمی ادارے ہیں۔ لاہور میں الحمرا بھی ہے جہاں تصاویر کی نمائشیں ہوتی ہیں، میوزک کنسرٹس ہوتے ہیں۔ پنجاب کو المختصر ایک بار پھر ”تہذیب“ کا مرکز بنادینے کے دعوے ہورہے ہیں۔
اسی پنجاب کے مرکز سے مگر ایک قافلہ راولپنڈی کی جانب سفر کرتے ہوئے اسلام آباد تک پہنچانے والے فیض آباد چوک پر پہنچ کر وہاں دھرنا دیتا ہے۔ ایک دو نہیں 20 روز تک راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان سفر ناممکن ہو جاتا ہے۔ 8لاکھ کے قریب دیہاڑی دار، دفاتر میں کام کرنے والے اور دوکاندار اپنے گھروں میں محصور ہو جاتے ہیں۔ بچے سکول نہیں جا پاتے۔ مریضوں کو ایمبولینسوں میں لاد کر بھی ہنگامی صورت حال میں ہسپتالوں تک پہنچانا ناممکن ہوجاتا ہے۔
بنیادی انسانی حقوق کی ضامن عدلیہ اس دھرنے سے پریشان ہو جاتی ہے۔ انتظامیہ کو زندگی معمول پر لانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ پولیس حرکت میں آتی ہے تو مظاہرین کی جانب سے ملی مزاحمت کے آگے بے بس ہوجاتی ہے۔ بالآخر پاک فوج سے التجا کی جاتی ہے کہ وہ انہیں Bail Out کرنے کی کوئی ترکیب سوچے۔ مظاہرین کے ساتھ مذاکرات ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایک معاہدہ۔
ریاستی رٹ کی بے بسی کو مکمل طورپر بے نقاب کرتے اس ”معاہدے“ کے بعد فیض آباد خالی کردیا جاتا ہے۔ اسے خالی کرانے کے لئے وفاقی وزیر قانون کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑتا ہے۔ اپنا استعفیٰ لکھتے ہوئے وہ بہت عاجزی سے یاد دلاتے ہیں کہ ان کا خاندان نسلوں سے میاں میر کا مرید رہا ہے۔ ان کے بزرگ دربار میاں میرکے احاطے میں دفن ہیں۔ یہ رشتہ فقط ماضی تک محدود نہیں ہے۔ زاہد حامد صاحب کی مرحومہ اہلیہ بھی وہیں دفن ہیں۔ مستعفی ہوئے وزیر نے بھی ان کی قبر کے پہلو میں اپنے دفن ہونے کے لئے جگہ مختص کروا رکھی ہے۔ لوگوں کو اپنے ایمان کا اعتبار دلانے کے لئے زاہد حامد کو ایک وڈیو بیان بھی جاری کرنا پڑا تھا۔ کئی تصاویر بھی انہوں نے سوشل میڈیا پر Upload کی ہیں جس میں وہ احرام باندھے خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہیں۔
زاہد حامد کے استعفیٰ کے بعد بھی لیکن معاملہ ختم ہوتا نظر نہیں آرہا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے دستخطوں سے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ تیس دنوں میں راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں کام کرنے والی ایک کمیٹی کی رپورٹ منظرِ عام پر لائی جائے گی۔ اس رپورٹ میں ان لوگوں کی ”نشاندہی“ ہوگی جنہوں نے قانون کو مبینہ طور پر اس انداز میں بدلنا چاہا جو غیر مسلم ٹھہرائے ایک مسلک کے پیروکاروں کو اپنی شناخت چھپانے میں آسانیاں فراہم کر سکتا ہے۔
قانون کو سرسری انداز میں سمجھنے والے بھی خوب جانتے ہیں کہ ”شناخت“ اب چھپانا ممکن نہیں رہا۔ قومی شناختی کارڈ بنوانا ہو تو ایک حلف نامہ دینا ہوتا ہے۔ اس حلف نامے کے ساتھ مزید فارم بھی ہیں جن میں آپ کے خاندان کے افراد بھی درج ہو جاتے ہیں۔ پاسپورٹ بنواتے وقت بھی ایسا ہی حلف نامہ دینا ہوتا ہے۔ یہ قانون بھی بہت وضاحت کے ساتھ بنا دیا گیا ہے کہ اگر ووٹرز لسٹ میں آئے کسی شخص کے مسلمان ہونے پر اعتراضات اٹھیں تو اسے 15 روز کے اندر ایک حلف نامے کے ذریعے وضاحت دینا ہو گی۔
ان سب قوانین کے ہوتے ہوئے بھی ”گستاخی“ کی داستان بنا دی گئی ہے۔ حکومت اعتراف کرچکی کہ ”خطا“ سرزد ہوئی۔ اب خطا کاروں کی ”نشان دہی“ مقصود ہے۔ نشان دہی ہوگئی تو مبینہ ”خطاکاروں“ کو عبرت ناک سزائیں بھی دینا ہوں گی۔ شاید لاہور یا راولپنڈی کے کسی چوک میں پھانسی پر لٹکانا پڑے۔ مبینہ ”خطاکاروں“ کی نشاندہی سے قبل مگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے ایمان کو بھی مشکوک بنا دیا گیا ہے۔ رانا صاحب کبھی ”مذہبی انتہاپسندوں کے سہولت کار“ کے طورپر بدنام تھے۔ اب زعیم قادری حکومت کے پیامبر بن کر پیر حمیدالدین سیالوی صاحب کے دربار میں حاضری دے رہے ہیں۔”پلید“ کو ”پاک“ کرنے کی فریاد کررہے ہیں۔
پنجاب حکومت مگر اب بھی ”گڈگورننس“ کی حتمی علامت ہونے کی دعوے دار ہے۔ بلھے شاہ والا ”حشر عذاب“ کا درکھل چکا ہے مگر GOR کی قلعہ نما عمارتوں میں بیٹھے حاکموں کو اس کی خبر ہی نہیں۔ لاہور میں سول سروس اکادمی بھی ہے۔ NIPA کے کورسز بھی وہیں ہوتے ہیں۔ ان سے گزرے بغیر ترقی پانے کی گنجائش نہیں۔ مجھے خبر نہیں کہ ان کورسز میں ایسے اسباق موجود ہیں یا نہیں جو سمجھا پائیں کہ برطانیہ کے متعارف کروائے Administrative Steel Framework کے باوجود 1947 کے فسادات کیوں نہ رُک پائے تھے۔
٭٭٭٭٭