کالا باغ ڈیم پر چیف جسٹس عمر عطاءبندیال کا تاریخی فیصلہ

کالم نگار  |  محمد مصدق

پورے پاکستان کی طرح لاہور کی صنعت و تجارت کی تمام اہم اور غیر اہم شخصیات نے ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عمر عطاءبندیال کے کالا باغ ڈیم پر مختصر فیصلے کو ہر لحاظ سے ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اب اسے اتفاق رائے قائم کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے کیونکہ پاکستان کی معیشت صرف توانائی کے بحران کی وجہ سے منفی سمت میں جا رہی ہے خود پاکستان کی آمدنی میں کمی ہو گئی ہے ایف بی آر کے حکام خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جب ٹیکس دینے والے ادارے بجلی اور گیس کی کمی کا شکار ہوکر آدھا دن کام کریں گے تو پھر حکومت کو پورا ٹیکس کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔
پچھلے دنوں آواری ہوٹل میں عطاءغالب نے اپنے علمی فورم میں کالا باغ ڈیم پر ایک بہت خوبصورت اور پرمغز نشست کا اہتمام کیا تھا اس تقریب کے مہمان خصوصی واپڈا کے سابق چیئرمین نے کالا باغ ڈیم کی تاریخ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جب عالمی بینک کے پاس کالا باغ ڈیم کی رپورٹ گئی تو اس نے اسے سٹیٹ آف دی آرٹ ڈیم قرار دیا تھا اور لکھ کر اپنی رائے کا اظہار کیا تھا کہ اس نوعیت کے ڈیم کا نقشہ نہ پہلے بنا ہے اور نہ ہی آئندہ بننے کی امید ہے۔ لیکن یہ ہماری کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ ہم ڈیم کو متنازعہ بنا بیٹھے۔ اگر یہ ڈیم تعمیر ہو چکا ہوتا تو لوڈ شیڈنگ کا وجود بھی نہیں ہونا تھا اور بجلی کے بل آدھے ے بھی کم ہونے تھے کیونکہ پانی سے بننے والی بجلی سب سے سستی پڑتی ہے۔ کالا باغ ڈیم کے نقشہ کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ہر سال کئی سو ارب روپے کا قیمتی پانی بغیر کسی استعمال کے ضائع ہو جاتا ہے۔ کالا باغ ڈیم نے اس ضائع ہوجانے والے پانی کو بھی اپنے اندر سمو لینا تھا اور ہزار ایکڑ بنجر زمین کو سرسبز و شاداب کر دینا تھا اس وقت اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں فوڈ کی بہت زیادہ کمی ہے، اس وقت بھی افریقہ اور لاطینی امریکہ اور ایشیاءکے بے شمار چھوٹے بڑے ممالک ایسے ہیں جو جزوی پر غذائی قلت کا شکار ہیں دوسری طرف پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ عرب ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی انتہائی خواہش ہے کہ پاکستان انہیں اپنی بنجر زمین دیدے جسے وہ جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کی مدد سے اسی طرح سرسبز اور زرخےز بنا دیں گے جیسے انہوں نے ریتلے علاقوں کو پیداواری علاقوں میں تبدیل کر دیا ہے۔
ویسے ایک بات کا تذکرہ نہ کرنا بھی زیادتی ہو گی کہ چند نام نہاد سیاسی لیڈروں نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرکے اس کی تعمیر رکوا دی لیکن مجید نظامی مسلسل کالا باغ ڈیم کے حق میں نوائے وقت کے صفحات سیاہ کرتے رہے جس کی وجہ سے عوام میں کالا باغ ڈیم کی افادیت کے بارے میں بھرپور شعور بیدار ہوا اور دلچسپ بات ہے کہ اگر ان سیاسی لیڈروں کے اپنے علاقوں میں کالا باغ ڈیم پر ریفرنڈم کرا لیا جائے تو ان لیڈروں کو شرمندہ ہونا پڑے گا۔
جیساکہ پہلے بیان کیا ہے کہ لاہور میں صنعت و تجارت کی تمام شخصیات نے ہائیکورٹ کے حکم پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تمام عہدےداروں نے بہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا ہے سینئر نائب صدر عرفان اقبال شیخ نے چیف جسٹس عمر عطاءبندیال کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ڈیم بنانے میں کوئی بھی رکاوٹ باقی نہیں رہی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ بسم اللہ کرکے ڈیم کی تعمیر کا کام وہیں سے شروع کر دے جہاں پر چھوڑا تھا۔ جن صوبوں کے چند لیڈروں کو اگر کچھ خدشات ہیں تو اس وقت میڈیا خصوصاً الیکٹرونک میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں ایک ساتھ بٹھا کر افہام و تفہیم کا راستہ نکالے کیونکہ اتنا بڑا الیکٹرانک میڈیا اگر صدق دل سے چاہے تو کالا باغ ڈیم بغیر کسی اختلاف کے بن جائے گا۔
پیاف کے لیڈر اور سربراہ انجینئر سہل لاشاری نے کہا کہ 1991ءاور 1998ءمیں مشترکہ مفادات کی کونسل میں تمام صوبے کالا باغ ڈیم کی تائید کر چکے ہیں اس لئے آئینی طور پر حکومت پاکستان کی قانونی اور آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ کالا باغ ڈیم تعمیر کرکے پاکستان کے غریب عوام کو خوشحالی کی طرف لے آئے۔ 4300 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے اور تین سو ارب روپے کا پانی ذخیرہ کرنے والا ڈیم اگر پیپلز پارٹی چاہتی تو اپنے پانچ سالوں میں آسانی سے بنا سکتی تھی۔