لاہور ہائی کورٹ نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا حکم دے دیا

کالم نگار  |  ڈاکٹر ایم اے صوفی

اس وقت سارے ملک میں بجلی کا بحران ہے۔ کارخانے بند ہو رہے ہیں، مزدور فارغ کئے جا رہے ہیں، نوجوان بیکار ہو رہے ہیں، معاشرے میں جرائم جنم لے رہے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ وفاقی حکومت آرٹیکل 154 کی روشنی میں مشترکہ مفاد کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کی پابند ہے۔ وفاقی حکومت نے Counsil of Common Interest اس لئے بنائی تھی کہ فیڈریشن کے مسئلہ کو حل کرے کیونکہ پانی بجلی کا مسئلہ بڑا سنگین ہے۔ چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ یہ مسئلہ 1991ءمیں اٹھایا تھا۔ اس وقت CCI نے فیصلہ کیا تھا کہ ڈیم بننا چاہئے۔ 9 مئی 1998ءکو CCI میں مسئلہ اٹھایا گیا تھا۔ اس وقت بھی یہی فیصلہ ہوا تھا کہ ڈیم بننا چاہئے اور واپڈا کو ڈائریکشن بھی دی گئی کہ ڈیم (سپلیمنٹری کا) نقشہ بنایا جائے۔ جب یہ اعلان ہوا تو ہمیں خوشی ہوئی۔ ڈیم کے حق میں میری کتاب ”کالا باغ ڈیم پاکستان کی ضرورت“ 1998ءمیں شائع ہوئی۔
جونہی فیصلہ ہائی کورٹ نے سنایا تو اکثر ٹی وی چینلز پر مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈرز نے مختلف بیان دیئے۔ میاں شہباز شریف صدر پنجاب مسلم لیگ ن نے فرمایا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ درست ہے، ہمیں اس کا احترام کرنا چاہئے، ڈیم ضروری ہے مگر سارے صوبوں کی مثبت رائے بھی ضروری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی پارٹی کے سنیٹر مشاہد اللہ سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ ”ہم ڈیم کے حق میں نہیں ہیں“۔ منظور وٹو صاحب صدر پیپلز پارٹی پنجاب نے کہا ”ہم ڈیم کے حق میں ہیں مگر صوبوں کی رائے بھی ضروری ہے“۔ سردار نبیل گبول نے کہا کہ ”ہم سندھ کورٹ میں جائیں گے“ گویا مختلف سیاسی پارٹیاں ڈیم کی مخالف ہیں اور یہ مسئلہ بھی جوں کا توں رہے گا۔ احمد مختار نے کہا فیصلہ اچھا ہے لیکن قومی کمیٹی کو دیکھنا ہوگا۔ پرویز رشید صاحب، جسٹس (ر) طارق محمود، سنیٹر شاہی سید (ANP)، سردار گبول نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ دیا۔ کوئی منصوبہ تکنیکی اور معاشی پہلوﺅں سے قابل عمل قرار دیا جائے تو اسے فرضی بنیادوں پر بند نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی حکومت آرٹیکل 154 پر عمل درآمد کے لئے رہنمائی لے سکتی ہے۔ اگر وفاقی حکومت 1998-99ءکے فیصلوں پر عمل کرے تو پیچیدگیوں کو دانشمندی سے دور کیا جا سکتا ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ دے چکی ہے۔ ڈیم نہ بنا تو عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہونگے۔ ڈیم بننے سے ملک کی معیشت، زراعت اور صنعت کو فائدہ پہنچے گا۔ سندھ، بلوچستان اور خیبر پی کے کی زمین سیراب ہونگی اور سمندر میں پانی فضول نہ گرنے پائے گا۔ ڈیم کا منصوبہ ملک کے مزدوروں کے لئے بہتر ہوگا، سب کو بجلی میسر آئے گی، سیلاب نہیں آئیں گے۔
کالا باغ ڈیم یعنی میانوالی ہائیڈل پراجیکٹ قائداعظمؒ محمد علی جناحؒ رہبر ملت کی کابینہ نے بنایا تھا۔ پاکستان جب بنا اس وقت ملک کے بیشتر حصوں میں بجلی نہیں تھی۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے سردار عبدالرب نشتر کو کہا کہ آپ اپنے محکمہ انڈسٹری کو ہدایت کریں کہ پاکستان میں بجلی کیسے پیدا ہوگی؟ چنانچہ انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ کی 17-13 دسمبر 1947ءکو میٹنگ ہوئی اور سفارشات تیار کیں تاکہ 5 لاکھ میگاواٹ ویسٹ پاکستان میں میانوالی ہائیڈل پراجیکٹ تعمیر کیا جائے اور کرنافلی ایسٹ پاکستان ناڑہ سندھ میں کوئلہ کی تلاش کی جائے اور بہت ساری سفارشات پیش کی گئیں۔ (ڈان.... 15 مارچ 1948ئ)
کالا باغ ڈیم کی تعمیر کئی دفعہ شروع کی گئی۔ شروع میں ابتدائی اخراجات 1.2 ملین روپیہ خرچ کئے گئے۔ 1975-76ءاور 1994-98ءمیں 1.2 بلین خرچ ہوئے۔ میاں نواز شریف نے 1998-99ءمیں فیصلہ کیا تھا کہ وہ ڈیم بنائیں گے مگر صوبہ سرحد کی لیڈرشپ سے متاثر ہو کر رک گئے۔ واپڈا کے سابق چیئرمین انجینئر شمس الملک جو خیبر پی کے کے رہائشی ہیں انہوں نے اس کے حق میں اپنے اچھے ریمارکس تحریر کئے۔ واپڈا کے چیئرمین نے کہا تھا کہ ڈیم نہ بن سکا تو ملک میں قحط پڑ جائے گا۔
مخالفت میں خیبر پی کے کی نیشنل عوامی پارٹی جس کا تعلق سرخ پوش تحریک سے تھا جس کے لیڈر عبدالغفار خان تھے، جس کو سرحدی گاندھی کا نے خطاب دیا گیا تھا، وہ ان کے فرزند ولی خان پاکستان کی مخالفت میں آگے آگے رہے ۔ ولی خان (مرحوم) نے بیان دیا تھا کہ اگر کالا باغ ڈیم بنا تو اسے بم سے اڑا دیں گے۔، بھٹو صاحب ڈیم کے حق میں تھے بلکہ ابتداء تو ان کے دور میں شروع ہوئی۔ بے نظیر صاحبہ بھی حق میں تھیں۔ ایک وقت یہ تھا کہ کالا باغ ڈیم کے وہی لوگ مخالف تھے جو پاکستان کے مخالف تھے۔ اب تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں مجبور ہو گئیں کہ مخالفت کریں۔
اصل مسئلہ جنرل محمد ضیاءالحق کے زمانے میں پڑا۔ جنرل محمد ضیاءالحق اور جنرل مشرف بھی ڈیم بنانے کے حق میں تھے لیکن مخالفت کی وجہ سے رک گئے۔ نواز شریف کی حکومت 1998-99ءمیں فیصلہ کر چکی تھی مگر نیشنل عوامی پارٹی کے اسمبلی میں تعاون کی وجہ سے یہ معاملہ رک گیا۔ اب سندھ اسمبلی، بلوچستان اسمبلی، خیبر پی کے کی اسمبلی بھی خلاف قرارداد پیش ہو چکی ہیں۔ دنیا کے ماہرین نے اس ڈیم کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔
کون ہے جو جرا¿ت کر کے پاکستان کے یہ مسئلہ حل کرے گا اور پاکستان کو قحط سے بچائے گا؟
 عجیب بات تو یہ ہے کہ سارے لیڈر ڈیم کے حق میں تھے۔ اس میں چاروں صوبوں کا فائدہ ہے۔ اس سے صوبوں کی بنجر زمین سیراب ہوگی۔ ملک سیلاب کی تباہ کاریوں سے بھی بچ جائے گا، سارے ملک کو انتہائی سستی بجلی ملے گی، بیکار مزدوروں کو روزگار ملے گا اور قومی خزانے میں اربوں کی بچت ہو گی۔
ڈیم کا عمل صرف سائنٹفک ہے، عوام کی ضرورت ہے، اسے سیاسی بنا دیا گیا۔ خدا مرکزی حکومت کو توفیق دے کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ پر عمل کر سکیں اور پاکستان میں خوشحالی آجائے۔
٭٭٭٭٭٭