حکومت پنجاب کے پروگرام ۔۔۔!

حکومت پنجاب کے پروگرام ۔۔۔!


میاں شہباز شریف نے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ہیلمٹ تقسیم پروگرام کا زبردست مظاہرہ کیا اور نوجوانوں کو بتا دیا کہ وہ صرف اچھے گلوکار ہی نہیں ایک زبردست فنکار بھی ہیں۔ نوجوانوں کو ہیلمٹ کی اہمیت کا احساس دلایا گیا۔ ٹریفک قوانین کی پاسداری کا پیغام دیا گیا مگر عوام کے بنیادی مسائل کا حل وفاقی حکومت کے تعاون کے بغیر ناممکن ہے۔ ایک نوجوان لکھتا ہے کہ اس نے اپنی ماں سے کہا، ماں بھوک لگی ہے۔ ماں نے جواب دیا ”پُتر! گیس نہیں ہے۔ ماں، ہیڑ پر کھانا پکا دو۔ ”پُتر بجلی نہیں ہے ہوٹل سے جا کر کھانا کھا لو۔“ ماں، کار میں سی این جی نہیں ہے۔ اچھا بھائی کا موٹر سائیکل لے جاﺅ۔ ماں جی، موٹر سائیکل پر پابندی ہے۔ ماں صدقے جائے، فون کرکے کسی ہوٹل سے کھانا منگوا لو۔ ماں موبائل سروس بھی بند ہے۔ ماں تڑپ اُٹھی، ہائے ہائے اس ملک میں کچھ بچا بھی ہے ۔۔۔؟ ماں جی بھٹو بچا ہے، جو کل بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے ۔۔۔ نوجوان مزید لکھتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تعلیم کے لئے بہت اچھے پروگرام پیش کئے ہیں مگر ہمارے نظام تعلیم میں زبان کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔ گھر میں پنجابی بولو، سکول میں اردو بولو، پیپر برٹش انگلش میں دو، انٹرویو امریکی انگلش میں دو اور جب مر جاﺅ تو عربی میں حساب دو، پاکستانی فیل نہیں ہو گا تو کیا ٹاپ کرے گا؟ میاں شہباز شریف نے مستحق نوجوانوں میں مفت ہیلمٹ تقسیم کر کے نوجوانوں کو زندگی کی راہ دکھائی۔ نوجوان عموماً نڈر ہوتے ہیں لیکن ان کی یہ بے خوفی بعض اوقات ان کے گھروں میں صف ماتم کا سبب بن جاتی ہے۔ کئی حادثات نوجوانوں کی ہٹ دھرمی اور غیر ذمہ داری کے باعث پیش آتے ہیں۔ والدین کی بارہا نصیحت کے باوجود موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ کا استعمال نہیں کرتے۔ پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں مستحق افراد میں فری ہیلمٹ تقسیم کرکے قانون کی پاسداری کی ہے۔ موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ پہننا پوری دنیا کا قانون ہے اور جان کی حفاظت کے لئے اس قانون پر پوری دنیا میں سختی کے ساتھ عمل کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ضدی نوجوان ہیلمٹ پہننا شاید اپنی مردانگی کی توہین سمجھتے ہیں اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ہیلمٹ انسان کو معذور ہونے سے بچا سکتا ہے۔ دماغ کی چوٹ سے محفوظ رکھتا ہے۔ ٹریفک قوانین انسان کی جان و مال کی حفاظت کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ زندگی کو فار گرانٹڈ لینے والے ہی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہیلمٹ کے ساتھ ساتھ اُجالا پروگرام کے تحت سکولوں کے طلبا کو سولر لیمپ دینے کا بھی وعدہ کیا ہے، اس کے لئے چینی کمپنی کے ساتھ معاہدہ پا چکا ہے۔ بلاشبہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تعلیم کے لئے قابل تحسین پروگرام پیش کئے ہیں۔ ذہین سٹوڈنٹس میں لیپ ٹاپ کی تقسیم کئے جاتے ہیں مگر بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لیپ ٹاپ بند پڑے ہیں۔ جانوں کی حفاظت کے لئے ہیلمٹ تقسیم کئے جا رہے ہیں مگر موٹر سائیکل پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے اختیار میں ہوتا تو وہ کالا باغ ڈیم بھی تعمیر کر دیتے۔ نہ بجلی کا بحران ہوتا اور نہ چین سے سولر لیمپ منگوانے پر بجٹ خرچ ہوتا۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر تو خواب ہے مگر پنجاب میں تعمیراتی منصوبے میاں شہباز شریف کی حکومت میں مکمل ہونے کی امید ہے۔ تعمیراتی منصوبے کے روٹ پر موٹر سائیکل اور سائیکل سواروں کو گرد و غبار سے بچاﺅ کے لئے فری ماسک بھی دئیے جائیں گے۔ پنجاب حکومت کی متعدد خدمات میں ایسے کئی کام ہیں جو بظاہر چھوٹے معلوم ہوتے ہیں مگر عوام کو ریلیف دیتے ہیں۔ لاہور ماڈل ٹاﺅن کے کیو بلاک میں ایک تھانہ تعمیر ہونے جا رہا تھا مگر اہل محلہ رہائشی علاقے میں تھانے کی تعمیر کے سخت خلاف تھے۔ گزشتہ حکومت نے رہائشی علاقے میںتھانے کی تعمیر کی منظوری دی تھی جو کہ کسی صورت ٹل نہیں سکتی تھی۔ محکمہ پولیس کے مطابق وہ جگہ ان کے لئے انتہائی اہم اور تھانے کے لئے موزوں ہے مگر میاں شہبازشریف کی حکومت نے شہریوں کے مطالبہ کا احترام کیا اور انہوں نے تھانہ کی تعمیر رکوا دی۔ عوام چہروں اور پارٹیوں کو نہیں بلکہ اپنی ضروریات اور سہولیات کو دیکھتے ہیں اور ان لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جو ان کے لئے کام کرتے ہیں۔ ایک رہائشی علاقے میں پولیس تھانے کی تعمیر رکوا کر وزیر اعلیٰ پنجاب نے عوام کی دعائیں لیں۔ ماڈل ٹاﺅن کیو بلاک کی وہ زمین بنیادی طور پر بچوں کی لائبریری کے لئے مختص تھی، اہل محلہ کی گزارش ہے کہ اگر اس زمین پر لائبریری تعمیر کر دی جائے تو نہ صرف تعلیمی منصوبوں میں اضافہ ہو گا بلکہ اہل محلہ مچھروں اور وباﺅں سے بھی محفوظ رہ سکیں گے۔