مادرِ ملتؒ…پاکستانی خواتین کے لئے رول ماڈل

کالم نگار  |  نعیم احمد
مادرِ ملتؒ…پاکستانی خواتین کے لئے رول ماڈل

خواتین ہماری آبادی کا نصف ہیں۔ ترقی کے لئے ضروری ہے کہ انہیں عملی زندگی میں مردوں کے مساوی مواقع فراہم کئے جائیں۔ پاکستانی معاشرہ بنیادی طور پر پدرسری معاشرہ ہے جہاں خواتین کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں تعلیم یافتہ اور بااختیار بنا کر اس صورتحال کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آنے والے انقلاب کی بدولت اب تو خواتین اپنے حقوق سے کافی حد تک آگاہ ہوچکی ہیں تاہم تحریک پاکستان کے دور میں حالات بڑے مختلف تھے۔ تب زیادہ تر خواتین گھر کی چار دیواری تک محدود تھیں۔ ان کا گھر سے باہر نکلنا‘ چاہے حصولِ تعلیم کے لئے ہی سہی‘ معیوب سمجھا جاتا تھا۔ انہی حالات میں قراردادِ لاہور منظور ہوجاتی ہے۔ مسلمانانِ ہند کی سیاسی جدوجہد کے لئے ایک سمت اور منزل کا تعین ہوجاتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ متفکر ہیں کہ جب تک مسلمان خواتین میدانِ عمل میں نہیں آئیں گی‘ تب تک وہ انگریز سامراج‘ ہندو بنیے اور عاقبت نااندیش وطن پرست مسلمانوں سے لڑائی میں فتحیاب نہ ہوسکیں گے۔ تعلیم کی کمی اور معاشرتی قدغنوں کے باعث یہ ایک کارِ عظیم(Herculean Task) تھا مگر ناگزیر تھا۔ اسے کئے بغیر چارہ نہ تھا۔ اس مقصد کیلئے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی نگاہِ انتخاب اپنی مجسم ایثار ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناحؒ پر پڑی۔ انہوں نے پورے برصغیر کے دورے کئے‘مسلمان خواتین سے مخاطب ہوئیں‘ انہیں بحیثیت قوم مسلمانوں کے لئے اب یا کبھی نہیں(Now or Never) جیسی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہیں آل انڈیا مسلم لیگ کے نصب العین سے روشناس کرایا۔ 1939ء میں مسلم لیگ خواتین سب کمیٹی کے اجتماع عام منعقدہ قیصر باغ بمبئی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’اکثر و بیشتر مجھ سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مسلم لیگ کیا کرتی رہی ہے اور اب تک اس نے کیا ٹھوس کام کیا ہے؟ میں نے انہیں بتایا کہ مسلم لیگ نے مسلمانوں کو بیدار کیا اور ان میں سیاسی شعور پیدا کیا۔ مسلم لیگ نے ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا ہے۔ مسلم لیگ نے اسلام کے پرچم کو اونچا لہرا دیا ہے۔ مسلم لیگ نے صرف دو سال کے قلیل عرصہ میں مسلمانوں میں ایسی خود اعتمادی پیدا کردی ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ مسلم لیگ نے مسلمانوں کے حریفوں اور دشمنوں کو خاموش کردیا ہے اور اب اس کا احترام کیا جارہا ہے۔ اب وہ ایک ایسی طاقت بن گئی ہے کہ اسلامیانِ ہندوستان کے واحد مقتدر نمائندہ ادارے کی حیثیت سے اندرون اور بیرون ملک ہر جگہ اسے ایک ممتاز حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ سارے ہندوستان میں سیاسی‘ سماجی‘ تعلیمی اور اقتصادی ترقی کے بارے میں مسلم لیگ کی ایک پالیسی اور پروگرام ہے جس پر اس نے ہندوستان کے مختلف حصوں میں ایک حد تک عملی اقدامات کئے ہیں۔‘‘
آپ کی باتوں میں بابائے قوم کا تدبر اور فراست جھلکتا تھا۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ وہ مشاہیر تحریک پاکستان میں سے قائداعظمؒ کے ذہن اور نظریات کو سب سے زیادہ سمجھنے والی تھیں۔ ان کی ہمشیرہ ہونے کے ناطے وہ خواتین میں بہت مقبول تھیں۔ اُن کے جلسوں میں خواتین کا بے پناہ ہجوم ہوتا تھا جو والہانہ انداز میں ان سے مصافحہ کرتیں‘ اظہارِ اپنائیت میں انہیں ہار پہناتیں۔ مادرِ ملتؒ کی شبانہ روز مساعی کے طفیل مسلمان خواتین میں حریتِ فکر و عمل پیدا ہوگئی اور وہ مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہد آزادی میں سرگرم ہوگئیں۔ اُنہوں نے انگریز سرکار کے جبر و تشدد اور متعصب ہندو اکثریت کی چیرہ دستیوں کا قوتِ ایمانی سے مقابلہ کیا۔ مادرِ ملتؒ کی زندگی کا ہر لمحہ اپنے عظیم بھائی کی دیکھ بھال اور ملک و ملت کی خدمت کیلئے وقف رہا۔ قیامِ پاکستان کے بعد آپ نے مہاجرین کی آبادکاری اور استحکام پاکستان کے لئے بڑی جاں سوزی سے کام کیا۔ قیامِ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں ضمیر فروش عناصر نے قوم کو نظریۂ پاکستان سے بدظن کرنے کی مذموم کوششیں شروع کردی تھیں۔ یہ پاکستان کی بنیادوں میں پانی بھرنے کے مترادف تھا۔ مادرِ ملتؒ اس صورتحال پر خاموش نہ رہ سکیں اور 25دسمبر 1956ء کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کے یومِ ولادت پر ریڈیو پاکستان سے اپنی نشری تقریر میں قوم کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا:’’آپ اپنی کمزوریوں کا سبب معلوم کرنے کے لیے اپنے ضمیر کو ٹٹولیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ ان لوگوں کے قریب آرہے ہوں جو پاکستان کے نظریہ پر ایمان ہی نہیں رکھتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ آپ نے بے غرض اور جرأت مند قیادت کو ابھارنے کے لیے کوئی کوشش ہی نہیں کی جو آپ کے نظریوں اور حقیقی مفاد کی پوری طرح حامی ہو اور ان کے لیے وقف ہو۔ کیا آپ نے اپنے بھیس بدلے ہوئے دشمنوں کو اپنا دوست سمجھ لیا ہے جو آپ کی صفوں میں انتشار اور خرابی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور آپ کو اپنے اس نصب العین سے دور ہٹا دینا چاہتے ہیں جس کے لیے پاکستان وجود میں آیا ہے۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات پر آپ خود ہی غور کریں۔‘‘
حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے پُرزور اصرار پر آپ نے 1964ء کے صدارتی انتخاب میں فوجی آمر جنرل محمد ایوب خان کے مدمقابل صدارتی اُمیدوار بننا محض اس لئے قبول کیا تھا تاکہ اہلِ وطن کو ان کا جمہوری حقِ حاکمیت واپس دلایا جاسکے اور ان تک قیامِ پاکستان کے حقیقی ثمرات پہنچائے جاسکیں۔ رہبر پاکستان محترم مجید نظامی اور ان کی زیر ادارت روزنامہ نوائے وقت نے انتخابی مہم میں مادرِ ملتؒ کا بھرپور ساتھ دیا اور حکومتی دبائو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ان کے نظریات و تصورات کو عوام الناس تک پہنچانے میں سرگرم کردار ادا کیا۔ عورت کی حکمرانی کے خلاف حکمرانوں کے کاسہ لیس مفتیوں کے جاری کردہ فتوئوں کا دلائل و براہین سے مؤثر توڑ کیا۔ محترم مجید نظامی جو بذاتِ خود تحریک پاکستان کے انتہائی فعال کارکن تھے‘ انہوں نے قوم کی اس عظیم ماں کو ’’مادرِ ملتؒ‘‘ کا خطاب دینے کا شرف حاصل کیا۔ مادرِ ملت کی روز بروز بڑھتی مقبولیت سے خائف ہو کر وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے قومی اخبارات کو پریس ایڈوائس جاری کی گئی کہ محترمہ فاطمہ جناح کے نام کے ساتھ مادرِ ملت نہ لکھا جائے۔ نوائے وقت کے سوا تمام اخبارات نے یہ پریس ایڈوائس تسلیم کر لی مگر محترم مجید نظامی نے اسے پائوں کی ٹھوکر پر رکھا۔ تحریک پاکستان کی اس عظیم المرتبت رہنما کے 125ویں یومِ ولادت پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں ایک شاندار اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا جس کے دوران مادرِ ملتؒ کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔ تقریب کی صدارت تحریک پاکستان کے کارکن‘ سابق وائس چانسلر اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ٹرسٹ کے سیکرٹری محترم شاہد رشید نے انجام دیے جبکہ معروف ادیبہ اور دانشور بیگم بشریٰ رحمن‘ خواجہ محمود احمد‘ بیگم خالدہ جمیل‘ پروفیسر ڈاکٹر پروین خان‘ بیگم صفیہ اسحاق اور بیگم حامد رانا نے مادرِ ملتؒ کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالی۔ تحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترم محمد رفیق تارڑ نے اس موقع پر اپنے پیغام میں حاضرین کو مادرِ ملتؒ کے یومِ ولادت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں پاکستانی خواتین کے لئے رول ماڈل قرار دیا۔
محترم شاہد رشید نے حاضرین کو آگاہ کیا کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام 2017ء کو 70ویں سالِ آزادی کے طور پر منانے کے لئے ایک جامع پروگرام تیار کیا گیا ہے جس کے تحت 31جولائی تا 31اگست مختلف النوع سرگرمیاں انعقاد پذیر ہوں گی۔ آج کی یہ تقریب ان کا نقطۂ آغاز ہے۔ ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان کی لابی میں ایک سٹال بھی لگایا گیا ہے جہاں ٹرسٹ کی شائع کردہ نظریاتی مطبوعات‘ سبز ہلالی پرچم‘ تاریخی عمارات کے ماڈلز‘ پوسٹرز‘ سٹکرز‘ بیجز‘ جھنڈیاں اور یومِ آزادی کی مناسبت سے دیدہ زیب اشیاء ارزاں نرخوں پر دستیاب ہیں۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ حکومت پنجاب کو بھی 70ویں سالِ آزادی کی تقریبات اور سرگرمیوں میں بھرپور معاونت فراہم کررہا ہے اور ان میں کارکنانِ تحریک پاکستان کی شرکت کو یقینی بنارہا ہے۔ صوبائی حکومت کے آرکائیوز ڈیپارٹمنٹ اور قائداعظمؒ لائبریری کے اشتراک سے باغِ جناح میں مطبوعات کی شاندار نمائش کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ ان تمام سرگرمیوں کا مقصد یہ ہے کہ اہل وطن بالخصوص نسل نو کو آزادی کی اہمیت سے روشناس کرایا جائے اور انہیں باور کرایا جائے کہ ان کے بزرگوں کو یہ آزادی طشتری میں رکھ کر پیش نہیں کی گئی تھی بلکہ اس کے حصول کی خاطر انہیں جان و مال اور عزت و آبرو کی بیش بہا قربانیاں پیش کرنا پڑی تھیں۔ چنانچہ ہم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ آزادی کی نعمت عظمیٰ کی قدر کریں اور وطنِ عزیز کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے ضمن میں اپنا کردار پوری دیانت داری سے ادا کریں۔ تقریب کے اختتام پر مولانا محمد شفیع جوش نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ اور شہدائے تحریک پاکستان کے درجات کی بلندی اور ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے دعا کرائی۔