کچھ دن کی بات ہے : کوئی آپشن باقی نہیں رہ جائے گا!

کالم نگار  |  خالد احمد

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں کارفرما اتحادی حکومت کے جزوِ اعظم پاکستان مسلم لیگ قاف کے 16وزراءنے فنڈز کی عدم دستیابی اور لوڈشیڈنگ ختم نہ ہو سکنے کی بنا پر نائب وزیر اعظم جناب پرویز الٰہی کی خدمت میں استعفے پیش کر دیئے ہیں! تاکہ وہ یہ جمع پونجی فنڈز نکالنے کے لیے ’چابی‘ کے طور پر استعمال کر سکیں!جنابِ شجاعت حسین اور جنابِ پرویز الٰہی نے قاف لیگ کے وزراءاور دیگر پارٹی اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہیں صدرِ مملکت جنابِ آصف علی زرداری اور وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے بات چیت کرکے اِن دونوں مسائل سے نمٹنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لینے کی یقین دہانی کرائی!یہ ساری کارروائی، گزشتہ رو زسٹیٹ گیسٹ ہاﺅس، لاہور میں منعقد کیے گئے قاف لیگ کے اجلاس کے دوران ہوئی! قاف لیگ کے وفاقی وزراءاور ارکان اسمبلی پاکستان پیپلز پارٹی کے عمومی رویے کے خلاف اپنی قیادت کے سامنے پھٹ پڑے! مگر، کسی کی سوچ پر کوئی خراش تک نہ آئی! اور نہ ہی وہاں موجود قیادت کے کانوں پر کوئی جوں تک رینگتی دیکھی جا سکی!
اخبارات کے مطابق قاف لیگ کے وفاقی وزراءاور اسمبلی اراکین نے پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف اپنی قیادت کے سامنے شکایات کے انبار لگادیئے! جنابِ انور چیمہ نے کاکہا کہ قاف لیگ کے اسمبلی اراکین کے علاقوں میں ترقیاتی کام کرانے کے لیے فنڈز نہیں مل رہے! اور نہ ہی اُن کا کوئی اور کام کیا جا رہا ہے! بجلی کا بحران بھی کم ہونے کی جگہ اور بڑھتا چلا جا رہا ہے! اس سے،تو، کہیں بہتر تھا کہ قاف لیگ پیپلز پارٹی کے ساتھ دینے کی جگہ اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہتی! تاکہ عوام کے سامنے ’سرخ رُو ‘رَہ سکے! اِن حالات میں قاف لیگ عوام کے پاس کس منہ سے جائے گی؟ لہٰذا قاف لیگ کے تمام وزراءاستعفے پیش کر رہے ہیں! تاکہ قیادت کے حکم پر وزارتیں چھوڑی جا سکیں!
جنابِ اکرم مسیح گل نے کہا کہ اُن کا استعفیٰ،تو، اُن کی جیب میں ہے! اگر قیادت کہے،تو، وہ ابھی اور اسی وقت مستعفی ہو سکتے ہیں! اُنہوں نے قاف لیگ کی قیادت پر واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کے منسٹر اُنہیں مسٹر بھی نہیں سمجھتے! حتیٰ کہ پیپلز پارٹی کے وزراءاُن کی باتوں میںمولانا فضل الرحمن جتنا ’وزن‘بھی نہیں دیکھ پاتے! اُنہیں بلوائیں،تو، وہ آتے نہیں! اُن کے پاس جائیں ،تو، کام نہیں کرا پاتے! پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مفاہمتی رویہ اپناکر قاف لیگ سراسر گھاٹے کا سود اکر رہی ہے! اور اب قاف لیگ کے لیے علیحدگی کے سوا کوئی راستہ بچتا نظر نہیں آ رہا!
جنابِ شجاعت حسین نے فرمایا کہ اُنہوں نے جناب پرویز الٰہی کے ساتھ صدرِ مملکت اور وزیر اعظم سے ملاقات کرکے اُن پر واضح کر دیا ہے کہ اب حکومت پانچ سالہ منصوبے بنانے کی جگہ عوامی فلاح و بہبود کی صرف شش ماہی پالیسیاں مرتب کرے!
اُدھر عوامی نیشنل پارٹی نے بھی خیبر پی کے میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مرکز کے لیے صوبے کی جانب سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے مشترکہ پیام اور مطالبہ پیش کرنے کے لیے 19اگست کے دن پشاور میں آل پارٹیز کانفرنس بلا لی ہے! جبکہ آئندہ چند دنوں میں صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلاکر اُس میں خیبر پی کے میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے قرار داد منظور کرنے کا عندیہ دے دیا ہے! اے این پی نے واضح کر دیا کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے عوامی نیشنل پارٹی ’عدالتی راستہ‘ اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت سے استعفوں کے آپشن پر بھی غور کر سکتی ہے! اور اب کوئی بھی ایسا آپشن چھوڑنے کے لیے تیار نہیں جس کے ذریعے مرکز پر دباﺅ بڑھایا جا سکتا ہو!جنابِ فاروق ستار کی آل پارٹیز کانفرنس سے پہلے اے این پی کی آل پارٹیز کانفرنس تمام اتحادیوں کے لیے سوچنے اور سمجھنے کا کافی مواد مہیا کر رہی ہے! کچھ دن کی بات ہے ، کوئی آپشن باقی نہیں رہ جائے گا!