میانوالی کی دال سبزی عمران کی دیسی مرغی

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

 عمران خان کے میانوالی میں مسلم لیگ کے بزرگ رہنما ذوالفقار کھوسہ نے ڈی سی او افسران اور امیر کبیر ممبران کے ساتھ سستا بازار کا دورہ کیا جہاں صرف مہنگی چیزیں بکتی ہیں۔ کسی کے سوال پر کھوسہ صاحب نے کہا کہ پھل فروٹ مہنگے ہیں تو لوگ نہ کھائیں۔ دال سبزیں کھا لیں۔ اب کھوسہ صاحب کو کون بتائے کہ سبزی بھی مہنگی ہے۔ چیزوں کو سستا کرنا بھی پیپلز پارٹی کی ذمہ داری ہے۔
وہ یہ بات پنجاب میں کہیں بھی کسی بازار میں کہہ سکتے تھے۔ یہ بات خاص طور پر میانوالی میں کیوں کہی ہے۔ عمران خان تو دیسی مرغی کھاتا ہے۔ سیاست میں آنے سے پہلے اسے ولائتی مرغیاں پسند تھیں۔ اب بھی وہ اس شوق میں اکثر لندن جاتا رہتا ہے۔ عمران کو ایم این اے بھی میانوالی نے بنایا تھا۔ اسے وزیراعظم بھی میانوالی بنائے گا۔ اسی لئے تو انعام اللہ نیازی بھی تحریک انصاف میں آ گیا ہے۔ اس حوالے سے اسے فائدہ ہوا ہے کہ ٹی وی چینل پر بلایا جانے لگ گیا ہے۔ مسلم لیگ ن والے جانتے ہیں کہ وہ اٹھ کر مارنا بھی شروع کر دیتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ ان میں بزدل کون ہے۔ کچھ ن لیگی انعام کو لوٹا کہتے ہیں۔ وہ لوٹا نہیں کوزہ ہے وہ تو اپنے گھر میں واپس آیا ہے۔ باقی سارے لوٹے نہیں تو پہلے کیوں تحریک انصاف میں نہ آئے تھے ہمیشہ لوٹوں کو ہی کیوں پتہ چل جاتا ہے کہ فلاں پارٹی اقتدار میں آ رہی ہے۔ میرا دل نہیں مانتا کہ جنرل علی قلی خان کو جنرل پاشا لے کر آیا تھا۔ مزا تو یہ ہے کہ اب جنرل پاشا خود عمران خان کو جائن کر لے۔
عمران بڑے ناز سے کہتا ہے کہ پہلی بار ممبران اسمبلی اپوزیشن پارٹی میں آ رہے ہیں۔ خود اس نے یہ تاثر دے رکھا ہے کہ تحریک انصاف حکومت بنائے گی اور میں وزیراعظم بنوں گا۔ وہ ابھی سے اپنے آپ کو وزیراعظم سمجھتا ہے اور تحریک انصاف کے نئے لوگ بھی یہی سمجھتے ہیں پرانے لوگوں کو پہلے شک تھا اب انہیں یقین ہے کہ عمران وزیراعظم نہیں بنے گا۔ وہ اپوزیشن لیڈر ہے تو سڑکوں پر لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے لوگوں کو لیڈ کیوں نہیں کرتا۔ نواز شریف بھی اسی طرح کے لیڈر ہیں۔ لانگ مارچ کی دھمکی دونوں دیتے ہیں مگر یہ دھماکہ نہیں ہوتا۔ انہیں ڈر ہے کہ کہیں یہ خودکش دھماکہ نہ بن جائے۔ عمران ایک لاکھ لوگ لے کے وزیرستان جانے کا اعلان تو کرتا ہے، اسلام آباد کے وزیرستان میں جانے کی بات نہیں کرتا۔ یہ وہ وزیرستان ہے جہاں وزیر شذیر اور وزیراعظم رہتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں خود عمران خان کو بھی یہاں رہنا ہے؟ ہر بحرانی موقع پر نوازشریف لندن چلے جاتے ہیں تو عمران خان بھی چلا جاتا ہے۔ کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ دونوں ملے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف سے محبت کرنے والے ایک کالم نگار نے لکھا ہے کہ عمران خان عدت پر بیٹھ جاتا ہے۔ کالم نگار کی خدمت میں عرض ہے کہ اپنی عدت کی مدت ہر بار خود عمران خان مقرر کرتا ہے۔
میرے بابا عرفان و آگہی کے بہت اونچے مقام پر بیٹھے ہوئے بابا عرفان الحق نے کہا کہ عمران پر قدرت مہربان ہے مگر وہ کیا کر رہا ہے۔ قدرت کے خلاف چلنے میں تو صرف نامہربانیاں ہیں۔ بابا جی نے مجھے اور ظفر صاحب سے کہا۔ اُسے کہہ دو کہ تحریک چلانے والے الیکشن کے مطالبے نہیں کیا کرتے۔ تحریک کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں۔ لوگوں کے اندر بھلائی کرنے کا ذوق و شوق پیدا کرو۔ انہیں باغی بناﺅ۔ انقلاب سے پہلے بغاوت۔ اور انقلاب انتخاب سے نہیں آتے۔
اس کی نگاہ دیکھ لے صوبوں کے پار بھی صرف ایک باغی سے بات نہیں بنے گی۔ جاوید ہاشمی بھی انتخابی باغی ہے۔ اس نے نوازشریف کے سیاسی رویوں کے خلاف بغاوت کی ہے۔ جلد ہی وہ عمران خان کے غیر سیاسی رویوں کے خلاف بغاوت کرے گا۔ اس نے خود کہا راولپنڈی میں کہ ایک بیورو کریسی مسلم لیگ ن میں چھوڑ آیا ہوں۔ تحریک انصاف کی بیورو کریسی کو کہاں لا کے چھوڑوں بیورو کریسی کو میں بُرا کریسی سمجھتا ہوں۔ تحریک انصاف میں عمران کے بعد سب سے بڑی مثال شفقت محمود ہیں۔ وہ بھی ن لیگ سے آئے ہیں۔ کہتے ہیں میں اردو اخبارات نہیں پڑھتا مگر وہ اردو اخبارات میں چھپتے ضرور ہیں۔
بڑے دنوں کے بعد پیپلز پارٹی کا ایم این اے افضل سندھو تحریک انصاف میں آیا ہے۔ عمران خان کے ساتھ پریس کانفرنس میں بیٹھا تھا۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے ہی شاہ محمود قریشی تھے۔ تاثر یہ مل رہا تھا کہ اُسے شاہ محمود قریشی لائے ہیں۔ وہ تو حسن نثار کے بیلی پور سے سیدھا پریس کانفرنس میں پہنچا تھا۔ کیا اس ”نیک کام“ کے لئے اعلان ضروری ہے۔ افضل سندھو بھی شاہ محمود قریشی کی طرح پیپلز پارٹی کا اندرونی لوٹا ہے۔ وہ صدر فاروق لغاری کی ملت پارٹی میں بھی گیا تھا۔ عمران خان محبوب سیاستدان ہے۔کسی کے عشق میں گرفتار ہونے کے لئے تیار نہیں۔ دیسی مرغی کھانے کے لئے ہوتی ہے۔ سنا ہے بہت مزیدار ہوتی ہے۔ شکر ہے دیسی گھی دیسی انڈا دیسی ہانڈی دیسی عورت دیسی مرغی اور دیسی آدمی کی قدر و منزلت اب ثابت ہوئی ہے۔
افضل سندھو کے لئے پریس کانفرنس میں ایک گستاخ رپورٹر نے کہہ دیا کہ عمران خان تمہارے دائیں بائیں کون بیٹھے ہیں۔ تم کیا تبدیلی لاﺅ گے؟ رپورٹر کو بٹھا دیا گیا۔ ایسے ہر آدمی کو بٹھا دیا جائے گا۔ اور الیکشن میں وہ کھڑا رہنے دیا جائے گا۔ جس کے پاس ٹکٹ کے پیسے ہونگے۔ ”ٹکٹ کٹاﺅ لین بناﺅ“ کِنے کِنے جانا اے بلو دے گھر۔ ابرارالحق کہتا ہے کہ میں صرف یہ دیکھنے تحریک انصاف میں آیا ہوں کہ شاید میری بلو کو اغوا کر کے یہاں کوئی لے آیا ہو۔ تحریک انصاف میں پہلے میاﺅں میاﺅں کی آوازیں آتی ہیں پھر ”میں میں“ کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ ابرارالحق نے نارووال میں عمران خان کے مقابلے میں اپنی ماں کے نام پر صغریٰ شفیع ہسپتال بنایا۔ اس کے کئی دوست کہتے تھے کہ یہ شوکت خانم سے بڑا ہسپتال ہے کہ دیہات میں ہے۔ مگر ابرار اور اس کے سارے ساتھی تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں۔ کرنل جاوید کاہلوں کو نارووال سے اپنے ٹکٹ کی فکر پڑ گئی ہے۔ عمران کو گانے والوں اور کمانے والوں کی ضرورت ہے۔ سنا ہے کہ سیالکوٹ میں ایک ساتھی کے گھر سابق مسلم لیگی رہنما جاوید ہاشمی نے بتایا کہ انہوں نے حفیظ اللہ نیازی سے کہا کہ ہتھ ھولا رکھو۔ حفیظ اللہ نے کہا کہ بڑی مدت کے بعد ہمارا چولہا گرم ہوا ہے۔ ہانڈی تو پکا لینے دو۔ دل والا حفیظ دوست ہے۔ دانشور نہ سہی دانش مند تو ہے۔ وہ خیال رکھے گا کہ کہیں ہانڈی جل نہ جائے۔ عمران کی محبت میں سرشار کالم نگار نے لکھا ہے ”پارٹیاں اقتدار میں آنے کے بعد کمائیاں کرتی ہیں۔ تحریک انصاف اقتدار میں آنے سے پہلے امیر کبیر ہوئی جا رہی ہے“۔ ہارون الرشید کپتان کا کالم نگار ہے۔ فاروق انصاری تحریک انصاف کا مگر توفیق بٹ کو کیا ہو گیا ہے؟ لوگ شوکت خانم کی بجائے تحریک انصاف کو چندہ دیتے ہیں۔ ایک تصویر شائع ہوئی ہے جس میں عمران خان کے ساتھ اشفاق احمد، دلدار بھٹی، عطاالحق قاسمی، طارق فاروق، توفیق بٹ، اجمل نیازی شوکت خانم کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں کھڑے ہیں۔ ایک دوست نے کہا کہ ان میں کون ہے جو عمران خان کے حق میں بات کر رہا ہے؟ دلدار بھٹی ہوتا تو وہ بھی خلاف لکھتا۔