داماد۔۔۔ !

”گیلانی چھیننے والوں کو راجہ کا تحفہ دیا“۔ صدر زرداری نے پہلی بار سچی اور کھری بات کہی۔ پاکستان کو کیا زبردست تحفے ملے ہیں۔ پاکستان کے عوام خود ایک تحفہ ہےں اور ”نایاب تحفوں“ کے مستحق ہیں۔ جو سزا اس عوام کو مل رہی ہے، اس سے نجات کے لئے رمضان کے بابرکت مہینے میں مانگی گئی دعائیں بھی بے اثر دکھائی دے رہی ہیں۔ عوام ووٹ دیتے ہیں لیکن ہر بار دھوکہ کھاتے ہیں حالانکہ بزرگ فرماتے ہیں کہ ”عقل بادام کھانے سے نہیں، دھوکہ کھانے سے آتی ہے“۔ جب عقل ماﺅف ہو جاتی ہے تو بندہ غصہ میں دیوانہ ہو جاتا ہے اور مرنے مارنے پر اُتر آتا ہے۔ آٹا لینے کے لئے چھ گھنٹے لمبی قطار میں لگے رہنے کے بعد ایک شخص غصہ میں آگیا اور بولا ’میں حکمرانوں کو گولی مار دوں گا‘ یہ کہہ کر وہ شخص چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ شخص واپس آیا اور دوبارہ قطار میں لگ گیا۔ کسی نے پوچھا ’کیوں کیا ہوا؟ مار دیا حکمرانوں کو؟ اس نے مایوسی سے جواب دیا ’نہیں یار وہاں تو اس سے بھی لمبی قطار لگی ہوئی ہے‘۔ آصف علی زرداری نے ایک اور زبردست کھری بات کہی کہ ’ہم نے شہیدوں کے خون پر حکومت بنائی ہے‘۔ رمضان المبارک میں حکمران بھی سچی کھری باتیں کرنے لگتے ہیں۔ سیاست کا نشہ سیاست دان کو بے خوف کر دیتا ہے۔ اس راہ میں عزت اور زندگی بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے حالانکہ زندگی اور عزت جب ایک بار چلی جائے تو پھر لوٹ کر نہیں آتی جبکہ اقتدار آنی جانی شے ہے۔ کیپٹن صفدر بھی عزت کا مفہوم سمجھ نہیں سکے۔ بھٹو کا داماد خود کو ”بھٹو کا روحانی بیٹا“ کہتا ہے۔ داماد اگر روحانی بیٹا بن جائے تو سیاست میں روحانیت آجاتی ہے۔ کیپٹن صفدر کو اپنا پِیر بدل لینا چاہئے۔ جس پیرِ نوں پھڑیاں پیڑ نہ جاوے، اسے چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔ ان کے پیر صاحب کا ریکارڈ بھی ہم سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کیپٹن صفدر ایک مہذب خاندان کا داماد اور ایک خوبصورت اور خوب سیرت خاتون کا شوہر ہے۔ اپنی عزت کا نہیں تو کم از کم اپنے سسر کی ریپوٹیشن کا ہی خیال کر لیتے۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ ”انسان زبان کے پردے میں چھپا ہے“۔ مسلم لیگ نون بھی ” نوجوانوں“ کی جماعت ہے۔ کیپٹن صفدر کی رکنیت معطل ہونے سے ”نوجوان قیادت“ کو نقصان پہنچا ہے۔ اللہ کرے تحریک انصاف کی نوجوان پارٹی ہی انقلاب لے آئے۔ اللہ ”نوجوانوں“ کی عمر دراز کرے۔ کسی منچلے نے ”نوجوانوں“ کا ایک چارٹ بھیجا ہے، اس کے مطابق عمران خان ماشاءاللہ 60 سال‘ جاوید ہاشمی 65‘ شاہ محمود قریشی 63‘ عارف علوی 67‘ وجیہ الدین 64‘ میاں اظہر 68 اور خورشید قصوری 69 سال کے ہیں۔ سو سب ماشاءاللہ ساٹھے باٹھے کہلانے کی سٹیج سے گزر چکے ہیں لیکن ہیں نوجوان اور نوجوانوں کے لیڈر‘ پارٹی کی سب سے نوجوان قیادت ابرارالحق کی عمر 45 سال ہے جبکہ خواتین قیادت عمر میں ”تبدیلی“ کی قائل ہیں۔ انتخابات جیتنے کے لئے صرف نوجوانوں کی نہیں عقل کی بھی ضرورت ہے۔ عوام مزید کتنے دھوکے کھائیں گے۔ امریکہ کا ایک معروف صحافی لکھتا ہے کہ ”امریکہ کو ایسے قوانین کی ضرورت ہے، جن کی مدد سے بے وقوف لوگوں کو ووٹ دینے سے روکا جا سکے“۔ مضمون نگار امریکی عوام کی عقلی صلاحیت کی مثال دیتے ہوئے لکھتا کہ ”آپ انتخابات میں ووٹ ڈالنے جائیں اور اگر کوئی انتخابی کارندہ آپ سے یہ سوال کرے کہ آیا اوباما مسلمان ہے یا عیسائی اور آپ نے جواب دیا کہ وہ تو مسلمان ہے، تو ظاہر ہے آپ کو بے وقوف ہونے کے ناطے ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم کر دیا جائے گا“۔ امریکہ کے عوام کی نسبت پاکستان کے عوام اپنے ملک کی سیاست کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں اس کے باوجود جان بوجھ کر دھوکہ کھاتے ہیں۔ بیٹے اور داماد اللہ کی نعمت ہوتے ہیں مگر خاندانی اور سفارشی سیاست کا کلچر اب ختم ہونا چاہئے۔ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے، نعرہ کی حد تک ٹھیک ہے، بھٹو حقیقت میں زندہ ہوتے تو زرداری ان کے داماد ہوتے اور نہ پارٹی کا یہ حال ہوتا۔ سیاست دانوں نے پاکستان کوکسی ٹی وی چینل کا ”افطار شو“ سمجھ رکھا ہے جس کو پیشہ ور فنکاروں کے حوالے کر دیا جائے۔ سیاست اور صحافت پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ٹی وی چینلز کے سیاسی و صحافتی شوز تو اپنی وقعت کھو بیٹھے، مذہبی شوز بھی ڈرامہ بنتے جا رہے ہیں۔ عوام کو عقل آجائے تو انتخابات میں ووٹ کی طاقت سے ملک کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی عوام کو سبز باغ دکھائے جا رہی ہے جبکہ ملک میں چارسو اندھیرے چھائے ہوئے ہیں۔ بدترین لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے تحفے عوام کو عقل سکھانے کے لئے کافی ہیں لیکن انتخابات کے نتائج توقعات کے برعکس ہو سکتے ہیں۔ انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ اس بار بھی ووٹر خریدے جائیں گے۔ سیاستدانوں کو ڈالروں میں تولا جائے گا۔ امریکی امداد رنگ لائے گی۔ پیسہ پانی کی طرح بہایا جائے گا۔ بھٹو کا داماد‘ ان کا روحانی بیٹا بھی ہے، ان کی پیشگوئیوںکو فار گرانٹڈ نہ لیا جائے۔