کئی دہائیوں کی بدانتظامی کے باعث ملک آبی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے: میاں زاہد حسین

لاہور (کامرس رپورٹر) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم (پی بی آئی ایف) کے صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کئی دہائیوں کی بدانتظامی اور پڑوسی ملک کی سازشوں کے سبب پاکستان اپنی تاریخ کے شدید ترین پانی کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بجٹ میںآبی وسائل کی ترقی کیلئے بھاری فنڈز مختص کئے جائیںورنہ زراعت، لائیو سٹاک اور صنعتی شعبہ تباہ ہو جائے گااورہمارا زرخیز ملک صحراکا منظر پیش کرے گا جو دشمنوں کی خواہش ہے۔میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت متنازعہ ڈیموں کی تعمیر اور آبی ا جار ہ داری کا سلسلہ بندکرے کیونکہ اس کی مسلسل ہٹ دھرمی سے خطے کا امن تباہ ہو سکتا ہے۔پاکستان نوے فیصد آبی وسائل زراعت کے لئے استعمال کر رہا ہے جس کی بھاری مقدارفرسودہ ترسیلی نظام کے سبب ضائع ہو رہی ہے جبکہ پینتیس ملین ایکڑ فٹ پانی ناقص منصوبہ بندی کے سبب سمندر برد ہو جاتا ہے۔ملک کے مختلف علاقوں میںزیر زمین پانی کی سطح گر رہی ہے جس سے تمام شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔ٹیکنالوجی سے دوری کے سبب ہمارے کاشتکار مختلف فصلوںکے لئے بھارت سے دگنا اور ترقی یافتہ ممالک سے چار گنازیادہ پانی استعمال کر رہے ہیں جو جی ڈی پی میں اکیس فیصد حصہ کے حامل زرعی شعبہ اور فوڈ سیکورٹی کیلئے لئے خطرہ ہے۔پچاس سال قبل پاکستان میںپانی کی فی کس دستیابی 5650 مکعب میٹر تھی جو اب 1100 مکعب میٹر سے کم ہو گئی ہے ۔