حکومت نے نومبر کے آخری ہفتے کمرشل بنکوں سے 1400ارب کا قرضہ لیا

کراچی(اے پی اے )بجٹ فنانسنگ کے لیے حکومت کمرشل بینکوں پر انحصار کررہی ہے، نومبر کے آخری ہفتے سے اب تک کمرشل بینکوں سے 1400 ارب روپے کا قرض لیا گیا ہے۔زیادہ تر قرض 3 ماہ کی مدت کے ٹریڑری بلز کی نیلامی کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے،کمرشل بینکوں سے قرض کے حصول کے لیے حکومت کے بڑھتے ہوئے انحصار کے سبب بینکوں کی جانب سے ٹریڑری بلز میں بھاری سرمایہ کاری کی جارہی ہے، بینکوں کے لیے 3ماہ کے ٹریڑری بلز سرمایہ کاری کا بہترین انسٹرومنٹ ثابت ہورہے ہیں جس کی شرح سود میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ٹریڑری بلز پر کٹ آف ایلڈ ڈسکائونٹ ریٹ 10فیصد کی سطح کے قریب 9.95فیصد تک پہنچ گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مانیٹری پالیسی کے آئندہ جائزے میں شرح سود میں مزید اضافہ کیا جائے گا، مانیٹری پالیسی مزید سخت ہونے کے امکان کو لے کر بینکوں کی جانب سے حکومتی پیپرز میں لانگ ٹرم پوزیشن نہیں لی جارہی، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 3 آکشنز میں کمرشل بینکوں نے 12ماہ کے ٹریڑری بلز کی نیلامی کے لیے ایک بھی بولی نہیں دی۔