نیشنل بینک کا سہ ماہی منافع گھٹ کر 5 کروڑ 70لاکھ روپے رہ گیا

نیشنل بینک کا سہ ماہی منافع گھٹ کر 5 کروڑ 70لاکھ روپے رہ گیا

کراچی(کامرس رپورٹر)نیشنل بینک آف پاکستان کے نوتشکیل شدہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 30 ستمبر کو ختم ہونے والے بینک کے تیسری سہ ماہی کے مالیاتی جائزے کی منظوری دے دی ہے۔ بورڈ کا اجلاس 25 اکتوبر کو کراچی میں بینک کے ہیڈ آفس کی عمارت میں ہوا جس میں بینک کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ بینک کے تیسرے سہ ماہی جائزے کے مطابق بینک کو تیسری سہ ماہی میں ہونے والا قبل از ٹیکس منافع گھٹ کر پانچ کروڑ ستر لاکھ رہ گیا ہے۔ جبکہ گزشتہ برس اسی عرصہ میں یہ 4 ارب 63 کروڑ 20 لاکھ روپے تھا۔ اس کی وجہ سے بینک کا گذشتہ نو ماہ کا قبل از ٹیکس منافع بھی آٹھ ارب چھ کروڑ روپے کے نشان پر پہنچ گیا ہے۔ گذشتہ برس یہ منافع اسی عرصہ میں 17 ارب 97 کروڑ 70 لاکھ روپے تھا۔ بورڈ کو اجلاس میں بتایا گیا کہ گو کہ بینک کے منافع میں زبردست کمی سامنے آئی ہے مگر یہ اب بھی مسابقتی بینکوں کے مقابلے پر ہے۔ بینک کے منافع میں زبردست کمی کی بنیادی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سود کی شرح میں مسلسل کمی ہے۔بورڈ نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ قرض کے ڈوبنے کے کسی بھی قسم کے خطرے سے بچنے کے لیے قرض کی فراہمی کے وقت تمام تر احتیاطی تدابیر بروئے کار لائی جائیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ بینک کے منافع میں کمی کے باوجود بینک کے ترقی کے بنیادی اشاریے بہترین ہیں۔ ستمبر 2012 کے مقابلے میں بینک کے ڈپازٹ میں پندرہ فیصد یعنی 131 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح بینک کی جانب سے قرضوں کی فراہمی میں بھی 71 ارب روپے کا گرانقدر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس میں تنخواہ کے بدلے، سونے کے عوض قرضوں کی فراہمی اور زرعی قرضوں کی اسکیمیں بھی شامل ہیں۔ نیشنل بینک کے اثاثہ جات میں بھی سالانہ 107 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس وقت بینک کے پاس 145 ارب 85 کروڑ روپے کا سرمایہ موجود ہے جبکہ بینک کے سرمایہ رکھنے کی شرح پندرہ فیصد ہے۔