پاکستانی معیشت مستحکم ہو رہی ہے: آئی ایم ایف

اسلام آباد (رائٹرز + ریڈیو مانیٹرنگ + آن لائن) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ ادائیگیوں کے توازن کے بعد پاکستانی معیشت مستحکم ہورہی ہے برطانوی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے اسلام آباد میں آئی ایم ایف کے نمائندے پال روز نے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے تاہم سرمایہ کاروں کے لئے اب بھی خطرات اور رسک موجود ہے انہوں نے کہا کہ جہاں تک معیشت کا تعلق ہے کچھ پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے اور یہ استحکام کی جانب گامزن ہے انہوں نے کہا کہ سکیورٹی صورتحال سرمایہ کاروں کیلئے تسلی بخش نہیں ہے اور وہ خطرات محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام‘ عدم تحفظ کا احساس بجٹ خسارہ اور افراط زر جو دہشتگردی کیخلاف جنگ کے باعث ہونیوالے اخراجات کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے یہ تمام معیشت کی بحالی میں رکاوٹ ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد ابھی پوری طرح بحال ہونا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکانومی کی اصطلاح میں معیشت میں استحکام آ رہا ہے اور ترقی بھی ہوئی ہے۔ اب افراط زر کی شرح 13 فیصد کی سطح پر آ چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر ایک ماہ کی بجائے چار ماہ کی درآمدات کے مساوی ہیں کرنٹ اکاﺅنٹ کا خسارہ 8.5 سے کم ہو کر 2.3 فیصد کی سطح پر آ گیا اور بجلی کی کمی کے باوجود سرمایہ کار کسی حد تک پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں تاہم گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً نصف رہی ہے۔ تاہم پہلے دس ماہ کے دوران سٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 508.7 ملین کی سرمایہ کاری کی جبکہ گزشتہ برس یہ رقم صرف 392 ملین ڈالر تھی۔