نئے ڈیموں و آبی ذخائر کی فوری تعمیر کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے:کسان بورڈ

نئے ڈیموں و آبی ذخائر کی فوری تعمیر کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے:کسان بورڈ

فیصل آباد( اے پی پی )پاکستان کسان بورڈ نے کہاہے کہ زرعی ضروریات کے برعکس پانی کی بڑھتی ہوئی قلت اور دریائی ، سیلابی ، بارشی پانی کے ضیاع نے نئے ڈیموں و آبی ذخائر کی اہمیت و افادیت مزید واضح کر دی ہے کیونکہ چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرکے جہاں ہر سال سیلابی کی بے پناہ تباہ کاریوں سے بچا جا سکتاہے وہیں یہ پانی زرعی ضروریات کیلئے استعمال میں لانے کے علاوہ توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتاہے لہٰذا حکومت نئے آبی ذخائر اور کالا باغ سمیت دیگر چھوٹے و بڑے ڈیمز کی فوری تعمیر کیلئے آبی ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے جو تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے قبل عمل منصوبہ جات کی سفارشات پیش کرے اور ان پرمختصروقت می عملدرآمد یقینی بنایاجائے ۔ پاکستان کسان بورڈکے ترجمان نے میڈیاسے بات چیت کے دوران بتایاکہ بھارت میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 120دن ، مصر میں 400دن، امریکہ میں 900 دن جبکہ پاکستان میں صرف 30 دن تک ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہر سال ڈیم نہ ہونے سے سالانہ ایک کھر ب ڈالر کا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ انہوںنے بتایاکہ سلٹ جمع ہونے سے منگلا، تربیلا، چشمہ میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش18.71ملین ایکڑ فٹ سے 32فیصد تک کم ہوکر 12.76ملین ایکڑ فٹ رہ گئی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ پاکستان کے دریاﺅں سندھ ، جہلم، کابل ، چناب وغیرہ میں سالانہ 130سے 135ملین ایکڑ فٹ پانی آتاہے جس میں سے صرف 9فیصد ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان میں ڈیمزتعمیر نہ کرنا اجتماعی خود کشی کے مترادف ہے ۔ انہوںنے کہاکہ کالاباغ ڈیم جیسے خالصتاً قومی مسئلہ کو سیاست میں الجھانا کسی صورت درست نہیں ۔