سٹیٹ بنک نے سٹوڈنٹ سکیم کے لئے قرضوں کی منظوری دے دی

سٹیٹ بنک نے سٹوڈنٹ سکیم کے لئے قرضوں کی منظوری دے دی

کراچی(کامرس رپورٹر)اسٹوڈنٹس لون اسکیم کی ایپکس کمیٹی نے اسٹیٹ بینک کراچی میں گزشتہ روزمنعقد ہونے والے اجلاس میں مستحق طلبہ کو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کےلئے 173.57 ملین روپے کے بلا سود قرضوں کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اجلاس ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سعید احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا اور اس میں فنانس ڈویژن، حکومت پاکستان، نیشنل بینک آف پاکستان، ایم سی بی بینک لمیٹڈ، الائیڈ بینک لمیٹڈ، حبیب بینک لمیٹڈ اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس سکیم کےلئے مالی سال 2001-02ءمیں 500 ملین روپے کا ایک وقف فنڈ تخلیق کیا گیا تھا۔ نیشنل بینک آف پاکستان طلبہ کی درخواستوں کو وصول کرنے ،ان کی جانچ پڑتال اور قرضوں کی تقسیم کے علاوہ اسکیم کے وقف فنڈ کی سرمایہ کاری کا آپریشنل انتظام بھی کرتا ہے۔سکیم کے تحت منظور کیے جانے والے قرضے 2012-13ءکے سیشنز کے 1,072 طلبہ کو پاکستان میں سرکاری شعبے کی یونیورسٹیوں سے انڈر گریجویشن، گریجویشن، ایم فل کے مختلف مضامین میں تعلیم جاری رکھنے کےلئے دیئے گئے ہیں۔ کامیاب طلبہ کے نام بینک کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں: http://nbp.com .pk/SLFiles/SuccessfulCandidates.pdf
اجلاسکی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سعید احمد نے کہا کہ حکومت پاکستان، اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کو چاہیے کہ وہ اسکیم کی رسائی بڑھانے کے لیے وقف فنڈ کے حجم میں اضافے کی کوششوں میں تیزی لائیں۔ علاوہ ازیں، شریک بینکوں کو بھی چاہیے کہ وہ اسکیم کے تحت مزید طلبہ کو سہولت دینے کے متعلق فنڈز کی دستیابی بڑھانے کے لیے پہلے جاری کیے گئے اسٹوڈنٹ لون کی بروقت بازیابی پر توجہ مرکوز کریں۔ ایپکس کمیٹی نے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی جس میں اسٹیٹ بینک اور رکن بینکوں کے ارکان شامل ہوں گے تا کہ وہ موجودہ اسٹوڈنٹ لون اسکیم کا دوبارہ جائزہ لیں اور اس میں بہتری کے لیے تجاویز دیں۔ ذیلی کمیٹی ایسے اقدامات متعارف کرائے اور فنڈنگ کے ذرائع کی نشاندہی کرے جن سے اسکیم کے وقف فنڈ میں اضافہ کیا جا سکے۔