ناقص حکومتی پالیسیوں کے باعث 10 کروڑ افراد فاقہ کشی پر مجبور ہیں: شاہد صدیقی

لاہور (کامرس رپورٹر) اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان میں تین سال کے دوران خوراک کی قیمتیں دوگنی کئے جانے کی نشاندہی پر انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی ناقص پالیسی کے باعث اس وقت پاکستان میں 10کروڑ افراد فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ انکو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں اور انکو جو غذا ملتی ہے وہ ناقص ہے۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے غیرضروری طور پر بڑے جاگیرداروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے گندم کی قیمت 950 روپے فی من مقرر کی۔ اسکے علاوہ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ لیا جو امریکی ایجنڈا تھا اور اسکے احکامات کی روشنی میں ٹیکسوں کی چوری، شاہانہ اخراجات اور کرپشن سے ہونیوالے نقصانات کو پورا کرنے کیلئے بجلی، گیس اور پٹرول کے نرخ بڑھائے اور جی ایس ٹی کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کردی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں غذائی قیمتوں میں کمی صرف اس وقت ہوسکتی ہے کہ 3 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدنی پر ٹیکس نافذ اور وصول کیا جائے۔ جی ایس ٹی کی شرح 5 فیصد تک رکھی جائے اور اشیاءصرف اورپٹرولیم پر جی ایس ٹی ختم کیا جائے اور پٹرول پر پٹرولیم لیوی کو واپس لیا جائے۔ ان اقدام سے غذائی افراط زر موجودہ 21 فیصد سے کم ہو کر 7 فیصد تک آسکتا ہے۔