سوئی ناردرن کا یکم جولائی سے گیس کی قیمت میں کمی کیخلاف اپیل کا فیصلہ

لاہور (سٹاف رپورٹر) سوئی ناردرن نے آئل اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے یکم جولائی سے گیس کی قیمت 5روپے 34پیسے کم کرنے کی سفارش کے خلاف رواں ہفتے اوگرا سے اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوئی ناردرن کو اس وقت 12ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے جسے پورا کرنے کی بجائے اوگرا نے سوئی ناردرن کو مزید 2ارب کے اخراجات کم کرنیکی ہدایت کی ہے۔ سوئی ناردرن کے چیف فنانشل آفیسر عامر طفیل کا کہنا ہے کہ 2008-09ءکے دوران اوگرا نے پونے چار ارب اور مارچ 2010ءتک 4ارب روپے کی پنلٹی کمپنی کو ڈالی ہے جو اعشاریہ 36فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئی ناردرن کے ٹوٹل گیس لاس کی بڑی وجہ لیکج‘ گیس چوری اور بروقت میٹر تبدیل نہ ہونا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک نیا یاری کنڈیشنڈ میٹر کم از کم دس سال بعد تبدیل ہونا چاہئے جبکہ اوگرا کہتی ہے کہ 16سال سے پہلے میٹر تبدیل نہ کیا جائے۔ دوسری طرف نوائے وقت سروے کے مطابق گزشتہ سال کی پنلٹی ساڑھے 4ارب کے مقابلے میں رواں سال کے پہلے 9ماہ میں ساڑھے 4ارب روپے بنتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جولائی تا مارچ 2009ءکے دوران 42ہزار ملین کیوبک فٹ گیس چوری ہوئی جو جولائی تا مارچ 2010ءمیں 46ہزار ملین کیوبک فٹ ہوچکی ہے جو کمپنی کی طرف سے ہر ماہ خریدی جانے والی گیس سے صرف 4ہزار ملین کیوبک فٹ کم ہے۔