آر جی ایس ٹی کی سیاسی قیمت ادا کی‘ چور دروازے سے منظور نہیں کرائینگے: حنا ربانی

اسلام آباد (لیڈی رپورٹر + مانیٹرنگ نیوز+ اے پی پی) وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ 30 ستمبر 2010ءتک ملک پر غیر ملکی قرض کی مالیت 53 ارب 77 کروڑ ڈالر تھی۔ آئی ایم ایف کا قرض 8.9 ارب ڈالر ہے جبکہ دیگر بیرونی قرض 44 ارب ڈالر ہے۔ تسنیم صدیقی کے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ 2008-09ءکے دوران بینکوں اور مالیاتی اداروں نے 74 ارب 38 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کے قرضے معاف کئے۔ سٹینڈرڈ چارٹر بینک کی طرف سے 16 ارب، دی رائل بینک آف سکاٹ لینڈ کی طرف سے 5 ارب 24 کروڑ، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کی طرف سے 12 ارب 51 کروڑ، حبیب بینک کی طرف سے 7 ارب 16 کروڑ، نب بینک کی طرف سے 4 ارب 87 کروڑ، الائیڈ بینک کی طرف سے 3 ارب 42 کروڑ، ایم سی بی کی طرف سے 3 ارب 62 کروڑ روپے سے زائد کے قرضے معاف کئے گئے۔ زرعی بنک نے 3 ارب 44 کروڑ، نیشنل بنک نے 3 ارب 18 کروڑ کا قرضہ معاف کیا۔ سال 2009-10ءکے دوران سٹیٹ بینک کی طرف سے ایک کھرب 53 ارب 75 کروڑ روپے کی نئی کرنسی چھاپی گئی جبکہ گذشتہ دو سال کے دوران شیڈول بینکوں نے صنعتوں کے قیام کیلئے ایک کھرب 18 ارب کے قرضے جاری کئے۔ وزیر انچارج وزیراعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ ملک کے چاروں صوبوں، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے سیلاب متاثرین میں 20 ہزار مالیت کے 12 لاکھ 52 ہزار 976 وطن کارڈز جاری کئے گئے۔ پنجاب میں 28 ڈسٹری بیوشن مراکز کے ذریعے 5 لاکھ 80 ہزار 469، سندھ میں 41 مراکز کے ذریعے 4 لاکھ 41 ہزار 95، خیبر پی کے میں 27 مراکز کے ذریعے ایک لاکھ 86 ہزار 133، بلوچستان میں 4 مراکز کے ذریعے 39 ہزار 86، آزادکشمیر میں 10 مراکز کے ذریعے 4 ہزار 168 اور گلگت بلتستان میں 7 مراکز کے ذریعے 2 ہزار 25 وطن کارڈز جاری کئے گئے۔ وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم نے بتایا کہ کمرشل اتاشیوں کی کارکردگی جانچنے کیلئے جلد کانفرنس بلائی جائے گی جس میں کاروباری طبقہ اور ان کو ایک ٹیبل پر بٹھایا جائے گا، جن کمرشل اتاشیوں کی کارکردگی تسلی بخش نہ ہوئی ان کو واپس بلا لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 2009-10ءکے دوران ٹیکسٹائل کی 10 ارب 84 کروڑ 74 لاکھ ڈالر کی برآمدات ہوئیں جبکہ رواں مالی سال کے دوران نومبر تک 4 ارب ایک کروڑ روپے سے زائد کا زرمبادلہ برآمدات سے حاصل ہوا۔ پاکستان نے افغانستان کو بھارت سے برآمدات کے لئے واہگہ بارڈر استعمال کرنے کی اجازت دی ہے تاہم اسے بھارت کی بنی اشیا درآمد کرنے کی اجازت نہیں۔ ندیم افضل گوندل، ریاض پیرزادہ، سردار ایاز صادق اور دیگر نے وقفہ سو الات کے دوران ایف بی آر میں کرپشن کے حوالے سے سوالات اٹھائے اور مطالبہ کیا کہ اس کے سدباب کیلئے واضح پالیسی اختیار کی جائے جس پر حنا ربانی کھر نے تجویز پیش کی کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ کی کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس کا جائزہ لے۔ انہوں نے کہا کہ 30 ستمبر تک پاکستان کے ذمہ واجب الادا غیر ملکی قرضوں کی رقم 53770 ملین ڈالر تھی۔ حنا ربانی کھر نے تجویز دی کہ ایف بی آر سمیت دیگر اداروں سے کرپشن کے خاتمے کیلئے پارلیمانی کمیٹی یا قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے جو ان امور کا جائزہ لے، آر جی ایس ٹی کو چور دروازے سے منظور نہیں کرائیں گے، قائمہ کمیٹی متفقہ طور پر اس میں جو تبدیلیاں چاہے کر سکتی ہے۔آر جی ایس ٹی پر حکومت نے سیاسی قیمت ادا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں کرپشن ہے‘ ری فنڈ میں بڑے فراڈ ہوئے ہیں۔ سوال کے جواب میں حنا ربانی نے بتایا کہ 3 لاکھ روپے سے کم آمدنی والے افراد پر ٹیکس لاگو نہیں۔ 528 ارب روپے کے کل ٹیکسز میں سے سرکاری ملازمین پر انکم ٹیکس 35 ارب روپے ہے۔ ملک میں ٹیکس جمع کرانے کی شرح بڑھانے پر مباحثہ قابل تعریف ہے۔ آر جی ایس ٹی میں سے قابل اعتراض باتیں نکالنے پر بھی کوئی جماعت تیار نہ ہو تو پھر ہم کیا کریں۔ صوبوں کی طرف سے زرعی ٹیکس کی آمدن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے اس اہم مسئلے کو ایوان میں زیر بحث لائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ صوبوں سے تمام تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔ حنا ربانی کھر نے قومی اسمبلی کو یقین دہانی کرائی کہ زرعی ترقیاتی بنک کے چیئرمین قومی اسمبلی اور سینٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی طرف سے طلب کئے جانے پر ضرور حاضر ہونگے جبکہ سپیکر نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ان کی شرکت یقینی بنائیں۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے بتایا کہ مساجد اور مدارس کو مفت بجلی دینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ چشمہ نیوکلیئر پاور پراجیکٹ کے دوسرے اور تیسرے مرحلے پر کام جاری ہے جو 2011ءاور 2016ءمیں مکمل ہونگے۔ وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت خورشید شاہ نے کہا کہ تمام وزراء ایوان میں موجود ہیں مگر سوالات کرنے والے ارکان موجود نہیں‘ ہم احتساب کے لئے حاضر ہیں مگر اپوزیشن بھی اپنا احتساب خود کرے۔