سونے کی قیمتوں میں گزشتہ چند سال کے دوران ہونے والے اضافے سے جہاں زیور پہننے والی خواتین متاثر ہوئی ہیں وہاں سونے کا کاروبار کرنے والوں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں ۔

سونے کی قیمتوں میں گزشتہ چند سال کے دوران ہونے والے اضافے سے جہاں زیور پہننے والی خواتین متاثر ہوئی ہیں وہاں سونے کا کاروبار کرنے والوں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں ۔

پوری دنیا میں سونے کے زیوارات عورتوں میں بے حد مقبول ہیں ۔ پاکستان میں سونے کے زیورات کے بغیر شادی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پچھلے چند سال میں سونے کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے سونا عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوتا جارہا ہے۔ پچھلے سال مارچ میں دس گرام سونے کی قیمت تیئیس ہزار آٹھ سو تہتر روپے تھی لیکن اس سال اس کی قیمت چوالیس ہزار کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے جہاں صارفین پریشان ہیں ، وہیں سونے کا کاروبار کرنے والے افراد بھی کاروبار نہ ہونے کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتیں بڑھنے سے گاہک اب مارکیٹ کا رخ نہیں کرتے اور مصنوعی زیور کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ جیولرز کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک اب سونے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ پاکستان میں سونا مہنگا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے پاکستانی کرنسی کی قیمت مسلسل گر رہی ہے    
سونے کی قیمتوں میں اضافے سے صرافہ بازاروں میں خریداری نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے جیولرز کا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا۔