’’ایک ہزار ارب روپے قرض لے کر ملکی معیشت بہتر نہیں بنائی جا سکتی‘‘

سیالکوٹ (نامہ نگار) ممبر فیڈرل بورڈ آف ریونیو شاہد حسین اسد نے کہا ہے کہ ایک ہزار ارب روپے کا قرض لے کر ملکی معیشت کو بہتر نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس سے ڈیتھ ٹریپ میں پھنستے جائیں گے۔ ہمیں باہر دیکھنے کی بجائے اپنے وسائل کو بڑھا کر اس میں زندہ رہنے کی عادت ڈالنے ہو گی۔ ان ملکی حالات میں ملک میں انڈسٹری چلانے والے جہاد کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹیکس بار ایسوسی ایشن سیالکوٹ اور پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن اکیڈمی آف ٹیکسیشن کے تعاون سے ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیف کمشنر سیالکوٹ ریجن عبدالرحمن ڈوگر، پاکستان ٹیکس بار کے صدر منور حسین شیخ، سابق صدور پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن عبدالقدیر، محمد نعیم، صدر ٹیکس بار ایسوسی سیالکوٹ آفتاب حسین ناگرہ، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سیالکوٹ کے صدر شاہد میر ایڈووکیٹ، سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے ملک نصیر احمد، ملک امان اللہ، سابق صدر ٹیکس بار اکرم رضا کے علاوہ پاکستان بھر کی ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ممبر ایف بی آر (آئی آئی پالیسی) شاہد حسین اسد نے کہا کہ پاکستان سیاسی طور پر 1947کو آزاد ہوا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم ابھی تک معاشی طور پر آزاد نہیں ہوئے بلکہ قرض لے کر اپنے چولہا چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیمینار میں شریک ممبران ٹیکس بار پر زور دیا کہ وہ قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے لوگوں کو ٹیکس دینے کا کہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا ہوا اور ملکی معیشت بہتر ہو۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس جی ڈی پی ریشو اچھی نہیں ہے اس کو بہتر بنانے کیلئے حکومت مختلف پالیسیوں پر عمل پیرا ہے کہ جس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس میں آپ کو بھی اپنا بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ سے سٹے آرڈر کے خاتمہ کے بعد تمام بنک اکاؤنٹ جو ٹیکس سیٹرن فائل نہیں کرتے ان کے اکاؤنٹ کی پڑتال کی جائے گی۔