قدرتی جھیلوں‘ دریائوں اور نہروں میں پانی کی کمی‘ کئی افراد کا کاروبار بری طرح متاثر

اسلام آباد (اے پی پی) قدرتی جھیلوں، دریائوں اور نہروں میں پانی کی کمی سے چٹائیاں، رسے، ٹوکریاں، مچھلی پکڑنے کے جال، کشتیاں اور گھریلو ڈیکوریشن کی مصنوعات تیار کرنے والے افراد کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ جھیلوں اور دریائوں کنارے آباد خاندانوں کا کاروبار جانوروں کے پروں اور پانی کنارے اگنے والے قدرتی پودوں سے وابستہ ہے جن کی مدد سے وہ  مختلف اشیاء تیار کر کے روزی روٹی کماتے ہیں جبکہ قدرتی جھیلوں اور آبی ذخائر سے دیگر خاندانوں کا روزگار بھی وابستہ ہے جن میں مچھیرے، جال اور کشتیاں بنانے والوں کے ساتھ ساتھ کسان بھی شامل ہیں۔ پانی کی گزر گاہوں، جھیلوں اور ذخائر میں تازہ پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے اکثر خشک ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے جہاں لوگوں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے وہاں ہی چٹائیوں، نوکریوں اور آرائشی مصنوعات سمیت دیگر مختلف مصنوعات کی قیمتیں بھی دن بدن بڑھ کر عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی جھیلوں اور آبی ذخائر کی بحالی کے اقدامات سے لوگوں کی بڑی تعداد کو بے روزگار ہونے  سے بچایا جا سکتا ہے جبکہ اس سے زیر زمین پانی کی سطح کی کمی کے مسائل کا بھی خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔