صوبے سی پیک روٹ پر زرعی زونز بنانے کیلئے فنڈز مختص کریں : ایف پی سی سی آئی

صوبے سی پیک روٹ پر زرعی زونز بنانے کیلئے فنڈز مختص کریں : ایف پی سی سی آئی

اسلام آباد (صباح نیوز) ایف پی سی سی آئی کی ریجنل کمیٹی برائے صنعت کے چئیرمین عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ دوست ملک چین سالانہ ایک سو گیارہ ارب ڈالر کی زرعی اشیاءدرامد کرتا ہے جس سے پاکستان بارہ ارب ڈالرسالانہ کما سکتا ہے۔ چین کی زرعی درامدات میں حصہ لینے کیلئے ملک بھر میں سی پیک کے روٹ کے ساتھ صنعتی بستیاں کے ساتھ زرعی زون بھی بنانے کی ضرورت ہے جن میں وہ اشیاءکاشت کی جائیں جنکی پڑوسی ملک میں مانگ ہے۔ تمام صوبے سی پیک کے روٹ کے ساتھ میں ایگرو زونز بنانے پر غور کریں اور اسکے لئے فنڈز مختص کریں جبکہ اس سلسلہ میں پنجاب سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ جن علاقوں میں زیر زمین پانی کم یا نمکین ہے وہاں چھوٹے ڈیموں کی مدد سے بارش کا پانی ذخیرہ کیا جائے جبکہ پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ رکھنے کیلئے کولڈ سٹوریج اور وئیر ہاﺅس بھی بنائے جائیں جبکہ معیاری بیجوں، کھاد اور کیڑے مار ادویات کا استعمال بھی یقینی بنایا جائے چین سویابین اور اسکی مصنوعات کی درامد پر سالانہ پچیس ارب ڈالر خرچ کرتا ہے جس سے پاکستان بھاری فائدہ اٹھا سکتا ہے جبکہ دوست ملک میں نماٹر، آلو، سٹربیری، زیتون، آم، امرود، ترش پھلوں، مونگ پھلی اورانگور کی بڑی مانگ ہے جسے ملک کے مختلف علاقوں میں کاشت کیا جا سکتا ہے ۔
جس سے چند سال میں برامدات بڑھ جائینگی۔انھوں نے کہا کہ زراعت کو جدید بنائے بغیر صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی ۔ تقسیم کے وقت پاکستان کی آبادی 32 ملین تھی جو اب 200 ملین تک پہنچ چکی ہے ۔وسائل کے اعتبار سے آبادی کا یہ تناسب خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے ملک کو صنعتی دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کے باوجود اس مقصد میں ابھی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو سکی۔چنانچہ نہ تو ہم مکمل زرعی ملک ر ہے ہیں اور نہ ہی صنعتی ملک بن سکے ہےں۔ پاکستان بننے کے بعد زراعت کا 55 فیصد جی ڈی پی میں حصہ تھا مگر صنعتی ملکوں کی دیکھا دیکھی ملک میں زراعت کا عمل دخل کم کر دیا گیاہے اور اب اس کا جی ڈی پی میں حصہ 21 فیصد ہے۔ انھوں نے کہا کہ پانی بھی مسلسل کم ہو رہا ہے اس لئے ہمارے زرعی سائنسدانوں کو چاہئے کہ وہ ایسے بیج متعارف کریں جو کم پانی استعمال کریں جبکہ کسانوں کو موسمی حالات اور آفتوں کے نقصان سے بچاو کیلئے زرعی انشورنس پالیسی کا موثر نظام بنایا جائے جبکہ بنکوں کو آسان شرائط قرضے دئیے کا پابند بنایا جائے تاکہ وہ کھاد اوربیج کی بلیک مارکیٹ سے بچ سکیں۔