وفاقی وزیرپانی وبجلی نے قومی اسمبلی میں اپنے تحریری جواب میںبتایا ہے کہ بھارت سے بجلی درآمد کرنے کےلیے ورکنگ گروپ تشکیل دیے دیا ہے۔

وفاقی وزیرپانی وبجلی نے قومی اسمبلی میں اپنے تحریری جواب میںبتایا  ہے کہ بھارت سے بجلی درآمد کرنے کےلیے  ورکنگ گروپ تشکیل دیے دیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیرپانی وبجلی سید نوید قمرنے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی کے جواب میں ایوان کوتحریری طورپربتایا کہ یکم جولائی دوہزارگیارہ کو ایک مراسلے کے ذریعے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا جواس بات کا جائزہ لے گا کہ بھارت سے پاکستان کوبجلی کی درآمد کیسے ممکن بنائی جائے۔ وزیر پانی وبجلی کا کہنا تھا کرغزستان اورتاجکستان سے ایک ہزارمیگا واٹ بجلی درآمد کرنے کی رپورٹ مکمل ہوگی ہے اورمنصوبے کی تکمیل دوہزارسولہ تک متوقع ہے۔ سید نوید قمر نے بتایا کہ ایران سے انتالیس میگا واٹ بجلی پہلے ہی درآمد کی جارہی ہے جبکہ سترمیگا واٹ مزید بجلی لینے کا امکان ہے۔ چین سے بجلی درآمد نہ کرنے کے سوال کے جواب میں نوید قمرکا کہناتھا کہ چین سے جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے بجلی درآمد کرنا ممکن نہیں تھا ۔انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ پانچ سالوں کےدوران بجلی کی قمیت میں دوسوستائیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔