کالا باغ ڈیم سے کسی کو نقصان نہیں‘ چمک اس کے راستے میں رکاوٹ ہے: ظہور ڈاہر

کالا باغ ڈیم سے کسی کو نقصان نہیں‘ چمک اس کے راستے میں رکاوٹ ہے: ظہور ڈاہر

ملتان (رخشندہ نیئر) سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان کے چیئرمین ورلڈ واٹر اسمبلی کے چیف کوارڈینیٹر حاظ ظہور الحسن ڈاہر نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کے حکمران قائداعظم کے بنائے گئے اصولوں اور طے شدہ منصوبے پر کاربند ہوتے تو آج پاکستان کا نقشہ ہی کچھ اور ہونا تھا لیکن افسوس ہمارے حکمران چمک کے پیچھے بھاگتے رہے اور اپنے وطن قوم و ملک کی ترقی کا سودا کرتے رہے یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی ایجنسیوں اور چمک کی یلغار نے کالا باغ ڈیم کو سیاسی مسئلہ بنا دیا حالانکہ یہ ایک خالص ٹیکنیکل پراجیکٹ اور پاکستان کی ترقی عوام کی خوشحالی‘ اور ملکی سلامتی کے لئے انتہائی سودمند تھا اور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے نامور آبی ماہرین نے یہ مہر ثبت کی ہے کہ کالا باغ ڈیم کسی صوبہ کسی شہر کسی فرد واحد کے لئے بھی نقصان کا باعث نہیں پھر اس کی راہ میں رکاوٹ صرف اور صرف چمک نظر آتی ہے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت 26 نمبر 2008ءکو کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ختم نہ کرتی تو بھارت یکم جنوری 2009ءو دریائے سندھ پر دنیا کا تیسرا بڑا ڈیم کی تعمیر ہرگز شروع نہ کرتا اب وہ جو کارگل ڈیم کے نام سے تعمیر کر رہا ہے تیموربارگو‘ چوٹک اور مکھار ڈیم کے گیٹس بھی وہ کسی صورت میں نہیں لگا سکتا تھا ماضی کی حکومتوں سے بھی بھارتی آبی جارحیت کا منصوبہ کسی طرح مخفی نہ تھا تمام حکومتوں نے کمیشن مافیا کی بھاری ڈیل اور اقتدار بچانے کی خاطر چپ کا روزہ رکھا یوں حزب اختلاف بھی غیر ملکی پالیسی کے زیراثر ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کی داخلہ اور خارجہ پالیسی تبدیل نہ ہوئی تو ہم اپنے دریا¶ں کا دفاع کسی صورت نہ کر سکیں گے۔