ایتھنول ای ٹن فیول پر سبسڈی کے باعث قومی خزانے پر اضافی بوجھ

اسلام آباد(آن لائن) حکومت کی جانب سے ملک میں پہلی مرتبہ متعارف کئے جانے والے ایتھنول ای ٹن فیول پرسبسڈی فراہم کرنے کے باعث ایندھن فروخت کا منصوبہ ناکام ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ۔ملکی شوگر ملز کی قائم کردہ 16ڈسٹلریز کی طرف سے فراہم کئے جانے والے ایتھنول پر حکومت کو سبسڈی دینا پڑ رہی ہے جس سے قومی خزانے پر اضافہ بوجھ پڑھنے کاامکان ہے۔وزارتِ پٹرولیم ذرائع کے مطابق اوگراکی جانب سے گنے کے مولاسز کے ذریعے حاصل کئے جانے والے ایتھنول کی قیمتوں کے تعین کا فارمولہ تا حال طہ نہیں کیا گیا ہے جبکہ فارمولے کی تشکیل میں حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سبسڈی کی شرح سمیت پٹرول میں شامل کئے جانے والے ایتھنول کی حتمی قیمت کا تعین بڑی روکاوٹیں ہیں۔ حکومت ایتھنول ای ٹن ایندھن عام پٹرول کی نسبت 2.44روپے فی لیٹر سستا فروخت کرنے کا اعلان کر چکی ہے جبکہ دوسری جانب فی لیٹر ایتھنول ایندھن پر 2.88روپے سبسڈی بھی فراہم کرنا پڑیگی اور اس سے قومی خزانے پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ذرائع نے اس ضمن میں بتایا کہ موجودہ معاشی بحران کے پیشِ نظر حکومت پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی مکمل طور پر ختم کر چکی ہے تاہم ایتھنول ای ٹن ایندھن پر سبسڈی فراہم کرنا حکومت کیلئے ایک اور چیلنج ہے ۔