حکومت گیس کی قیمتیں کم کرے‘ پبلک اکائونٹس کی سفارش‘ خفیہ فنڈز کی تفصیلات طلب

اسلام آباد (خبر نگار + ایجنسیاں) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ وہ گیس کی قیمتیں کم کرے‘ کمیٹی نے اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان سے وفاقی اداروں‘ وزارتوں کے لئے مختص خفیہ فنڈز کی تفصیلات مانگ لی ہیں‘ کمیٹی کے چیئرمین چودھری نثار نے کہا کہ گیس کمپنیاں اعداد و شمار کا چکر دے رہی ہیں‘ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے‘ اوگرا کو خودمختار ادارہ بنائے بغیر صارفین کا تحفظ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی ڈی کے سیکرٹ فنڈ کا کوئی جواز نہیں‘ انہوں نے سوئی گیس کے ملازمین کو مفت گیس کی فراہمی پر 54 کروڑ روپے ماہانہ اخراجات کرنے کا سخت نوٹس لیا اور اوگرا کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا عوام کو نچوڑا جا رہا ہے‘ سبسڈی‘ حادثات‘ گیس پائپ لائنیں‘ دھماکوں سے اڑانے کا نقصان عوام سے پورا نہ کیا جائے۔ گیس صارفین کی زائد بلنگ‘ قیمتوں میں اضافہ کی شکایات کے ازالہ کیلئے اوگرا کھلی کچہریاں منعقد کرے۔ انہوں نے کہا پی آئی ڈی کے سیکرٹ فنڈ کا کوئی جواز نہیں‘ کیا یہ ادارہ پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کی حفاظت کر رہا ہے‘ خفیہ فنڈز سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیلئے اختیار کردہ طریقہ کار کو مسترد کرتے ہوئے اوگرا، وزارت پٹرولیم اور گیس کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صارفین کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ وزارت پٹرولیم اور اوگرا پی اے سی کو ایک ورکنگ پیپر تیار کرکے دے جس کا تفصیلی جائزہ لے کر 2 ماہ بعد تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے طریقہ کار کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا جبکہ وزارت پٹرولیم کی طرف سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت نے گیس کی قیمتوں میں 121 فیصد اضافہ نہیں کیا، یکم جنوری سے قیمتوں میں صرف 6 فیصد اضافہ ہوا ہے، کھاد فیکٹریوں سمیت مختلف شعبوں کو دی جانے والی سبسڈیز کے حوالہ سے حکومت سے اپیل کی جائے گی کہ گیس کی قیمتوں پر دبائو کم کرنے کیلئے یہ بوجھ بجٹ اخراجات سے پورا کرے۔