کھادوں کے استعمال کے حوالے سے ایس ایم ایس کے ذریعے معلومات فراہم کرنے کا فیصلہ

لاہور (نیوز رپورٹر) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد انفارمیشن کیمونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے ذریعے 36 اضلاع سے وابستہ کسانوں کی رہنمائی کیلئے زمینی ساخت اور اس میں نامیاتی مادوں کی شرح سے ہم آہنگ موزوں ترین فرٹیلائزر ماڈل کو ضلع کی سطح پر کال سنٹر‘ انٹرنیٹ اور موبائل ایس ایم ایس سے وابستہ کیا جا رہا ہے تاکہ فصلوں کو ان کی ضرورت کے مطابق کھاد فراہم کر کے غیر ضروری کھادوں کے استعمال پر اُٹھنے والے اربوں روپے کی بچت کی جا سکے۔ اس حوالے سے وفاقی حکومت کے آئی سی ٹی فنڈ کی معاونت سے 3 کروڑ روپے کے میگا پراجیکٹ میں صوبائی حکومت کے شعبہ توسیع زراعت کو شامل کیا گیا تاکہ نچلی سطح پر ڈسٹرکٹ آفیسر زراعت کی عملی شرکت سے کھادوں کے متناسب استعمال اور پیداواری اضافے کے اہداف حاصل کئے جا سکیں۔ پراجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر رشید احمد نے بتایا کہ ان کی ٹیم اپریل میں صوبہ بھر کی زمینوں‘ فرٹیلائزر ڈیلرز‘ کسان تنظیموں اور طرز زراعت پر مشتمل معلومات فراہم کرے گی جس کیلئے ان کیلئے موزوں ماڈل تجویز کیا جائے گا۔