سٹاک مارکیٹ میں مندا جاری‘ سرمایہ کاروں کو مزید 35 ارب 24 کروڑ کا نقصان

کراچی + لاہور (این این آئی+ کامرس رپورٹر) کراچی سٹاک ایکس چینج میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز منگل کو بھی شدید مندا رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 10000 اور 9000 کی نفسیاتی حد سے بھی گرگیا۔ کاروبار کا آغاز 10پوائنٹس کے اضافے سے ہوا تاہم بعد ازاں کے ایس ای کے چیئرمین کے اعتراض کے بعد مجوزہ مارجن ٹریڈنگ سسٹم متنازعہ ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کو فنانسنگ کے نئے نظام متعارف ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں جبکہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے مجموعی قومی پیداوار اہداف کا حصول مشکل ہونے کی اطلاعات سے مقامی کمپنیوں، میوچل فنڈ اور دیگر آرگنائزیشن کی جانب سے پرافٹ ٹیکنگ کے باعث تیزی کے اثرات مندی میں بدل گئے۔ مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 133.88 پوائنٹس کمی سے 9892.32 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مجموعی طور پر 374 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 117 کمپنیوں کے حصص کے بھاﺅمیں اضافہ، 232 کمپنیوں کے حصص کے بھاﺅ میں کمی جبکہ 25 کمپنیوں کے حصص کے بھاﺅمیں استحکام رہا۔ سرمایہ کاری مالیت میں 35 ارب 23 کروڑ 94 لاکھ 6 ہزار 517 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ سرمایہ کی کل مالیت گھٹ کر 27کھرب 78 ارب 12 کروڑ 57 لاکھ 80ہزار 179 روپے ہوگئی۔ دریں اثناءلاہور سٹاک ایکسچینج میں بھی مندا رہا اور ایل ایس ای 25 انڈکس 64.47 پوائنٹس کی کمی سے مارکیٹ کے اختتام پر 3125.32 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مجموعی طور پر 103 کمپنیوں کا کاروبار ہوا 15 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ 43 کمپنیوں کے حصص میں کمی جبکہ 45 کمپنیوں کے حصص میں استحکام رہا۔