داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پانی کی کم آمد پر بھی زیادہ بجلی پیدا کریگا

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پانی کی کم آمد پر بھی زیادہ بجلی پیدا کریگا

لاہور (نیوز رپورٹر) واپڈا کے تکنیکی اور مالیاتی ماہرین پر مشتمل ٹیم نے ممبر (واٹر) شعیب اقبال اور ممبر (فنانس) انوارالحق کی سربراہی میں چین اور کوریا کا دورہ کیا اور تعمیراتی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں سے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر اور مالی انتظامات پر تبادلہ خیال کیا۔ واپسی پر ٹیم نے چیئرمین واپڈا ظفر محمود کی زیر صدارت واپڈا ہائوس میں منعقد ہ اجلاس میں اتھارٹی کو اپنے دورے کے نتائج سے آگاہ کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 4320 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ رن آف دی ریور منصوبہ ہونے کی وجہ سے پانی کی کم آمد کے دوران بھی زیادہ بجلی پیدا کرے گا کیونکہ تربیلا ، منگلا اور غازی بروتھا جیسے بڑے ہائیڈل پاور سٹیشنوںکے برعکس اِس منصوبے سے بجلی کی پیداوار ارسا کے انڈنٹ پر منحصر نہیں ہوگی ۔ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اِس وجہ سے بھی ایک منفرد منصوبہ ہے کہ اسے ایک نئے فنانسنگ ماڈل کے تحت تعمیر کیا جا رہا ہے، جس کا تجربہ اس سے پہلے پاکستان میں نہیں کیا گیا ۔اور یہی وجہ ہے کہ واپڈا اس منصوبے کو نہایت احتیاط کے ساتھ اور یقینی اقدامات کے تحت آگے بڑھا رہا ہے۔ 2160 میگا واٹ پیداواری صلاحیت پر مشتمل منصوبے کے پہلے مرحلے کی تعمیر کے لئے ورلڈ بنک اخراجات کا ایک حصہ براہِ راست قرض کی صورت میں فراہم کر رہا ہے جبکہ اخراجات کے جزوی حصے کا کمرشل مارکیٹ سے انتظام کرنے کے لئے گارنٹی بھی مہیا کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر پر مشتمل رقم کا بندوبست واپڈا نے کرنا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کے مین ورکس کے لئے پری کوالی فیکیشن نوٹس اگست 2014 ء میں مشتہر کیا گیا تھا ۔ تعمیراتی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو منصوبے کی جانب راغب کرنے کے لئے ورلڈ بنک نے واپڈا کو دو بین الاقوامی پری کوالی فیکیشن کانفرنس کے انعقاد کی تجویز دی تھی۔      پہلی کانفرنس اکتوبر2014 ء میں سنگا پور میں منعقد ہوئی۔ کم لاگت سے منصوبے کی اعلیٰ معیار کی تعمیر کو یقینی بنانے اور مسابقت کا دائرہ بڑھانے کے لئے    واپڈا ماہرین کی ٹیم نے دسمبر2014 ء میں ترکی کا دورہ کیا۔ اِس دورے کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے۔