رواں مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومتی قرضوں کا حجم چھ سو ارب روپے سے بھی تجاوزکرگیا۔

رواں مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومتی قرضوں کا حجم چھ سو ارب روپے سے بھی تجاوزکرگیا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق یکم جولائی سے اٹھائیس دسمبرتک وفاقی حکومت نے کمرشل بینکوں سے سات سو پینتالیس ارب چون کروڑ روپے کے قرضے لیے ہیں جب کہ انہی قرضوں سے اسٹیٹ بینک کو ایک سو تینتالیس ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔ صوبائی حکومتوں میں حکومت بلوچستان نے بھی مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک سے نو ارب اکسٹھ کروڑ روپے قرض لیا جب کہ سندھ حکومت بھی چھ ماہ کے دوران تین ارب انہتر کروڑ روپے کے اوور ڈرافٹ کے ساتھ اپنے صوبائی معاملات چلا رہی ہے۔ تونائی بحران اور امن و امان کی ناقص صورتحال کے باعث یکم جولائی سے اٹھائیس دسمبر تک نجی شعبے نے شرح سود میں کمی کے باوجود بنیکوں سے قرضے لینے میں محتاط رویہ اختیارکیا۔ رواں مالی سال کمرشل بینکوں نے تہترارب چون کروڑ روپے کے قرض لیے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ان قرضوں کا حجم ایک سو ترانوے ارب پچاس کروڑروپے تھا۔