درآمدات میں اضافے سے کمرشل امپورٹرز کا کاروبار ٹھپ ہو گیا

کراچی(کامرس رپورٹر)ملک میں وزارت خزانہ کے جاری کردہ ایس آر اوز اور ڈی ٹی آر ای (DTRE) کے تحت درآمدات میں بے تحاشہ اضافہ کی وجہ سے لاتعداد کمرشل امپورٹرز نے کاروبار بند کردیا ہے۔ واضح رہے کہ ان ایس آر اوز کے تحت پلاسٹک اور دیگر صنعتی خام مال کی درآمد پر صنعتوں کو چھوٹ دی گئی ہے جس کی وجہ سے لاتعداد صنعتوں نے اپنی پیداواری استعداد سے ایک ہزار سے 2ہزار فیصد زائد صنعتی خام مال درآمد کرنا شروع کردیا ہے اوریہ فاضل صنعتی خام مال مارکیٹ میں فروخت کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ڈیوٹی اورٹیکسز ادا کرکے خام مال درآمد کرنے والے کمرشل امپورٹرز کا مال ڈیوٹی اورٹیکسز کی وجہ سے مہنگاہونے سے کوئی خریدنے پر تیار نہیں واضح رہے کہ حکومت نے تعلیمی سامان‘ زراعت اوردیگرشعبوں کو بلا ڈیوٹی پلاسٹک اوردیگر صنعتی خام مال بلا ڈیوٹی اوربلاٹیکس درآمد کرنے کی اجازت دے رکھی ہے ۔ بعض اداروں نے محض اسکیل‘ پنسل تراش ا وردیگر سامان کی تیاری کیلئے ہزارہا ٹن سالانہ پلاسٹک درآمد کرنا شروع کردیا ہے۔ اسی طرح زرعی شعبہ میں فصلوں کو پنشن سے بچانے کیلئے جالیوں کی تیاری کے نام پر ان کی پیداوار سے 5گنا پلاسٹک درآمد کیاجارہا ہے۔ اس کے علاوہ ڈی ٹی آر ای کے تحت برآمدات کے نام پربلا ڈیوٹی اوربلاٹیکسز خوردنی تیل‘ قیمتی کیمیکلز درآمد کرکے بھاری محصولات چوری کئے جارہے ہیں۔سروے کے مطابق چند سال قبل کمرشل امپورٹر ضروریات کا 70سے90فیصد صنعتی خام مال درآمد کرتے تھے اب اس کی درآمد محض 10سے 20فیصد رہ گئی ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ان ایس آر اوز اور ڈی ٹی آر ای کے تحت درآمدات پرارب سے ڈیڑھ کھرب روپے تک ڈیوٹی اورٹیکسز چوری کئے جارہے ہیں۔