زائد مارک اپ کے باعث بنکنگ سیکٹر سے قرضوں کے رجحان میں کمی

زائد مارک اپ کے باعث بنکنگ سیکٹر سے قرضوں کے رجحان میں کمی

لاہور (کامرس رپورٹر) سٹیٹ بنک کی جانب سے مانیٹری پالیسی میں ڈسکاﺅنٹ ریٹ 1.5 فیصد کم کئے جانے کے باوجود بنکوں نے بنکنگ اسپریڈ کم نہیں کیا جس کے باعث رواں مالی سال کے 2 ماہ گزرنے کے باوجود نجی شعبے نے زائد مارک اپ کے باعث بنکنگ سیکٹر سے کوئی قرضہ نہیں لیا بلکہ 48 ارب 83 کروڑ 30 لاکھ روپے کے قرضے واپس کر دیئے۔ ملک میں اس وقت بنک اسپریڈ کی شرح 7.7 فیصد کے لگ بھگ ہے جب کہ 14 فیصد سے 16 فیصد مارک اپ پر قرضے دیئے جا رہے ہیں۔ کاروباری برادری نے کہا کہ کتنی زیادتی ہے کہ جب سٹیٹ بنک مانیٹری پالیسی سخت کرتا ہے تو بنک فوری طور پر مارک اپ بڑھا دیتے ہیں اور جب مانیٹری پالیسی نرم کرکے ڈسکاﺅنٹ ریٹ میں کمی کرتا ہے تو اس کا فائدہ بنک خود اٹھاتے ہیں نجی شعبے کو اس فائدے میں شامل نہیں کرتے۔ انہوں نے سٹیٹ بنک کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی۔