’’ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کیلئے بجلی کے ضیاع کو روکنا ہوگا ‘‘

لاہور(نیوزرپورٹر)پاکستان کو انرجی پیدا کرنے سے زیادہ بچانے کی ضرورت ہے پاکستان بجلی ضائع کرنے والے ممالک میں دنیا میں دوسرے نمبر پر شمار ہوتا ہے لوڈشیڈنگ ختم کرنی ہے تو عوام کو یہ شعور دینا ہوگا ان خیالات کا اظہار ESPIRE کے زیراہتمام انرجی بچت ورکشاپ میں ماہرین مارٹن سٹریلے جرمنی کمپنی کے پروجیکٹ کوارڈینٹر‘انرجی ماہر سلمان بٹ اور احمر بٹ نے کیا ۔ سلما ن بٹ نے کہا پاکستان میں روزانہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 24000 ہزار میگاواٹ ہے لیکن صرف 10 سے 12 ہزار میگاواٹ بناپاتے ہیں وجہ تیل گیس پیسے کی کمی ہے ۔ 2008 میں بجلی بچت پروجیکٹ شروع کیا 98 فیکٹریوں میں کرڑوں روپے کی بچٹ کروائی اس وقت ملک میں 20 سے 25 فیصد بجلی عوام ضائع کر دیتے ہیں جو المیہ ہے احمر بٹ پروجیکٹ مینجر سندھ نے کہا کہ تھوڑی سی کوشش سے گھروں اور دفاترمیں بلب سویچ اور ٹیوب لائٹ بند کرکے جبکہ اے سی 24 سے 26 ڈگری چلاکر اربوں روپے بچائے جا سکتے ہیں جرمن ماہر مارٹن سٹریلے نے کہا کہ وہ پاکستان میں بچلی بچت آگاہی مہم کے ذریعے لوگوں کو بتانا چاہیے ہیں کہ بجلی پیداکرنے کی بجائے بجلی بچانا کتنا ضروری ہے اس لوڈشیڈنگ کے طلب اور رسد کو انتہائی کم کیا جاسکتا ہے اس پہلے جرمن حکومت عالمی بینک دنیا بھر میں اس پروگرام کو متعارف کراچکا ہے انہوں نے کہا بجلی کا ضیاع چوری روکنا عوام کا بنیادی فرض ہے ماہرین نے زور دیا گھروں دکانوں دفاتر میں بجلی کے میعاری آلات لگا کر20 فیصد بجلی بچائی جاسکتی ہے ۔