سٹاک مارکیٹ میں دوسرے روز بھی مندا‘ سرمایہ کاروں کے 44 ارب روپے ڈوب گئے

سٹاک مارکیٹ میں دوسرے روز بھی مندا‘ سرمایہ کاروں کے 44 ارب روپے ڈوب گئے

کراچی+ لاہور+ (مارکیٹ رپورٹر+ کامرس رپورٹر) ملک میں ایک بار پھر سیاسی تناؤ بڑھنے کے خد شات کے باعث کراچی سٹاک ایکس چینج میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز منگل کو بھی مندا رہا اور کے ایس ای 100انڈیکس  33700اور 33600کی نفسیاتی حدوں سے گرگیا ۔ سرمایہ کاری مالیت میں44ارب 84کروڑ روپے سے زائد کی کمی ہوئی  ،تفصیلات کے مطابق حکومتی مالیاتی اداروں،مقامی بروکریج ہاؤسز اور دیگر انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے  توانائی ،سیمنٹ ،بینکنگ، پٹرولیم اور فرٹیلائزر  سیکٹر میں خریداری کے باعث کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای 100انڈیکس 33769 پوائنٹس کی بلند سطح پر بھی ریکارڈ کیا گیا تاہم فروخت کے دباؤ اور پرافٹ ٹیکنگ کے باعث تیزی کے اثرات زائل ہوگئے ۔سٹاک تجزیہ کاروں کے مطابق این اے 125 کے فیصلے کے بعد ملک میں سیاسی کشیدگی ایک بار پھر طول پکڑ جانے کے خدشات کے باعث حصص بازار کے سرمایہ کار ہچکچاہٹ کا شکارنظر آئے اور حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی ۔ مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 189.89پوائنٹس کمی  سے 33533.64پوائنٹس پر بند ہوا ۔ سرمایہ کاری مالیت میں44ارب 84کروڑ81 لاکھ 3 ہزار 48  روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی  جبکہ سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت گھٹ کر72کھرب 44 ارب 51کروڑ31لاکھ 52 ہزار126روپے ہوگئی ۔  دریں اثناء لاہور سٹاک ایکسچینج میں بھی مندے کارجحان رہا ، مجموعی طور پر73کمپنیوں کے حصص میں کاروبارہوا۔7کمپنیوں کے حصص میں اضافہ ہوا۔24 کمپنیوں کے حصص میں کمی جبکہ42کمپنیوں کے حصص میں استحکام رہا۔ ایل ایس ای25 انڈیکس8.53 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ5595.89 بندہوا۔ مارکیٹ میں کل4 لاکھ 90ہزار200 حصص کا کاروبار ہو ا۔