لوڈشیڈنگ کیخلاف ملک گیر احتجاج کیلئے اپٹما کا اجلاس 13 اکتوبر کو طلب

لاہور (کامرس رپورٹر) آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (آپٹما) نے سیکٹر کیلئے بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ہر شہر میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا تاہم اس بارے میں طریقہ کار طے کرنے کیلئے 13 اکتوبر کو جنرل باڈی اجلاس طلب کر لیا گیا۔ وزارت بجلی کی خاتون سیکرٹری یہ کہتی ہیں کہ انڈسٹری کو عید کے دنوں میں کام کرتے ہوئے شرم نہیں آتی، یہ اعلان آپٹما کے مرکزی چیئرمین ایس ایم تنویر اور سابق چیئرمین پنجاب شہزاد علی خان اور دیگر رہنماؤں نے گذشتہ روز آپٹما ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عید کے تین دنوں اور عید کے دس دنوں کے دوران بجلی اور گیس مکمل بند کرنے کا ظالمانہ فیصلہ کیا گیا جس سے ملوں میں ان دنوں کام کرنے والے کارکن تہرے اوور ٹائم اور عیدی سے محروم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ مہینوں کے دوران ٹیکسٹائل سیکٹر کی پیداوار میں تیس سے پچیس فیصد کمی آئی۔ اس کی وجہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ دس گھنٹے اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ سولہ گھنٹے ہوتا ہے۔لگتا ہے کہ پنجاب میں صنعتوں کا کوئی والی وارث نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریڈنگ کارپوریشن کی طرف سے ایک ملین گانٹھوں کی ٹی سی پی کی طرف سے خریداری سے نہ کسانوں اور نہ ہی ٹیکسٹائل کی صنعت کو فائدہ ہو گا۔ یہ فیصلہ غلط ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ، بھارت اور چین کی طرح پورے کسان کمیونٹی کو فائدہ پہنچانے کیلئے تمام فصل کی خریداری کرے۔ ٹی سی پی کی مداخلت اور اس کی طرف سے 14 میں سے ایک ملین کاٹن بیلز کو غیرفائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کرپشن کا کھاتہ کھل جائیگا۔