ایف بی آر مقررہ ہدف کے حصول میں ناکام‘ جولائی تا اکتوبر 365 ارب ہی حاصل کئے جا سکے‘ ٹیکس ڈیفالٹرز کیخلاف مہم چلائی جائیگی : شوکت ترین

اسلام آباد (ثناءنےوز ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) تا حال محصولات کا ہدف حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کر رہا ہے اور رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران378 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 365 ارب 50 کروڑ روپے کے محصولات وصول کر سکا ہے۔ ایف بی آرکے مطابق یکم جولائی سے31 اکتوبر تک ٹیکس وصولیوں کا ہدف3 سو 78 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔مگر مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران براہ راست ٹیکسوں کی مد میں 126 ارب روپے، سیلز ٹیکس کی مد میں 157 ارب 60 کروڑ روپے، فیڈرل ایکسائیزڈ ڈیوٹی کی مد میں 36 ارب40 کروڑ روپے وصول کئے گئے۔ جولائی سے اکتوبر2009کے دوران 45 ارب 60 کروڑ روپے کسٹم ڈیوٹی کی مد میں حاصل کئvے گئے۔ اس طرح مجموعی طور 3 سو 65 ارب 50 کروڑ روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا۔ اس طرح ایف بی آر پہلے چار ماہ کے دوران 13ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا کر رہا ہے اس سلسلے میں وزیر خزانہ شوکت ترین پہلے ہی ایف بی آر کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ایف بی آر نے محصولات کا ہدف بہت زیادہ مقرر کر دیا ہے جس کی وجہ سے اس کو اس وقت مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم انہوںنے کہا کہ اس شارٹ فال کو دور کرنے کے لئے ٹیکس ڈیفالٹرز کے خلاف بھرپور مہم چلائی جائے گی اور اس ضمن میں اراکین پارلیمنٹ کو بھی مستثنیٰ قرار نہیں دیا جائے گا اور جنوری سے یہ مہم چلائی جائے گی۔